سی این جی پر اضافی 9 فیصد ٹیکس کی وصولی غیر قانونی، حکومت بجلی پر سبسڈی ختم نہ کرے ۔ سپریم کورٹ

 سی این جی پر اضافی 9 فیصد ٹیکس کی وصولی غیر قانونی، حکومت   بجلی پر سبسڈی ختم نہ کرے ۔  سپریم کورٹ

اسلام آباد (آئی این پی+ آن لائن + ثناء نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات، سی این جی اور بجلی کی قیمتوں سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں دی جانے والی سبسڈی ختم نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سی این جی پر اضافی 9 فیصد ٹیکس کی وصولی غیرآئینی و غیر قانونی ہے۔ اوگرا 16 سے 17 فیصد ٹیکس وصول کرے اور صارفین سے اضافی 9 فیصد وصول کی گئی رقم 3 ماہ میں ایف بی آر میں جمع کرائے، جب کہ غیرقانونی سی این جی لائسنس کے اجرا کا معاملہ نیب دیکھے‘نیپرا قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی۔ نیپرا آئندہ صارف اور سٹیک ہولڈرز کو مدنظر رکھ کر قیمتوں کا تعین کرے اور بجلی کی قیمتوں پر صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم نہ کی جائے۔ منگل کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے پٹرولیم مصنوعات، سی این جی اور بجلی کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا ۔ بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ نیپرا قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا، نیپرا آئندہ صارف اور سٹیک ہولڈرز کو مدنظر رکھ کر قیمتوں کا تعین کرے اور بجلی کی قیمتوں پر صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم نہ کی جائے۔ لوڈشیڈنگ سے متعلق عدالت نے حکم دیا کہ صارفین کی مشکلات کم کرنے کیلئے مجاز اتھارٹی لوڈشیڈنگ کم کرے اور بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے متبادل ذرائع استعمال کئے جائیں۔ عدالت نے کہاکہ مجاز اتھارٹی سمارٹ میٹر لگائے تاکہ بجلی کی چوری کو روکا جاسکے، بجلی کے بل ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر لوڈشیڈنگ ناگزیر ہے تو صنعتی، گھریلو اور زرعی صارفین کو یکساں رکھا جائے۔ پٹرولیم قیمتوں کے حوالے سے عدالت نے حکم دیا کہ عالمی مارکیٹوں میں قیمتیں کم ہوتی ہیں لیکن یہاں نہیں کی جاتیں اس لئے اوگرا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی قیمتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کرے۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ کسانوں کو رعایتی نرخوں پر یوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور کھاد کے شعبے کو گیس کی مد میں دی جانے والی سبسڈی جاری رکھی جائے۔ کیپٹو پاور پلانٹس کو رعایتی نرخوں پر گیس فراہم نہ کی جائے۔ حکم میں کہا گیا کہ آرٹیکل 30 اے کے تحت عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں لیکن یہاں کیوں نہیں ہوتیں۔ حکومت بجلی اور گیس پر دی جانیوالی سبسڈی ختم نہیں کرسکتی۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عوام کو بلاتعطل بجلی فراہم کرے۔ لوڈشیڈنگ ختم ہوسکتی ہے، اگر مخلصانہ کوششیں کی جائیں۔ بجلی ضائع ہونے سے روکنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے اور بجلی کی فراہمی کیلئے سولر اور ونڈ کا استعمال کیا جائے۔ سی این جی سٹیشنوں کے 450 غیرقانونی لائسنس کے اجراء کے حوالے سے عدالت کا کہنا تھا کہ غیرقانونی لائسنسوں کا اجراء شفاف نہیں‘ فیصلہ نیب دیکھے گا۔ فیصلے میں بل نہ دینے والوں کے خلاف قانون کے تحت کاروائی کا حکم دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یکطرفہ انداز میں مقرر کی جا رہی ہیں، عالمی مارکیٹ کے مطابق نرخ مقرر کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔نیپرا اور پیپکو ہائیڈل بجلی کو ترجیح دیں۔ متعدد سی این جی سٹیشن کے لائسنس بظاہر غیر قانونی طریقے سے جاری کئے گئے۔حکم نامے میں کہا گیا کہ سی این جی سٹیشنز کے لائسنس کا معاملہ اوگرا عملدرآمد کیس کے ساتھ سنایا جائے گا۔