قطر کی پاکستان کو ایل این جی برآمد کرنے پر رضامندی ، ایران گیس کی قیمتوں پر نظرثانی کرنے کیلئے راضی

اسلام آباد (احمد احمدانی/ نیشن رپورٹ+ بی بی سی+ سٹاف رپورٹر+ خبرنگار) قطر نے پاکستان کو ایل این جی برآمد کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی جبکہ ایران گیس منصوبہ مکمل کرنے کی صورت میں گیس کی قیمتوں پر نظرثانی کرنے کیلئے راضی ہو گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر پٹرولیم کی قیادت میں ایران اور قطر کے دورہ میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق قطر کے حکام سے کامیاب مذاکرات ہوئے۔ وزیر پٹرولیم نے قطر کے حکام کو بریفنگ دی کہ پاکستان کراچی میں ایل این جی ٹرمینل بنانے کیلئے قطر کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے ایل این جی کی تقسیم کے سسٹم کیلئے معاہدے کر لئے ہیں اور ابتدائی طور پر اینگرو وپیک ٹرمینل لمیٹڈ سے معاہدہ ہوا ہے۔ قطر کے حکام نے پاکستان کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے وزارت پٹرولیم کا کہنا ہے کہ تقریباً 40 ملین کیوبک فٹ ایل این جی نومبر 2014ء تک گیس سسٹم میں شامل کر دی جائے گی۔ پاکستانی وفد نے کو نوکو فلپس کمپنی سے بھی اس حوالے بات چیت کی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ہونے والے مذاکرات میں ایران نے گیس پائپ لائن بروقت مکمل نہ کرنے پر عائد کئے جانے والے جرمانہ سے استثنیٰ دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ مزید برآں ایران نے پاکستان کو گیس پائپ لائن کی تعمیر میں مالی مدد کرنے کی بھی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے تاہم اس کیلئے اسے منصوبہ پر کام تیز کرنا ہو گا۔ اس موقع پر ایران کی طرف سے پاکستان کو انجینئرنگ اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے ایرانی کمپنی ’’تدبیر‘‘ سے معاہدے کی پیشکش بھی کی گئی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل قطر کے حکام نے ایل این جی ٹرمینل کے قیام کی حامی نہیں بھری تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتوں میں ہونے والے معاہدے کے نتیجہ میں پاکستان پر پابندی لگنے کا امکان بھی کم ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان حکومت اس بات کا کئی بار اعادہ کر چکی ہے کہ پاکستان امریکہ یا سعودی عرب کے دبائو پر اس منصوبے کو ختم نہیں کرے گا۔ پاکستان نے کہا ہے کہ وہ ایران سے گیس کی درآمد کے لیے پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر تیزی سے کام کرے گا۔ اس پائپ لائن کے ذریعے ایران کے گیس ذخائر کو پاکستان سے جہاں توانائی کی کمی ہے وہاں منسلک کیا جائے گا۔ اے پی کے مطابق امریکہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی مخالفت کرتا ہے اور وہ اس کے متبادل ترکمانستان سے افغانستان، پاکستان اور بھارت کو گیس کے فراہمی کے منصوبے کا حامی ہے۔ گزشتہ روز دفترِ خارجہ سے جاری ایک بیان کے مطابق پاکستان اور ایران کے پیٹرولیم کے وزرا نے پیر کو تہران میں ایک ملاقات میں پاکستان ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر بات چیت کی ہے۔ بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اس منصوبے پر تیزی سے کام کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سے متعلق مشکلات کو حل کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کیا تاہم بیان میں اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں درپیش، رقم کی فراہمی اور پابندیاں عائد ہونے کے خدشات جیسے مسائل کو حل کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی۔