راولپنڈی دھماکہ‘ ٹائم ڈیوائس پندرہ گھنٹے پہلے نصب کی گئی‘ جاں بحق افراد سپردخاک

راولپنڈی دھماکہ‘ ٹائم ڈیوائس پندرہ گھنٹے پہلے نصب کی گئی‘ جاں بحق افراد سپردخاک

راولپنڈی (نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) راولپنڈی کے علاقے چٹیاں ہٹیاں میں واقع امام بارگاہ میں بم دھماکے میں جاں بحق افراد کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔کالعدم تحریک طالبان کے الاحرار گروپ نے ذمہ داری قبول کر لی ہے۔واقعہ کی تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق بم دھماکہ ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا جو 15 گھنٹے پہلے نصب کیا گیا تھا۔ 8 کلو وزنی بم امام بارگاہ کے سامنے گھر کے نالہ میں 5 گھنٹے قبل پلانٹ کیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق امام بارگاہ ابو محمد رضوی میں جمعہ کی رات ہونے والے بم دھماکے میں جاں بحق افراد کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔دھماکے میں جاں بحق 4 افراد کی نماز جنازہ لیاقت باغ میں ادا کی گئی اس موقع پر انتہائی رفت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ نماز جنازہ مجلس وحدت المسلمین کے رہنما علامہ راجہ ناصر کی اقتدا میں ادا کی گئی جبکہ نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شریک تھے۔تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے جماعت الاحرار دھڑے نے راولپنڈی کی امام بارگاہ پر ہونے والے بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ نے ای میل میں کہا ہم امام بارگاہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اس طرح کے حملے جاری رکھیں گے۔ دھماکے کا مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کر لیا گیا مقدمے میں قتل ، اقدام قتل، دھماکہ خیز مواد اور انسداد دہشتگردی ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں، انکوائری کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی جو 2 ہفتوں میں رپورٹ تیار کرے گی۔ دھماکے کی تحقیقات کیلئے ایس پی راول کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس میں حساس اداروں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔ مقدمے کی تفتیشی افسر انسپکٹر راجہ عبدالرشید کو مقرر کیا گیا ہے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم 14روز میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے امام بار گاہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لئے 5لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا ہے۔ موچھ سے نامہ نگار کے مطابق شہید ہونے والے ہیڈ کانسٹیبل امان اللہ خان نیازی کی میت اپنے آبائی گاﺅں موچھ پہنچی تو پورے علاقہ میں کہرام مچ گیا۔ مرحوم کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شہید کو پورے اعزاز کے ساتھ آبائی قبرستان مواز والہ (موچھ) میں اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔آئی این پی کے مطابق راولپنڈی میں امام بارگاہ دھماکے کے بعد پولیس نے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کرتے ہوئے 14 مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے ان سے تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس نے راولپنڈی میں پیر ودھائی سمیت متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ پکڑے جانے والوں میں بعض دہشت گردی کے مقدمات میں رہائی پانے والے بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق راولپنڈی کی امام بارگاہ میں محفل میلاد کے دوران دھماکہ ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا جو پندرہ گھنٹے پہلے نصب کیا گیا تھا۔ دھماکہ 9 جنوری کی رات 9 بج کر 22 منٹ پر ہوا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق آٹھ کلو وزنی بم امام بارگاہ کے سامنے گھر کے نالے میں 15 گھنٹے قبل پلانٹ کیا گیا تھا۔ وہ بم جو 9 جنوری کی رات 9 بج کر 22 منٹ پر پھٹا جمعہ کی صبح 6 بجے کے قریب نصب کیا گیا تھا۔ اس ٹائم ڈیوائس بم میں بارود کے ساتھ بال بیرنگ بھی استعمال ہوئے۔ پولیس نے سرچ آپریشن کے دوران شک کی بنیاد پر کالعدم تنظیموں کے چار افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ آن لائن کے مطابق شیعہ علماءکونسل پاکستا ن نے سانحہ راولپنڈی کے خلاف آج ملک گیر یوم احتجاج منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مدارس کے خلاف دہشت گردی پھیلانے کی شکایت ہے ان کے نام بتائے جائیں۔ دہشتگردی کے خاتمے کے ہر اقدام کیلئے حکومت کا ساتھ دینگے جبکہ علامہ عارف حسین واحدی نے کہا ہے کہ ہم نے ہمیشہ اتحاد و وحدت کا درس دیا ہے۔ حکومت امن پسندوںاور دہشت گردوںکے درمیان واضح فرق کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ علامہ قاسم جعفری، زاہد علی اخونزادہ سمیت دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
سپرد خاک