موبائل فون‘ سٹیل مصنوعات مہنگی کرنیکی منظوری‘ بجلی کی قیمت بھی بڑھے گی

موبائل فون‘ سٹیل مصنوعات مہنگی کرنیکی منظوری‘ بجلی کی قیمت بھی بڑھے گی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سٹیل کی مختلف مصنوعات پر 5 سے 15 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی ہے جبکہ موبائل فون سیٹ پر 200 روپے فی سیٹ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جس سے مقامی مارکیٹ میں سٹیل کی مصنوعات اور موبائل سیٹ کی قیمتیں بڑھیں گی۔ ای سی سی کے فیصلوں کے مطابق بجلی کی قیمت مزید بڑھے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدارت میں ہوا۔ سٹیل کی جن مصنوعات کی درآمد پر 15 فیصد کے حساب سے ریگولیٹری ڈیوٹی لگائی گئی ان میں بیلٹس، سریا، بارز اور وائر راڈز شامل ہیں۔ 5 فیصد کے حساب سے جن سٹیل مصنوعات پر ڈیوٹی لگائی گئی ہے ان میں کولڈ رولڈ کوئیل اور گلوینائزڈ پلیٹڈ شیٹس شامل ہیں۔ ڈیوٹی لگانے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مقامی صنعت کو تحفظ دینا ضروری ہے۔ موبائل فون پر ڈیوٹی لگانے کا مقصد انڈر انوائسنگ کو روکنا ہے۔ ای سی سی نے قلیل المیعاد آئی پی پیز کے لئے پالیسی کی منظوری بھی دی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس سے سپریم کورٹ کے رینٹل پاور پراجیکٹس کے بارے میں فیصلہ کی خلاف ورزی نہیں ہو گی۔ اس سلسلہ میں آئندہ تین سال کیلئے شارٹ ٹرم آئی پی پیز کو 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کا استثنیٰ دیا گیا ہے۔ وزارت بجلی نے اجلاس میں بتایا کہ یہ نیا انتظام ”ٹیک اینڈ پے“ کی بنیاد پر ہو گا اور حکومت پاکستان کو گنجائش چارج یا کسی اور قسم کے چارجز نہیں دینا پڑیں گے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نارتھ سا¶تھ گیس پائپ لائن منصوبے کی منظوری دیدی۔ ای سی سی نے 3رینٹل پاور پلانٹس کو کام کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ پائپ لائن کے ذریعے ایک سے دو بی سی ایف ڈی گیس کراچی سے منصوبے کے وسط تک آ سکے گی۔ مذکورہ گیس پائپ لائن سے نہ صرف آر ایل ایل جی کی ترسیل میں سہولت ہو گی بلکہ یہ گیس لائن تاپی اور پاکستان ایران گیس کے منصوبے میں بھی مددگار ثابت ہو گی۔ اجلاس میں پاور سیکٹر کے لئے 25 بلین روپے کی ٹرم فنانس سہولت کیلئے ساورن گارنٹی فراہم کرنے کی منظوری دی گئی۔ ٹرم فنانس کی سہولت 5 سال کیلئے ہو گی۔ ای سی سی نے عائشہ گیس فیلڈ سے حاصل کردہ گیس ایس این جی سی کو دینے کی منظوری دیدی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ جولائی سے دسمبر کیلئے افراط زر (سی پی آئی) 6.08 فیصد رہا۔ ایس پی آئی 3.47 فیصد تھا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک کے اندم گندم کے 6.22 ملین ٹن کے سٹاک ہیں جو کافی ہیں۔ ایل این جی کی تقسیم کیلئے کراچی سے ملک کے دیگر علاقوں تک پائپ لائن بچھانے کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے شمال جنوب گیس پائپ لائن منصوبے کی منظوری بھی دی جس سے ملک کے مختلف حصوں کو 2 ارب مکعب فٹ گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 3 مختلف اقسام کے سرچارجز کو بجلی کی قیمت کا حصہ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل تینوں سرچارجز محدود مدت کے لئے لگائے گئے تھے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ڈیڑھ سے 2 روپے فی یونٹ سے زائد کے سرچارج بجلی کی قیمت کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ حکومت بجلی کے بلوں پر اس وقت 60 پیسے 30 پیسے 1.50 روپے فی یونٹ تک سرچارجز وصول کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے عدالتی معاملات سے بچنے کے لئے تینوں سرچارجز کو ٹیرف کا حصہ بنانے کی منظوری دی ہے۔ جس کے لئے کمیٹی نیپرا کو باقاعدہ درخواست دے گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے بجلی کے تمام ٹیکنیکل لاسز بھی عوام سے وصول کرنے کی تیاری کر لی ہے جس مقصد کے لئے ای سی سی نے نیپرا کو پالیسی گائیڈ لائن جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ پالیسی گائیڈ لائن کے تحت بجلی کے ٹیکنیکل لاسز کی سٹڈی کرائی جائے گی۔ سٹڈی میں جتنے بھی لاسز سامنے آئیں گے وہ عوام سے بجلی کی قیمت کی صورت میں وصول کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق نیپرا پہلے ہی سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں 18 فیصد کے ٹیکنیکل لاسز کو مسترد کر چکی ہے۔ نیپرا نے صرف 13 فیصد لاسز کو عوام سے وصول کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ وزارت خزانہ پورے 18 فیصد کے ٹیکنیکل لاسز عوام پر ڈالنے کے لئے بضد ہے۔ ان نئے اقدامات سے بجلی مزید مہنگی ہو گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈیڑھ سے 2 روپے فی یونٹ سے زائد کے سرچارج بجلی کی قیمت کا حصہ بن جائیں گے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بجلی کی ہر ڈسٹری بیوشن کمپنی کو یہ ہدایت کرنے کی بھی منظوری دی کہ لائن اور آپریشنل لاسز کو بھی بجلی کی قیمت (ٹیرف) میں شامل کیا جائے۔ اجلاس کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ ای سی سی نے نیپرا کیلئے بجلی کے ٹیرف کے تعین کی پالیسی گائیڈلائن کی منظوری دیدی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 2014-15ءکے لئے لائن اور آپریشنل نقصانات کو ٹیرف کا حصہ بنایا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ ای سی سی نے اس فیصلہ کے باعث بجلی کے بلز میں الگ ظاہر کئے جانے والے تین سرچارجز ٹیرف کا حصہ بن جائیں گے۔ خدشہ ہے بجلی کی مجموعی قیمت بڑھ جائے گی۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سے سوال بھی کیا گیا تھا جس کے جواب میں پرویز رشید نے کہا کہ بجلی کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ نیپرا کیلئے ٹیرف کے تعین کی پالیسی گائیڈلائن کی منظوری کا ذکر سرکاری پریس ریلیز میں نہیں کیا گیا۔ فنانس ڈویژن کی جانب سے اقتصادی اعشاریوں کا جائزہ پیش کیا گیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال 2014-15ءجولائی سے دسمبر تک سی پی آئی6.08 ، ڈبلیو پی آئی 2.13، ایس پی آئی3. 47 رہی، سی پی آئی کی بنیاد پردسمبر 2014 ءمیں افراط زر 4.3 فیصد رہا۔ پاکستان کو خطے کے دیگر ممالک بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے مقابلے میں کم افراط زر کا سامنا رہا۔ ملک میں گندم کا ذخیرہ 6 جنوری تک 62 لاکھ 20 ہزار ٹن جبکہ 23 دسمبر تک چینی کا ذخیرہ 10 لاکھ 80 ہزار ٹن رہا جو ملکی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ 18 دنوں کیلئے کافی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی