عالمی برادری دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے متبادل تلاش کر ے ۔ نوازشریف

عالمی برادری  دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے متبادل تلاش  کر ے ۔  نوازشریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + ایجنسیاں) وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے ڈرون حملے بند کئے جائیں، دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوئی اور حل تلاش کئے جائیں۔ ایشیائی اسمبلی کے مندوبین اور یورپی یونین کے سفیروں کے اعزاز میں دئیے جانے والے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایشیا میں امن چاہتے ہیں، ماضی بھول کر مستقبل کو دیکھنا ہو گا، 2050ء کے بعد ایشیا کا کوئی ملک غریب نہیں رہے گا۔ نمائندہ خصوصی کے مطابق سفیروں کے اعزاز میں ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے ڈرون حملے منفی نتائج کے حامل ہیں۔ ہم عالمی برادری کو اس کے اثرات کا احساس دلا رہے ہیں اور دہشت گردی کے خاتمہ کے ایسے طریقے تلاش کرنے کے لئے قائل کر رہے ہیں جو منفی اثرات کے حامل نہ ہوں۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان اپنے یورپی یونین کے پارٹنر کے ساتھ تجارت‘ سرمایہ کاری‘ توانائی‘ انفراسٹرکچر کی ترقی‘ تعلیم اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے شعبوں میں تعاون میں مزید اضافہ کرنے کے متمنی ہیں۔ یورپی یونین ہماری ترجیحات میں بڑی اہم پوزیشن کی حامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا یورپی یونین کی طرف سے پاکستان کے لئے جی ایس پی پلس دینے کے حوالے سے پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ میں اس سکیم پر ووٹنگ ہونے والی ہے اور امید ہے پاکستان کو کامیابی حاصل ہو گی۔ وزیراعظم نے یورپی یونین کے ممالک کا اس سکیم کے لئے پاکستان کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں استحکام اور باہمی اعتماد اور یورپی یونین کی مدد اور حمایت کے ساتھ پاکستان میں معاشی ترقی تیز ہو گی اور دہشت گردی کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ پاکستان صلاحیتوں سے بھرپور ملک ہے تاہم ان سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا یورپی یونین کے ممالک پوری طرح آگاہ ہیں کہ جاری ڈرون حملے منفی نتائج کے حامل ہیں۔ ہم پاکستان کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نجات دلانے کے لئے پرعزم ہیں۔ عفریت پیچیدہ نوعیت کا ہے اور اس کی جڑیں تین دہائیوں میں ہونے والے واقعات سے منسلک ہیں اس کے عالمی‘ علاقائی اور مقامی جہتیں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا ان مسائل کے حل کا بہترین طریقہ قومی اتفاق رائے ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے ہم نے اے پی سی بلائی اور پارلیمانی قراردادیں منظور کرائی گئیں۔ انہوں نے کہا حکومت نے اندرون اور بیرون چیلنجز کے مقابلہ کے لئے سیاسی صبر و برداشت کے ماحول اور تمام پارٹیوں کے مینڈیٹ کے احترام کے ذریعے کیا ہے۔ حکومت نے ’’بزنس لون سکیم‘‘ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانہ درجہ کے کاروباری اداروں کی ترقی ہے۔ آئی این پی کے مطابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ڈرون حملے بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہیں، حملوں کے باعث پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے، پاکستان تجارت، تعلیم، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان بھارت سمیت دنیا کے ساتھ احترام اور برابری کے تعلقات چاہتا ہے، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کوئی اور حل تلاش کئے جائیں۔ مزید برآں ایشیائی اسمبلی کے مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا پاکستان چین اور آسیان ممالک کے ساتھ ملکر خطے کی ترقی کیلئے کام کرنے کو تیار ہے۔ حکومت معیشت کو بہتر بنانے اور توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے اقدامات کر رہی ہے پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا ہے ایشیائی ترقیاتی بنک کے مطابق 2050ء تک ایشیائی ممالک کی فی کس آمدنی 6 گناہ اضافے کے ساتھ یورپ کی سطح پر پہنچ سکتی ہے اور اسی سال عالمی ڈی جی پی میں اس کا حصہ 2 گناہ ہو سکتا ہے۔ صورتحال ٹھیک رہی اور ایشیائی ممالک میں اپنی ترقی کی شرح برقرار رکھی تو 2050ء تک کوئی ایشیائی ملک غریب نہیں رہے گا۔ پاکستان ایشیا میں امن و استحکام خواہاں ہے، پاکستان میں جمہوریت فروغ پا رہی ہے حکومت ملک میں جاری دہشت گردی اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے ایشیائی ممالک کے درمیان معیشت‘ تجارت اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا اور کہا پاکستان‘ افغانستان اور بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے پاکستان کے عوام امن‘ سلامتی‘ استحکام اور بچوں کا محفوظ اور خوشحال مستقبل چاہتے ہیں ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل کی طرف دیکھنا ہو گا۔ پاکستان چین اور وسط ایشیا کو بحیرہ عرب سے منسلک کرنے کیلئے راہداری پرکام کر رہا ہے، ایشیائی پارلیمانی ا سمبلی خطے کے ممالک کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، وزیراعظم نے کہا پاکستان میں رواں سال آزادانہ‘ منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے ایک منتخب حکومت سے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار کی منتقلی ہوئی ہے پاکستان کی پارلیمنٹ مضبوط پارلیمنٹ بن کر ابھری ہے اور یہ بات انتہائی باعث مسرت ہے یہ پارلیمنٹ پورے ایشیا کی پارلیمانوں کے نمائندوں کی میزبانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہم ملک کو درپیش چیلنجوں کے حل کے لئے کام کر رہے ہیں اور پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قومی اتفاق رائے پیدا کیا ہے ہم توانائی کے بحران کے حل کیلئے بھی پرعزم ہیں جس میں ہمارے ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے ہم توانائی کی قلت پر قابو پانے‘ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے‘ ملکی وسائل کو بروئے کار لانے اور شرح نمو میں اضافے لانے میں ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا عالمگیریت کے اس دور میں اقتصادی شرح نمو علاقائی تعاون اور رابطے کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ایشیائی پارلیمانی اسمبلی جیسے علاقائی پارلیمانی فورمز توانائی‘ شرح نمو اور ماحولیات جیسے بنیادی مسائل سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنے کے حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ایشیائی پارلیمانی اسمبلی قانون سازوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادے میں مدد دے سکتی ہے۔ قانون سازوں کے کام‘ ایجنڈے کی تیاری‘ بجٹ سازی‘ ڈرافٹنگ اور قانونی سازی کو ہم آہنگ کرنے سمیت کمیٹیوں کے ڈھانچے اور ان کے دائرہ اختیار کے حوالے سے مختلف امور پر ایک دوسرے سے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور اس سے ممبر ممالک کے لوگوں کے درمیان قریبی رابطے  فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا پاکستان بھارت اور افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان کے عوام امن‘ سلامتی اور استحکام چاہتے ہیں اور وہ ایسے ماحول کے خواہاں ہیں جو ان کی محنت کے محنت کے ثمرات کا تحفظ کرے اور ان کی سخت محنت کا صلہ دے۔ وہ اپنے بچوں کے لئے محفوظ اور خوشحال مستقبل چاہتے ہیں وزیراعظم نے کہا پاکستان دنیا میں اپنے محل وقوع کے لحاظ سے انتہائی اہم خطے میں واقع ہے اور یہ دنیا میں چین اور بھارت جیسے تیزی سے ترقی کرتی اور بڑی معیشتوں کے ہمسائے میں واقع ہے اور اس کا مطلب ہے پاکستان دنیا کی دو بڑی منڈیوں کا سنگم ہے انہوں نے کہا پاکستان جنوبی ایشیا‘ مشرقی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے تین ارب افراد کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا ہم چین سے بحیرہ عرب تک شمال جنوب اقتصادی راہ داری قائم کر رہے ہیں ۔ ہم وسطی ایشیا کے وسیع وسائل اور چین کو بین الاقوامی اقتصادی دھارے سے جوڑنے کا ذریعہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم کاسا 1000 منصوبے اور ترکمستان‘ افغانستان‘ بھارت‘ پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس سے علاقے میں خوشحالی اور استحکام آئے گا۔ انہوں نے کہا 30 ممالک کے تین سو سے زائد نمائندے ایشیائی اسمبلی میں اپنے ممالک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ رکن ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لئے پارلیمانی کمیٹیاں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پاکستان ایشیائی ممالک کے ساتھ باہمی تعاون اور تجارت کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ پاکستان چین اور آسیان ممالک کے ساتھ ملکر خطے کی ترقی کے لئے کام کرنے کے لئے تیار ہے۔ ایشیائی اسمبلی ترقی کا محور بن سکتی ہے۔ ہم عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کر رہے ہیں ہمیں ماضی کو بھول کر مستقبل کی جانب دیکھنا چاہئے۔ موجودہ حکومت معیشت کی بہتری کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے چیئرمین سینٹ کو ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے موضوع ایشیائی صدی‘ معیشت‘ توانائی اور ماحولیات میں تعاون کا مقصد تمام ممالک کے درمیان تعاون کوفروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا وسطی ایشیا سے توانائی کے حصول کے لئے مختلف منصوبوں پر کام کررہے ہیں، ان منصوبوں سے خطے کواقتصادی طور پر بہت فائدہ ہو گا، وزیر اعظم نے کہا پاکستان دنیا کے ایک اہم خطے میں واقع ہے اور اپنے پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے، ایشیائی پارلیمانی اسبملی خطے کے ممالک کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے تاہم بدقسمتی سے اس خطے کے ممالک ابھی تک ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا وسطی ایشیا سے توانائی کے حصول کے لئے مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، ان منصوبوں سے خطے کو اقتصادی طور پر بہت فائدہ ہو گا، پاکستان میں جمہوری طریقے سے اقتدار کی منتقلی سے پارلیمنٹ مضبوط ہوئی ہے، پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اتفاق رائے پیدا کیا۔ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی علاقائی تعاون کا اور ترقی کا محور بن سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ایشیائی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کیلئے پارلیمانی کمیٹیاں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا ایشیائی اسمبلی کا موضوع معیشت اور توانائی کے تعاون کو بڑھانا ہے۔ پاکستان جنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک کو آپس میں جوڑ رہا ہے۔ ایشیائی ملکوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی ایشیائی ممالک کے درمیان رابطوں کا پلیٹ فارم ہے۔آن لائن کے مطابق وزیراعظم نے کہا ڈرون حملے کسی بھی صورت میں قبول نہیں۔ ان ڈرون حملوں کے نتیجے میں امن معاہدوں پر ضرب لگتی ہے۔ ایشین پارلیمنٹری اسمبلی کے نومنتخب صدر اور چیئرمین سینٹ نے پیپلز اسمبلی شام اور چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کی چیئرپرسن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان دوسرے ملکوں کے معاملات میں عدم مداخلت پر یقین رکھتا ہے۔ اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کا ایجنڈا دوستی اور تعاون کا ہے۔ اسکا دائرہ کار ایشیائی براعظم تک بڑھایا جائیگا۔ اسلام آباد (آئی این پی+ آن لائن) ایشیائی پارلیمانی اسمبلی نے ڈرون حملوں سمیت ہر قسم کی بیرونی جارحیت، کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت  اور سی آئی اے کی پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے شہریوں کے فون ٹیپ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار  دیتے ہوئے پرامن اور ترقی یافتہ ایشیا کے لیے رکن ممالک کے افراد پر مشتمل گروپ تشکیل دینے  پر اتفاق کیا ہے، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے رنگ ، نسل ، زبان اور مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصبات کو  رد کردیا گیا جبکہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی گئی، پرامن مقاصد کے لیے بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے تحت ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کو بنیادی حق قرار دیا دیتے ہوئے شام میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا 30 ملکوں کی ایشیائی اسمبلی کا اجلاس اعلان اسلام آباد کے  18رہنما اصولوں کے اجرا  کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا، پاکستانی پارلیمانی تاریخ کے سب سے بڑے اجلاس کے اختتام پر جاری کئے گئے  مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا  ایشیائی اسمبلی ایشیائی صدی کی بطور ادارہ ایک آواز ہے اس ادارے پر لازم ہے  یہ کروڑوں ایشیائی باشندے جو ایشیا کے مقدر  کے لیے یکجا ہوئے ہیں ان کے مفادات اور خواہشات کا تحفظ  کرے اور ان کی منزل مقصود کے حصول کے لیے کوشش کرے متفقہ اعلامیہ میں اس بات کا عہد کیا گیا  ایشیائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون او ریکجہتی کے لیے متحد رہیں گے تاکہ ایشیائی صدی میں ایشیاء کو درپیش چیلنجوں کا بھرپور انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے کوششیں کریں گے، منصفانہ اور مساوی اقتصادی نظام کے لیے کوشش کریں گے کمزور ، محروم طبقات، اقلیتوں، عورتوں اور جوانوں کے حقوق کے تحفظ کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی، اعلامیہ میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا  تمام ایشیائی ممالک تجارت، سرمایہ کاری، اقتصادی راہدریوں ، شاہراوں، ریلویز اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو ایشیائی ممالک کی خوشحالی کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا  تمام ایشیائی ممالک ماحولیاتی تبدیلوں پر قابو پانے کے لیے تیار رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے تاکہ صاف ستھری اور مہذب ترقی کی راہ ہموار ہو سکے ،  اعلامیہ میں بدعنوانی سے پاک سیاست کی پیروی کرنے اورقانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے شفاف انداز میں احتساب کو فروغ دینے کا بھی عہد کیاگیا تاکہ لوگوں کا سیاسی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے، بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے رنگ ، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر ہر قسم کے تعصبات کو بھی رد کیا گیا علاقائی تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی گئی اور مسائل کے حل کے لیے سیاسی حل پر زور دینے کا اتفاق کیا گیا، شام کے معاملے میں ملوث تمام فریقوںسے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ شام میں جاری خون ریزی کو روکا جا سکے، ہر قسم کی بیرونی مداخلت، جارحیت، علاقائی حدود اور خود مختاری کی خلاف ورزی، ڈرون حملوں اورایشیائی ممالک کے لوگوں کے فون ٹیپ کرنے کی بھی مذمت کی گئی، اعلامیہ میں کہا گیا ہے  جنگ بیرونی مداخلت اور آب و ہوا کی تبدیلیوں سے متاثر لوگوں کو دنیا پر ایشیائی ممالک کے کردار امن اور مفاہمت کے راستے کو فروغ دینے کے لیے پرامن اتحاد ویگانگت کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا بھی عہد کیا گیا ، بیرونی جارحیت، دہشتگردی اور انتہاپسندی کی بھی مذمت کی گئی کیونکہ دینا کا کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ پرامن اور ترقی یافتہ ایشیا کے لیے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والے افرا د پر مشتعمل گروپ کی تشکیل پر بھی اتفاق کیا گیا۔اعلامیہ میں کہا گیا  ایشیائی صدی میں اے پی اے کو ایک منفرد تنظیم کے طور پراجاگر کرنے کے لیے منظم کوششیں کی جائیں گی ۔ اعلامیہ تیس ممالک کے پارلیمنٹرین نے متفقہ طور پر منظور کر لیا ۔آن لائن کے مطابق ایشیائی پارلیمانی اسمبلی نے کہا  کہ غیر ملکی تسلط، دہشتگردی اور انتہا پسندی برائیاں ہیں۔ دہشتگردی کا کوئی مذہب اور سرحدیں نہیں، اسلام فوبیا اور کسی قسم کے امتیاز کو مسترد کرتے ہیں۔