دھند برقرار‘ حادثات میں سات افراد جاں بحق لاہور میں گیس بندش پر مظاہرے

دھند برقرار‘ حادثات میں سات افراد جاں بحق لاہور میں گیس بندش پر مظاہرے

لاہور (نیوز رپورٹر+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقے گذشتہ روز بھی دھند کی لپیٹ میں رہے جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر رہے۔ دھند کے باعث ٹریفک حادثات میں 7 افراد جاں بحق جبکہ 28 زخمی ہو گئے۔ دھند کے باعث ٹرینیں تاخیر کا شکار ہوئیں جبکہ کئی پروازیں بھی متاثر ہوئیں۔ بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ بھی جاری رہی اور شہروں اور دیہات میں گذشتہ روز بھی 12 سے 20گھنٹے تک بجلی بند رہی جس پر لوگ سراپا احتجاج بنے رہے۔ لاہور سمیت کئی شہروں میں گیس کی بندش بھی برقرار رہی جس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ لاہور میں گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا جن پر کئی مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔ سردی کی شدت میں اضافے کے باعث پائپ لائنوں میں گیس جمنے کی شرح بڑھنے سے پریشر تقریبا مکمل ہی ختم ہو گیا ۔ لاہور کے علاقوں اقبال ٹاﺅن گلشن بلاک ،ہربنس پورہ، صحافی کالونی ،پنج محل روڈ ،جوہر ٹاﺅن ،سمن آباد ،گڑھ شاہو، مصری شاہ ،یتیم خانہ،مغل پورہ ، غازی آباد، ملتان روڈ ،گلشن راوی ،شاہدرہ سمیت دیگرعلاقوںمیں لوگ گیس کی بندش کے خلاف سراپا احتجاج بنے رہے ۔ گیس نہ ہونے کے باعث گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہی رہے لوگوں نے گورو مانگٹ میں لاہور ریجن کے سامنے اقبال ٹاﺅن گلشن بلاک، گلشن راوی اور صدر کے صارفین گیس کی مسلسل بندش کے خلاف شدید احتجاج کیا لوگوں نے ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کر دیں اور حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ ٹاﺅن شپ میں بھی لوگوں نے برتن اٹھا کے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ علاوہ ازیں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی عدم توجہ کے باعث ملک گیر کریک ڈاﺅن کے تیسرے روز بھی سسٹم پوری طرح بحال نہیں ہو سکا۔ گذشتہ روز بھی ملک بھر میں بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا ۔ ٹیکسٹائل اور فرنس سمیت تمام انڈسٹریز کو مسلسل تیسرے دن بھی بجلی کی فراہمی مکمل بند رہی ۔ لاہور میں 12 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ رہی ، بجلی کی مسلسل بندش کے باعث واسا کے ٹیوب ویل بھی بند رہے جس کی وجہ سے شہریوں کو پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر رہی۔ لاہور کے13گرڈ سٹیشن گذشتہ روز بھی بند رہے۔ بھیرہ سے نامہ نگار کے مطابق درجنوں خواتین اور بچوں نے گیس بندش کے خلاف سوئی گیس دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے برتن اٹھا رکھے تھے۔ علاوہ ازیں پنجاب کے مختلف علاقے گذشتہ روز بھی شدید دھند کی لپیٹ میں رہے۔ دھند کے باعث ملتان ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول معطل ہو گیا۔ جدہ سے ملتان آنے والی پرواز کو لاہو ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا۔ دھند کے باعث ٹرینیں بھی تاخیر کا شکار رہیں۔ جہانیاں سمیت کئی مقامات پر حد نگاہ صفر ہو گئی جس کے باعث ہائی ویز گاڑیاں رینگنے لگیں۔ شیخوپورہ میں مانانوالہ کے قریب مسافر بس کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار دو افراد جاں بحق ہو گئے۔ فیصل آباد روڈ پر کچی کوٹھی کے قریب ٹریکٹر ٹرالی نہر میں گر گئی جس کے باعث 20 افراد زخمی ہو گئے۔ راولپنڈی میں تلہ گنگ روڈ پر دو گاڑیوں میں حادثہ کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 8 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ روز سب سے کم درجہ حرارت سکردو میں منفی دس ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے میدانی علاقوں میں جاری دھند کی شدت آج (اتوار) سے کمی آنے کا امکان ہے تاہم ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا۔ گگو منڈی سے نامہ نگار کے مطابق دھند کی وجہ سے ٹریکٹر اور ڈالے میں تصادم سے ایک شخص جاں بحق جبکہ 2 زخمی ہو گئے۔ سمبڑیال کے نامہ نگار کے مطابق گیس کی بدترین بندش کے خلاف سینکڑوں خواتین نے روڈ بلاک کر کے 2 گھنٹے تک احتجاج کیا۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق ننکانہ صاحب اور گردونواح میں بجلی کی بدترین اور غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جبکہ گیس کی بندش شدت اختیار کر گئی۔ شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 جبکہ دیہتا میں 20گھنٹے سے تجاوز کر جانے کے باعث گھروں میں پانی تک نایاب ہو گیا ہے۔
گیس مظاہرے