وزیراعظم یقینی بنائیں کہ آئندہ کوئی جبری گمشدگی نہ ہو ۔ سپریم کورٹ

 وزیراعظم یقینی بنائیں کہ آئندہ کوئی جبری گمشدگی نہ ہو ۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + بی بی سی + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کا کیس نمٹا دیا۔ وفاقی حکومت کو 7 دن میں تمام لاپتہ افراد بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے پیش رفت کی رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے لاپتہ افراد سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے کیس نمٹاتے ہوئے عبوری حکم جاری کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ تمام لاپتہ افراد کو 7 روز میں بازیاب کرایا جائے، ان تمام افراد کو پیش کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، وزیراعظم، وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پی کے لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق 7 روز میں پیشرفت رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے جبری گمشدگیاں روکنے کیلئے قانون سازی کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ وزیراعظم یقینی بنائیں کہ آئندہ کوئی جبری گمشدگی نہ ہو۔ ایم آئی، آئی بی، آئی ایس آئی اور پولیس کو کسی کی جبری گمشدگی کا اختیار نہیں، ملک میں غیر اعلانیہ حراست میں رکھنے کا کوئی قانون نہیں۔ حکومت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر وزارت دفاع غیر اعلانیہ قیدیوں پر لاعلمی ظاہر کرتی رہی، بعد میں بتایا گیا ایک شخص سعودی عرب میں ہے اور 2 کا انتقال ہو گیا، اگر وفاقی و صوبائی حکومتیں تحقیقات کرتیں تو قیدی لے جانیوالے فوجی افسر لائے جا سکتے تھے۔ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ 35 افراد کو مالاکنڈ کے حراستی مرکز سے فوج اٹھا کر لے گئی، سیکرٹری دفاع کو براہ راست کوئی معلومات نہیں تھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سیکرٹری دفاع ہمارے حکم پر عملدرآمد نہیں کر رہے، سیکرٹری دفاع کے خلاف بھی حکم جاری کرنا پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کیس میں عدالت کے اختیار سماعت سے متعلق اٹارنی جنرل کے اعتراضات بھی مسترد کر دئیے۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے عدالت ہمیشہ گریز کرتی رہی اور حکومت ہمیشہ عدالت سے غلط بیانی کرتی رہی ہے۔ ملک کے انتظامی سربراہ وزیراعظم کے معاملے کی سنگینی سے آگاہ ہونے کے باوجود معاملہ حل نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے‘ اتنی دیر میں سیاچن گلیشیئر سے لوگ آ جاتے ہیں آپ عدالت میں پیش نہ کر سکے۔ اگر وزیر دفاع کی کوئی بات نہیں سن رہا تو ہم کسی اور اعلیٰ شخصیت کو بلا سکتے ہیں، ہم حکم جاری کریں گے اور ایگزیکٹو اتھارٹی کو کہیں گے کہ اس پر عمل کرے۔ پہلے دن سے حکومت کی ضد ہے کہ لوگ نہیں لانے اور اپنی ضد پر آج تک قائم ہے۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایاکہ لاپتہ افراد سے متعلق جامع قانون پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ اچھی خبر ہے مگر 35 لاپتہ افراد کہاں ہیں؟ جس پر قائم مقام سیکرٹری دفاع عارف نذیر نے کہاکہ لاپتہ افراد کو بہت سنجیدہ سکیورٹی مسائل کی وجہ سے پیش نہیں کر سکتے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ وزیر دفاع کے توسط سے وزیراعظم کو بھی کیس کا پتہ ہے اس کا مطلب ہے کہ پوری حکومت جانتی ہے۔ چیف جسٹس نے قائم مقام سیکرٹری دفاع سے کہا کہ آسمان گرے زمین پھٹے آپ کو عدالتی حکم پر عمل کرنا ہو گا، ہم کوئی وجہ نہیں سننا چاہتے۔ قائم مقام سیکرٹری دفاع نے کہا کہ حراست میں مرنے والے دو لاپتہ افراد کے لواحقین کو ایک گھنٹہ کے نوٹس پر پیش کرنے کو تیار ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے کیا انہیں تھانے میں بند کر رکھا ہے، انہیں ایک گھنٹے میں کیسے لا سکتے ہیں، آپ جان بوجھ کر ایک چیز کو سنسنی خیز نہ بنائیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر وزیر دفاع کی کوئی بات نہیں سن رہا تو ہم کسی اور اعلی شخصیت کو بلا سکتے ہیں، ہم حکم جاری کریں گے اور ایگزیکٹیو اتھارٹی کو کہیں گے کہ اس پر عمل کرے۔ عدالت نے قائم مقام سیکرٹری دفاع کی وضاحت سننے سے انکارکر دیا۔ خواجہ آصف نے وعدہ کیا تھا 10 دسمبر کو معاملہ حل ہو جائے گا، ہمیں نام بتائیں آپ کو ان افراد کے بارے میں کون بتا رہا ہے؟ پہلے دن سے آپ کی ضد ہے کہ لوگ نہیں لانے اور آپ اپنی ضد پر آج تک قائم ہیں۔ وزیر دفاع نے خوشخبری سنانے کا کہہ کر سماعت ملتوی کرائی مگر کوئی اطلاع نہیں دی۔ اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لاپتہ افراد کیس کا فیصلہ لکھواتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا اور 35 میں سے اب تک صرف 7 افراد کو پیش کیا گیا ہے۔ اگرچہ وزیراعظم ملک کے انتظامی سربراہ ہیں اور وہ اس معاملے کی سنگینی سے بھی آگاہ ہیں لیکن وزیراعظم کی شمولیت کے باوجود معاملہ حل نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی کہ وزارت دفاع ضرور پیش رفت کرے گی لیکن کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ مسلح افواج اور دیگر حکام محکمہ دفاع کو رپورٹ کرتے ہیں 35 میں سے اب تک 7 لاپتہ افراد کو پیش کیا گیا‘ ابھی تک یاسین شاہ کو بھی پیش نہیں کیا گیا جبکہ یہ کیس بھی انہی کی درخواست پر زیر سماعت آیا۔ سپریم کورٹ نے یہ ریمارکس بھی دئیے کہ بادی النظر میں حکومت افراد کی گمشدگی میں ملوث ہے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو ادارے یا سکیورٹی اہلکار ان افراد کو زیرِ حراست رکھنے یا اغوا کرنے میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان لاپتہ افراد سے متعلق وزارت دفاع کی وضاحتوں پر یقین کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈیشنل سیکرٹری دفاع پہلے تو ان افراد کی سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہونے سے انکار کرتے رہے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ افراد کو عدالت میں پیش بھی کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقدمے کی سماعت سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مالاکنڈ کے حراستی مرکز سے 35 افراد کو فوجی اہلکار اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے مؤقف کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صوبہ خیبر پی کے کے جنگ زدہ علاقوں میں فوج کو فوجداری مقدمات کی سماعت کرنے کا اختیار ہے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد جبری طور پر گمشدہ ہونے والے گیارہ قیدیوں سے متعلق مقدمے کا فیصلہ بھی سنا دیا ہے جس میں حکومت کو ان چار قیدیوں کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اس عرصے کے دوران مارے گئے تھے جبکہ زیر حراست دیگر 7 قیدیوں کی ان کے رشتہ داروں سے ملاقات کروانے کا بھی حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ 2010ء میں گیارہ افراد کو اس وقت اڈیالہ جیل کے باہر سے سکیورٹی اداروں کے اہلکار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے جب انسداد دہشت گردی کی متعلقہ عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر ان افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ دریں اثناء سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو حکم دیا ہے کہ  قائم مقام آئی جی ایف سی بلوچستان کو آج بدھ کو ساڑھے نو بجے سپریم کورٹ میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کی بیماری کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے جبکہ عدالت نے وضاحت طلب کر لی ہے کہ آئی جی ایف سی بلوچستان کی غیر موجودگی میں ایف سی کی کمان کس کے پاس تھی میڈیکل چیک اپ کے لئے بھی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومتی معاملات زبانی چلائے جارہے ہیں سسٹم کا مذاق نہ اڑایا جائے جبکہ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ آئی جی ایف سی موٹر سائیکل پر آئیں یا جہاز پر انہیں عدالت میں پیش ہونا چاہئے تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سبراہی میں تین رکنی بنچ نے بلوچستان بدامنی اور لاپتہ افراد کیس کی سماعت کی جبکہ اس سے قبل بلوچستان لاپتہ افراد کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے قائم مقام آئی جی ایف سی کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور سیکرٹری داخلہ کو عدالت مین پیش ہونے کا حکم دیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری دفاع عدالت میں پیش ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع کے پاس قائم مقام آئی جی ایف سی کی تعیناتی کا کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہے جبکہ آئی جی ایف سی اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اس پر عدالت نے آج بدھ کو ان کا تمام میڈیکل ریکارڈ طلب کیا ہے جبکہ دوران سماعت ججز کا کہنا تھا کہ کیا بلوچستان میں حکومتی رٹ قائم نہیں لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں ججز کا کہنا تھاکہ ہم تو نظم وضبط کا پابند ادارہ سمجھتے تھے لیکن یہاں معاملہ ہی الٹ ہے اور لوگوں کو گھروں سے اٹھایا جا رہا ہے اور لوگوں کے لواحقین کو سالوں تک نہں بتایا جاتا کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے ایڈیشنل سیکرٹری وزیرداخلہ نے عدالت کو بتایا کہ آئی جی ایف سی نے زبانی طور پر سیکرٹری داخلہ سے چھٹی لی تھی اور چیک اپ کی اجازت لی تھی اس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ میڈیکل چیک اپ کیلئے بھی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے اور حکومتی معاملات زبانی چلائے جاتے ہیں سسٹم کا مذاق نہ بنایا جائے۔