قومی اسمبلی۔ ڈرون حملوں کے خلاف، غربت کے خاتمے کیلئے قراردادیں متفقہ طور پر منظور

قومی اسمبلی۔  ڈرون حملوں کے خلاف، غربت کے خاتمے کیلئے  قراردادیں متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد (خبر نگار + ایجنسیاں) قومی اسمبلی نے ڈرون حملوں کے خلاف، غربت کے خاتمے کیلئے ساہیوال میں زرعی یونیورسٹی اور حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے قراردادیں متفقہ طور پر منظور کرلیں جبکہ پیپلز پارٹی نے پی آئی اے سمیت بعض اداروں کی نجکاری کے اعلان پر ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ خبرنگار کے مطابق ڈرون حملوں کو روکنے کی قرارداد جماعت اسلامی کی رکن نعیمہ کشور نے پیش کی۔ قرارداد کے مطابق ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری کیخلاف ہیں، فوری بند کئے جائیں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ڈرون حملے نہ صرف پاکستان کی سالمیت کیخلاف ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سید وسیم حسین نے حیدرآباد میں لوگوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کیلئے حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے قرارداد پیش کی جبکہ رائے حسن نواز خان نے ساہیوال میں زرعی یونیورسٹی کے فوری قیام کیلئے قرارداد پیش کی۔ یونیورسٹی کے قیام کیلئے دونوں قراردادیں ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیں۔ اے پی اے کے مطابق وزیر سیفران عبدالقادر بلوچ نے کہا پوری قوم ڈرون حملوں کیخلاف ہے، ڈرون حملوں کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا اس معاملے پر کسی جماعت کو جذباتیت اور اپنی دکانداری نہیں چمکانی چاہئے۔ انہوں نے کہا 30 ارکان کی جماعت کو قومی معاملات پر فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عارف علوی نے کہا پوری قوم ڈرون حملوں کے خلاف ہے۔ تحریک انصاف ڈرون حملوں پر دکانداری نہیں چمکا رہی، سیاسی دکانداری چمکانے کے الزامات کی مذمت کرتے ہیں، ڈرون حملے روکنے کیلئے ہمارے پاس نیٹو سپلائی بند کرنے کا ہتھیار ہے۔ احتجاج ہمارا حق ہے، نیٹو سپلائی روکیں گے، انہوں نے کہا وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں ڈرون حملوں پر صرف بیس سیکنڈ بات کی جبکہ غیر ملکی شراب کی فروخت پر پابندی لگانے کی قرارداد مسترد کردی۔ قرارداد مسلم لیگ (ن) کے چودھری حامد حمید نے پیش کی۔ وفاقی وزیر برائے ریاستیں و سرحدی امور جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کی جانب سے تحریک انصاف کی جانب سے نیٹو سپلائی روکنے کے اقدام کو سیاسی دکان چمکانے کے مترادف قرار دینے پر شدید احتجاج اور شیم شیم کے نعرے لگائے گئے۔ انکے احتجاج پر ڈپٹی سپیکر نے پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی کو وضاحت کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا انہیں اور انکی پارٹی کے دیگر ارکان کو سیاسی دکان چمکانے کے الفاظ پر شدید اعتراض ہے ہم ان الفاظ کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ حکومت کو پی ٹی آئی پر تنقید کی بجائے تسلیم کرنا چاہئے، نیٹو سپلائی روکنے کے ہمارے فیصلے سے انکو فائدہ ہو رہا ہے۔ انکے ایک وزیر نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ پی ٹی آئی کے مؤقف سے حکومت کو اپنی بات منوانے میں مدد مل رہی ہے اور امریکہ پر اس حوالے سے پریشر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے اعلان پر قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آ کر کسان اور مزدور دشمن بن جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت نے پی آئی اے میں ملازمین کو شیئر دئیے، موجودہ حکومت 89 اداروں کو پرائیویٹائز کرنے جا رہی ہے جس سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بیروزگار ہو جائیں گے، انہی لوگوں کی محنت اور پسینے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سٹیل مل اس وقت لگائی جب پاکستان میں سوئی بھی نہیں بنتی تھی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی دی ہوئی پارلیمنٹ ہے، بھٹو نے ملک کو 73ء کا آئین دیا، پیپلز پارٹی پر بغضِ معاویہ میں تنقید کی جاتی ہے، ہم چاہتے ہیں پارلیمنٹ چلے، سستی روٹی کا نعرہ کیا الیکشن کا نعرہ تھا۔ مسلم لیگ (ن) اب کیوں عوام کو 2 روپے کی روٹی نہیں دے رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کسی ڈکٹیٹر کے سامنے سر نہیں جھکایا اور نہ ہی معافی مانگی اور نہ لکھ کر دیا، بھٹو بھی سعودی عرب، امریکہ، لندن جاسکتے تھے مگر انہوں نے اپنی مٹی میں ہی دفن ہونا پسند کیا۔ آج بینظیر بھٹو کی تصویر ہٹانے کی باتیں ہورہی ہیں، اس سے آپ لوگ بونے بن رہے ہیں، یہ بینظیر ہی تھی جس نے نوازشریف کو بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے کا مشورہ دیا تاکہ جمہوریت کمزور نہ ہو۔ مسلم لیگ (ن) کے شیخ روحیل اصغر نے پی آئی اے کی کارکردگی کے بارے میں قومی اسمبلی میں تحریک پیش کی تھی جس کے بعد وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے ایوان کو بتایا پی آئی اے کے 26 فیصد حصص کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا 1999ء میں پی آئی اے چھوڑا تو وہ ایک نفع بخش ادارہ تھا، ا سے اس نہج تک پہنچانے والوں کا تعین کیا جانا چاہئے۔ پی آئی اے کے پاس 32 جہاز ہیں جن میں سے 10 خراب ہیں، اس پر اپوزیشن نے ایوان میں ’’نو، نو‘‘ کے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کہا حکومت کا دہرا معیار ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ماضی میں سٹیل مل کی نجکاری کی مخالفت کی، آج حمایت کر رہی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے بجائے اسے بہتر کیا جائے۔ شیخ آفتاب نے کہا نجکاری کے باوجود کسی بھی ملازم کو نہیں نکالا جائیگا۔ عمران منصب نے کہا اداروں میں خامیوں کا حل نجکاری نہیں ملک میں جتنی بھی نجکاری ہو رہی ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک شخص کو نوازا جا رہا ہے، ادارے بڑی مشکل سے بنتے ہیں، معاملہ مجلس قائمہ کو بھجوا دیا جائے۔ منور علی تالپور نے کہا پی آئی اے کی صورتحال بری ہے حج کے دوران سیٹیں چھوٹی کر دی جاتی ہیں۔ رانا افضل خان نے کہا پی آئی اے اور سٹیل مل کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے، مقصد صرف بندے پالنا ہے تو پھر انہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ان کی مدد کی جائے۔این این آئی کے مطابق قومی اسمبلی میں مجموعہ ضابطہ فوجداری ترمیمی بل 2013ء پیش کردیا گیا جسے مزید غور کیلئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔  ایاز سومرو نے کہا مشرف دور میں مجسٹریٹی نظام ختم کر دیا گیا تھا، اس نظام کی بحالی سے مہنگائی کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔ اس بل کو حکومتی بل کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ آن لائن کے مطابق وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا حکومت پی آئی اے کو نفع بخش بنائے گی۔ آئی این پی کے مطابق پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا افضل نے کہا ٹیکس چوری روکنا اس کی اولین ترجیح ہے۔ ہماری توجہ نیشنلائزیشن نہیں بلکہ انڈسٹریلائزیشن پر مرکوز ہے۔ ماضی میں آبی ذخائر کی تعمیر میں کوتاہی ہوئی، کالاباغ ڈیم سمیت بڑے آبی ذخائر بنائے جائیں گے۔