کالعدم تحریک طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی گرفتاری کی متضاد اطلاعات، سرکاری ذرائع سے تصدیق نہ ہوسکی

کالعدم تحریک طالبان کے امیر ملا فضل اللہ کی گرفتاری کی  متضاد اطلاعات، سرکاری ذرائع سے  تصدیق نہ ہوسکی

دیربالا(آن لائن)  کالعدم تحریک طالبان کے  امیر  ملا فضل اللہ کی پاکستانی سرحد کے اندر آنے  اور دوسرے روز افغان  سرحدی علاقوں   لوئر اور  اپر دیر   میں   انکی گرفتاری کی  متضاد اطلاعات گردش کرتی رہیں۔ تاہم کسی بھی سرکاری ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہ ہوسکی۔ ذرائع کے مطابق  تحریک طالبان کے مرکزی  امیر منتخب ہونے کے بعد  13نومبر کو  ملا فضل اللہ  کی  سربراہی میں  افغان  صوبہ کنڑ میں 150کے قریب انکا  اہم ساتھیوں کے  ساتھ مشاورتی  اجلاس  منعقد ہوا تھا جس میں کنڑ سے شمالی وزیر ستان منتقل ہونے یا  نہ ہونے  کے بارے میں فیصلہ کرنا تھا ۔ ذرائع کے مطابق مشاورتی اجلاس میں انہیں شمالی  وزیرستان نہ جانے کا مشورہ دیا گیا تھا کیونکہ شمالی وزیرستان جانے میں رسک موجود تھا۔   اتوار  اور پیر کی  درمیانی شپ ملا فضل اللہ کے   اپنے 20 کے قر یب ساتھیوں کے ہمراہ پاکستانی  سرحدی علاقوں مسکینی درہ اور براول میں آنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں  اور خیال کیا جارہا تھا کہ وہ باجوڑ جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ تاہم  منگل  کو  علی الصبح سے مولانا فضل اللہ کی پاک فوج کے ہاتھوں  گرفتاری کی متضاد اطلاعات گردش کرتی  رہیں۔