سینکڑوں مزدور بیروزگار ، گیس بندش دورانیہ 3ماہ بھی ہو سکتا ہے ۔ سیکرٹری پٹرولیم

لاہور+ اسلام آباد (نیوز رپورٹر+ خبرنگار+ نوائے وقت رپورٹ+ وقت نیوز+ ایجنسیاں) سوئی ناردرن گیس کمپنی نے پنجاب میں صنعتوں اور سی این جی سٹیشنز کی گیس بند کر دی جس سے فیکٹریوں کی مشینیں رک گئیں، سینکڑوں مزدور بیروزگار ہو گئے جبکہ مزدوروں کو روٹی کے لالے پڑ گئے، پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال بھی جاری ہے جبکہ پٹرول بلیک میں 200روپے لٹر تک فروخت ہوتا رہا۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ گیس کی بندش سے تین ارب ڈالر کے برآمدی ہدف حاصل نہیں ہو سکیں گے، بیروزگاری کا طوفان آئے گا اور فیکٹریوں میں ڈائون سائزنگ ہو گی، صنعتوں میں کام آدھا رہ گیا جبکہ سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید نے کہا ہے کہ سی این جی اور صنعت کو گیس بندش کا دورانیہ 2ماہ کی بجائے 3ماہ بھی ہو سکتی ہے آئندہ 2سال میں 350ملین کیوبک فٹ گیس کی پیداوار شروع ہو جائیگی۔ ادھر چیئرمین اوگرا نے پٹرول کی مصنوعی قلت اور ہڑتال کا نوٹس لے لیا۔ چیئرمین اوگرا نے وائس چیئرمین اوگرا کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی مانیٹرنگ اینڈ انفورسمنٹ کمیٹی تشکیل دے دی۔ چیئرمین اوگرا نے آج بدھ کو ملک بھر کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا اجلاس طلب کرلیا۔ علاوہ ازیں سی این جی ایسوسی ایشن نے کل 12دسمبر کو ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ چیئرمین ایسوسی ایشن غیاث پراچہ کا کہنا ہے کہ سی این جی کی بندش پر ٹیشنز مالکان اور ٹرانسپورٹرز کا اجلاس جمعرات کو ہو گا۔ اجلاس میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں گے۔ علاوہ ازیں آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن نے گیس بندش کیخلاف جمعہ کے روز دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ مینجمنٹ کے نام پر اہم ترین شعبہ کی بندش آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے، صرف سی این جی سیکٹر کو دانستہ نشانہ بناکر ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور افراتفری پھیلائی جا رہی ہے۔ ثنا نیوز کے مطابق سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مطابق سی این جی سٹیشنز، صنعتی یونٹس کو گیس کی بندش کا اطلاق منگل کی صبح چھ بجے سے ہو گیا ہے۔ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مطابق جن شہروں میں سی این جی سٹیشنز اور صنعتوں کو گیس فراہم نہیں کی جائے گی ان میں لاہور، شیخوپورہ، ساہیوال، ملتان، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، سرگودھا، اسلام آباد، راولپنڈی اور بہاولپور شامل ہیں۔ سوئی نادرن گیس کمپنی کے جنرل منیجر محمد اشرف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حکومت کے گیس مینجمنٹ منصوبے کے مطابق تین ماہ کے لئے پنجاب میں گیس صرف گھریلو صارفین کے لئے دستیاب ہو گی۔’پنجاب میں سوائے گھریلو صارفین کے کسی کے لئے گیس مہیا نہیں ہو پائے گی۔ ثنا نیوز کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 31دسمبر تک ڈیلرز کمیشن 5فیصد تک نہ کرنے کی صورت میں یکم جنوری سے ملک بھر میں پٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ اخراجات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ ملازمین کو فارغ کرنے پر مجبور ہیں۔ راولپنڈی میں سی این جی سٹیشن بند ہونے پر ٹرانسپورٹرز نے احتجاج کیا ہے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے آج سے گوجرانوالہ میں غیرمعینہ مدت کیلئے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ تنظیم کے ڈویژنل صدر ندیم عزیز خاں نے صحافیوں سے خصوصی بات چیت کے دوران بتایا کہ انہیں طویل عرصہ سے ایک روپے 70پیسے کمیشن انتہائی کم ہے۔ ان کی کمیشن کو 10فیصد تک بڑھایا جانا چاہئے۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق حافظ آباد ضلع میں پٹرول پمپ مالکان کی جانب سے دوسرے روز بھی ہڑتال جاری رہی جس کی وجہ سے عوام اور ٹرانسپورٹرز سمیت پریشان رہے۔ مقامی دکاندار اور ایجنسیوں کے ڈیلرز دیگر اضلاع سے پٹرول اور تیل لاکر ڈیڑھ سو روپے فی لٹر فروخت کرتے رہے جبکہ مقامی انتظامیہ پٹرول پمپوں کو کھلوانے میں ناکام رہی۔ علاوہ ازیں پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطالبات منظور نہ ہونے پر دوسرے روز بھی ہڑتال جاری رہی۔ جس کے باعث ٹرانسپورٹرز اور شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور عوام پٹرول بلیک میں خریدنے پر مجبور ہو گئے جبکہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبات منظور نہ ہونے تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپوں کی ہڑتال کے باعث وہ دو روز سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ نامہ نگاران کے مطابق پٹرولیم مصنوعات پر شرح منافع نہ بڑھانے پر پنجاب کے مختلف شہروں میں پٹرول پمپ دوسرے روز بھی بند رہے۔ شہری پٹرول کی تلاش میں خوار ہوتے رہے، کئی شہروں میں پٹرول ایجنسیوں پر پٹرول اور ڈیزل 3سو روپے تک فروخت ہوتا رہا۔ سرگودھا، جوہر آباد، خوشاب، بھلوال، بہاولپور، حاصل پور، اٹھارہ ہزاری، چیچہ وطنی، کمالیہ، پیرمحل، گوجرہ اور دیگر شہروں میں بھی پٹرول پمپوں کی ہڑتال گذشتہ روز بھی جاری رہی جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس میں سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید نے بتایا کہ سی این جی اور صنعت کو گیس بندش کا دورانیہ دو ماہ کے بجائے تین ماہ بھی ہو سکتا ہے۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی او جی ڈی سی ایل نے کہا کہ ملک میں آئندہ 2 سال میں 350 ملین کیوبک فٹ گیس، 7 ہزار بیرل خام تیل اور 870 ٹن ایل پی جی کی پیداوار بھی شروع ہو جائے گی۔ او جی ڈی سی ایل نے اب تک 672 کنوؤں کی کھدائی کی، 98 کنوؤں سے گیس ملی، او جی ڈی سی ایل کے پاس تیل و گیس کے 33 لائسنس بلوچستان اور کے پی کے میں گیس کی تلاش کے لئے ملے، سکیورٹی کی وجہ سے 10 لائسنسوں کے علاقے میں کام نہیں کر سکتے، جس میں 8 بلوچستان جبکہ 2 خیبر پی کے میں شامل ہیں، او جی ڈی سی ایل 43 ہزار بیرل یومیہ خام تیل نکال رہا ہے۔