چیئرمین نادرا پی پی کے رہنما، تقرری غیر آئینی ہے، حکومت کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + نیوز ایجنسیاں) چیئرمین نادرا کی برطرفی پر وفاق نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ طارق ملک کی تقرری قواعد کے خلاف ہے، طارق ملک پی پی کے رہنما ہیں، طارق ملک کو آسامی مشتہر کئے بغیر مقرر کیا گیا۔ طارق ملک کوکنٹریکٹ پر رکھا گیا جو ایک ماہ کے نوٹس پر منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ کنٹریکٹ میں دونوں فریقین کو ایک ماہ کے نوٹس پر کنٹریکٹ منسوخی کا اختیار دیا گیا۔ طارق ملک کو برطرفی خط کے ساتھ ایک ماہ کی تنخواہ بھی بھجوائی گئی۔ ڈی جی نادرا سندھ بریگیڈیئر (ر) زاہد نے بھی جواب جمع کرا دیا۔ کیس کی سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے چیئرمین نادرا طارق ملک کی تقرری کا معاملہ ہائی کورٹ کو واپس بھجواتے ہوئے حکم دیا کہ عبوری ریلیف کا 15 دن میں فیصلہ کیا جائے۔ منگل کو جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے چیئرمین نادرا کی تقرری کے حوالے سے کیس کی سماعت کی، عدالت نے معاملہ ہائی کورٹ کو بھجوا تے ہوئے حکم دیا کہ ہائی کورٹ چیئرمین نادرا کو دیئے جانے والے عبوری ریلیف کا 15 دن میں فیصلہ کرے، حکومت نے چیئرمین نادرا کو برطرف کر دیا تھا جس پر انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے عبوری ریلیف حاصل کر لیا، ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ۔