این اے 122: ایاز صادق کے ووٹ بڑھ گئے‘ تحریک انصاف کی شرائط پر جوڈیشل کمشن نہیں بنا سکتے : پرویز رشید : وزیر اطلاعات ابہام پیدا کر رہے ہیں آڈٹ میں تیس ہزار سے زائد جعلی ووٹ نکلے تھے : پی ٹی آئی

این اے 122: ایاز صادق کے ووٹ بڑھ گئے‘ تحریک انصاف کی شرائط پر جوڈیشل کمشن نہیں بنا سکتے : پرویز رشید : وزیر اطلاعات ابہام پیدا کر رہے ہیں آڈٹ میں تیس ہزار سے زائد جعلی ووٹ نکلے تھے : پی ٹی آئی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ حلقہ این اے 122 کے حوالے سے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی طرف سے لگائے گئے دھاندلی کے الزامات غلط ثابت ہوئے ہیں‘ لوکل کمیشن کی طرف سے الیکشن ٹربیونل کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کے ووٹ پہلے سے کم ہوگئے ہیں جبکہ سردار ایاز صادق کے ووٹوں کی تعداد پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ عمران خان نے بجلی کا بل جمع کرادیا ہے اب ٹربیونل کا فیصلہ بھی تسلیم کرلیں‘ سیاست کے لئے بڑا وقت ہے 2017ءمیں ہماری کارکردگی پر تنقید کی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز اور انوشہ رحمان بھی ان کے ساتھ تھے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے لوکل کمشن کی جانب سے حلقہ این اے 122 سے متعلق کی گئی تحقیقات پر مشتمل رپورٹس کے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ماضی میں جھوٹ بول کر پوری قوم کو اذیت میں مبتلا کیا گیا۔ آج جھوٹ انجام کو پہنچ چکا ہے۔ کمشن کی رپورٹ کے مطابق ایاز صادق کے ووٹ بڑھے ہیں، عمران خان نے زیادہ مارجن سے شکست کھائی۔ وہ دوبارہ گنتی کے بارے میں فیصلہ قبول کر لیں۔ وہ دوبارہ گنتی کے نتائج مان لیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا سانحہ پشاور کے چہلم تک کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا تھا، معصوم بچوں سے ہمیں محروم کیا گیا، الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کا سب سے زیادہ انتظار مسلم لیگ ن کو تھا، ہمیں اپنی سچائی پر 100فیصد یقین تھا۔ جھوٹ بولنے والوں کا انجام اپنے انجام تک پہنچ گیا ہے۔ تین حلقوں کا نتیجہ پہلے اور چوتھے کا نتیجہ اب نکلا ہے۔ چوتھا حلقہ کھلنے میں کچھ دیر ہوئی ہے۔ عمران خان نے جو الزام کنٹینر پر لگائے ان کا پٹیشن میں ذکر نہیں تھا۔ عمران نے اپنی پٹیشن میں ووٹوں کی گنتی کا کہا گنتی کے دوران عمران اور ایاز صادق کے نمائندے موجود تھے۔ دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی کے مطابق ووٹوں کی گنتی ہوئی۔ گنتی کے بعد عمران خان انتخاب ہار گئے اور ایاز صادق پہلے سے زیادہ ووٹوں سے جیت گئے۔ جج کاظم ملک پر عمران نے اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ عمران خان اب برائے مہربانی یہ فیصلہ تسلیم کرلیں۔ اب انتخابات کے آخری سال کے دوران سیاست کریں۔ کل عمران نے اپنا بجلی کا بل ادا کرکے اچھا کام کیا۔ عمران بجلی کی قلت جیسے مسائل پر سیاست کریں۔ رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز نے کہا ہے کہ مسترد کئے جانے والے ووٹ زیادہ تر عمران کے نکلے، چاروں حلقوں کے تمام بیگز موجود ہیں۔ کنٹینر پر لگائے جانے والے الزامات کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ پی ٹی آئی کو اپنی غلط بیانیوں کا قوم کو حساب دینا پڑے گا، آہستہ آہستہ پی ٹی آئی کے سارے پول کھل رہے ہیں۔ عمران وزیراعظم سے معذرت کریں۔ مسلم لیگ ن میڈیا ٹرائل کے ذریعے الزامات کی اجازت نہیں دے گی۔ پرویز رشید نے کہا عوام اب تک سانحہ پشاور کے غم میں مبتلا ہیں۔ سانحہ پشاور کے چہلم تک کوئی سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہم چاہتے ہیں کہ سانحہ پشاور کو اپنی طاقت میں تبدیل کریں، قومی لائحہ عمل پاکستان کو پُرامن بنانے میں کردار ادا کرے گا، کچھ لوگوں نے جھوٹ بول کر عوام کو اذیت میں مبتلا رکھا۔ آئین میں 21ویں ترمیم پاکستان کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کریگی۔ جس بیلٹ پیپر کے پیچھے پریذائڈنگ افسر کے دستخط نہ ہوں وہ شمار نہیں کیا جائے گا۔ جن چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ ہوا وہ کھلے ہوئے تھے، کبھی بند نہیں ہوئے۔ تین حلقوں کا نتیجہ پہلے ہی نکل چکا چوتھے کا اب نکلا ہے۔ کسی کے کہنے پر ووٹ کو صحیح یا غلط نہیں مانا جاتا۔ این اے 122 میں جتنے ووٹ اب شمار کئے گئے انہیں عمران اور ایاز صادق دونوں کے نمائندوں نے درست تسلیم کیا ہے، جو الزام کنٹینر پر لگائے جاتے ہیں ان کا پٹیشن میں ذکر نہیں کیا جاتا۔ اے پی سی میں دہشت گردی کے خاتمے پر مکمل اتفاق رائے ہوا تھا۔ عدالتیں اور الیکشن کمشن اپنے قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ چاہتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کیخلاف متحد ہیں۔ پاکستان اس وقت انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ انتخابات 2013ءکے شفاف ہونے کا یقین ہے۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان اور دانیال عزیز نے انتخابی حلقوںکی تحقیقات کے بارے میں حقائق سے آگاہ کیا اور اس حوالے سے اہم دستاویز میڈیا میں تقسیم کیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ سانحہ پشاور کے شہداءکے چہلم کے موقع پر قومی عزم کا اعادہ ہو گا کہ پاکستانی قوم شہداءکو بھولی نہیں، سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے سانحہ پشاور میں ملوث دشمنوں کے پیچھے ہیں انکا تعاقب ہو رہا ہے انہیں ختم کر کے دم لیں گے، ملک انتہائی نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج سے نبردآزما ہیں، تمام تجاویز اتفاق رائے سے منظور کی گئی، کبھی ایسا نہیں ہوا، آئین میں ترمیم پاکستان کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ اب چاروں حلقے کھل گئے ہیں عمران خان کا لگایا گیا الزام درست ثابت نہیں ہوا مقامی کمشن نے رپورٹ انتخابی ٹریبونل کو بھجوا دی ہے اور یہ کمشن دو ججز پر مشتمل تھا ٹرم آف ریفرنس کے تحت یہ گنتی ہوئی ہے کچھ لوگوں نے جھوٹ بول کر عوام کو اذیت میں مبتلا کیا،کسی کے کہنے پر ووٹ کو صحیح یا غلط نہیں قرار دیا جا سکتا۔ عمران خان کے نمائندے کی موجودگی میں گنتی ہوئی، دونوں فریقوں نے ہر گنے گئے ووٹ کو درست قرار دیا، عمران خان کے نمائندے کو وہاں دوسرے رنگ کا بیلٹ پیپر نظر آیا نہ انہیں نے وہاں کوئی ایسی بات کی۔ عمران خان جو الزامات کنٹینرز پر لگاتے ہیں انکی مذاکرات کی میز پر گفتگو کوئی اور ہوتی ہے۔ یہ متعین ہو چکا ہے کہ دہشت گردی کس کو کہتے ہیں، دہشت گردوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ عمران دوسرے ایشوز پر سیاست 2016ئ، 2017ءاور 2018ءمیں بھی کر سکتے ہیں، بجلی کے معاملات اور دہشت گردی کے حوالے سے حکومتی کارکردگی پر بات کر سکتے ہیں، شہید بچوں کا چہلم قریب آ رہا ہے، قوم اس سانحہ کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ دانیال عزیز نے بتایا کہ NA-122کی گنتی کے لئے قواعد و ضوابط فریقین کے اتفاق رائے سے پندرہ نکات پر مشتمل تھے۔ تمام پیمانوں کو پورا کیا گیا اور گنتی کے حوالے سے بیانیہ تیار لیا گیا چاروں حلقے کھلے ہیں۔ عمران خان نے جو ڈرامہ رچایا تھا وہ ناکام ہو گیا ہے مسترد کئے جانے والے زیادہ ووٹ عمران خان کے ہیں۔ تیس ہزار جعلی ووٹوں کا دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے۔ عمران خان کو غلط بیانی کا قوم کو حساب دینا پڑے گا۔ انہوں نے عدالت، پارلیمنٹ، الیکشن کمشن، سیاسی جماعتوں کو اپنے جھوٹ کے جال میں پھنسانے کی کوشش کی اس سارے کا انہیں قوم کو جواب دینا پڑے گا۔ عمران خان میں اخلاقی جرا¿ت ہے تو وہ وزیراعظم نوازشریف سے معافی مانگیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ NA-122کی گنتی کے دوران عمران کے نمائندے شعیب کو ایسا بیلٹ پیپر نظر نہیں آیا تھا جسکا دوسرا رنگ ہو ہم سیاسی باتوں کا جواب سیاست کے انداز میں دینا چاہتے ہیں۔ مزید براں نیشن رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ ہم الیکشن دھاندلی کی تحقیقات کیلئے تحریک انصاف کی شرائط پر جوڈیشل کمشن کی تشکیل کیلئے درخواست نہیں دے سکتے جبکہ 4 حلقے کھولنے کا ان کا مطالبہ پہلے ہی تسلیم کیا جا چکا ہے۔
لاہور (خبر نگار/ اپنے نامہ نگار سے) پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری نے حکومت اور خصوصاً وزیر اطلاعات کے بیان کو دروغ گوئی قرار دیتے ہوئے اس پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ردعمل میں انہوں نے کہا کہ پرویز رشید قوم کو گمراہ کرنے کا سلسلہ بند کریں۔ پرویز رشید جانتے ہیں کہ این اے 122 میں ووٹوں کی گنتی کا نہیں بلکہ نتائج کی جانچ پڑتال کا حکم دیا گیا ہے۔ این اے 122 میں ہونے والے آڈٹ میں اب تک 30 ہزار سے زائد جعلی ووٹ برآمد ہو چکے، 100 سے زائد پولنگ سٹیشنز میں فارم 14 اور 15 دستیاب نہیں۔ این اے 122 میں ہونے والے آڈٹ میں اب تک ایک ہی سیریل نمبر کے حامل ڈپلیکیٹ بیلٹ پیپر ایک ہی پولنگ سٹیشن کے حوالے سے مختلف نتائج کے حامل فارم 14 اور 15 برآمد ہوئے۔ این اے 122 میں اب تک سامنے آنے والی بے ضابطگیوں میں ریٹرننگ افسروں کا کردار سامنے آیا ہے۔ حلقہ 122 کی رپورٹ کا منظر عام پر آنے کا انتظار کیا جانا چاہئے۔ پرویز رشید انتخابات کی شفافیت کے مکمل طور پر قائل ہیں تو حکومت دھاندلی کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمشن کے قیام سے کیوں خوفزدہ ہے۔ حکومتی پراپیگنڈا بارآور ثابت نہیں ہو گا کیونکہ تحریک انصاف دھاندلی کے خلاف عوامی شعور بیدار کر چکی ہے۔ 100 سے زائد پولنگ سٹیشنز میں فارم 14 اور 15 موجود ہی نہ تھا۔ پرویز رشید جان بوجھ کر کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔ این اے 122 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی نہیں، نتائج کی جانچ پڑتال کی گئی۔ تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ تعجب ہے پرویز رشید کو سیل رپورٹ کہاں سے مل گئی۔ حلقہ 122 کے کمشن کی رپورٹ تو پیر کو کھولی جانی ہے۔ رپورٹ آنے پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ پرویز رشید کا ایاز صادق کی کامیابی کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے۔ وزیر اطلاعات ایاز صادق کے جعلی ووٹوں کا ذکر کرنا بھول گئے۔ وزیر اطلاعات ایاز صادق کو 30 ہزار ووٹوں سے جتوانا چاہتے ہیں۔ تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز چودھری نے کہا ہے کہ اگر ایاز صادق ہی جیتے ہیں تو عمران خان نے این اے 122 میں دوبارہ گنتی کی نہیں بلکہ آڈٹ کی درخواست دائر کی تھی، پرویز رشید پہلے یہ تو معلوم کر لیتے کہ درخواست کیا تھی، یہ کیسے وزیر اطلاعات ہیں جن کی انفارمیشن ہی غلط ہے۔ پرویز رشید حوصلہ رکھیں دودھ اور پانی الگ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ دریں اثناءحلقہ این اے 122 میں انتخابی جانچ پڑتال مکمل کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ 40 صفحات پر مشتمل ہے، رپورٹ میں انتخابی یکارڈ مرتب کرنے میں اہلکاروں کی لاپرواہی بتائی گئی ہے۔ کمشن کے جج ملک غلام حسین نے رپورٹ جاری کی ہے۔ حلقہ این اے 122 میں دھاندلی ہوئی یا نہیں اس کا فیصلہ الیکشن ٹربیونل کا جج کرے گا۔ اس حلقہ کے حوالے سے 284 پولنگ سٹیشن کے ووٹوں کو چیک کیا گیا، یہ رپورٹ الیکشن کمشن نے الیکشن ٹربیونل میں جمع کرائی۔ حلقہ این اے 122 کے دونوں امیدواروں سردار ایاز صادق اور عمران خان کے نمائندگان کے سامنے ووٹوں کی جانچ پڑتال کی گئی۔ دونوں طرف سے اپنی اپنی کامیابی کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ این اے 122 کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی رپورٹ الیکشن ٹربیونل میں جمع کرا دی گئی ہے۔ جج تحقیقاتی کمشن ملک غلام حسین اعوان نے کہا ہے کہ ٹربیونل رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد 12 جنوری کو ریکارڈ سے متعلق فیصلہ سنائے گا۔ دریں اثناءالیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 125کے گمشدہ بیگ ملنے کے بعد ووٹوں کی تصدیق کا حکم دیدیا ہے۔ تحریک انصاف کے حامد خان کی درخواست پر الیکشن ٹربیونل نے حکم دیاکہ دونوں بیگ میں موجود بیلٹ پیپرز کے انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے لئے نادرا کو بھجوائے جائیں۔ نادرا پولنگ سٹیشن نمبر 111اور 120کے دو بیگز کے ووٹوں کی تصدیق کرے اور ایک ہفتے میں رپورٹ جمع کرائے۔ واضح رہے کہ خواجہ سعد رفیق کی کامیابی حامد خان نے چیلنج کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام لگایا تھا اور تصدیق کے دوران دو بیگوں کے گمشدہ ہونے کا انکشاف ہوا تھا جو بعد میں مل گئے تھے۔ نجی ٹی وی کے دعویٰ کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ این اے 122 کے چار پولنگ سٹیشنز کے ریکارڈ کی سیل ٹوٹی ہوئی پائی گئی حلقے کا ریکارڈ مرتب کرنے میں سرکاری عملے نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا، حلقہ میں 25 ہزار بیلٹ پیپرز ایسے ہیں جن پر نام اور شناختی کارڈ نمبر درج ہے لیکن کاﺅنٹر فائل پر دستخط ہیں نہ ہی مہر لگی۔
پی ٹی آئی/ ردعمل