جنگوں نے تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ باہمی تنازعات مل بیٹھ کر طے کرنے چاہئیں ۔ شہبازشریف

 جنگوں  نے تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ باہمی تنازعات مل بیٹھ کر   طے کرنے چاہئیں ۔  شہبازشریف

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان پرامن ملک ہے اور ہمسایہ ممالک سے قریبی اور دوستانہ تعلقات کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ اچھے معاشی اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے خواہشمند ہیں۔ پاکستان اور بھارت کو باہمی تنازعات مل بیٹھ کر بامقصد مذاکرات کے ذریعے طے کرنے چاہئیں۔ دونوں ملک تین جنگیں لڑ چکے جنہوں نے تباہی، غربت اور افلاس کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پاکستان اور بھارت کو اب معاشی میدان میں آگے نکلنا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف بھارت سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے فروغ کیلئے سنجیدہ ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر گریگ جیو اکاس اور افغانستان میں کینیڈا کی سفیر ڈی بورا لیونز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ان سے گذشتہ روز ملاقات کی۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن کے فروغ کیلئے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت باہمی تجارت کو فروغ دیکر معاشی طور پر مستحکم ہوسکتے ہیں اور اس سلسلے میں واہگہ بارڈر پر کسٹم کلیئرنس کا کام 24 گھنٹے جاری رہنا چاہئے جس سے دونوں ملکوں کو فائدہ پہنچے گا۔ بھارت کو کشمیر، پانی، سیاچین اور سرکریک کے متنازعہ ایشوز کے حل کیلئے بامقصد بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہئے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے مسائل کے انبار میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کو وسائل عوا م کی ترقی اور فلاح و بہبود پر صرف کرنے کیلئے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کیلئے مخلصانہ سوچ رکھتی ہے لیکن بھارت کی قیادت کو بھی پاکستان کی جانب سے خطے میں قیام امن کیلئے کی جانیوالی کوششوں کا مثبت جواب دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چند روز میں بھارت کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ بھارتی قیادت سے بھی ملاقات کریں گے۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے۔ افغانستان میں امن ہوگا تو خطے کی صورتحال میں بہتری آئیگی۔ پاکستان اور کینیڈا کے مابین باہمی تجارت کا حجم مزید بڑھانے کی ضرورت ہے اور اس مقصد کیلئے دونوں ملکوں کے مابین تجارتی وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلے ہونے چاہئیں۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے اس موقع پر کہا کہ وزیراعظم نوازشریف خطے میں امن کے قیام کیلئے بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان اور بھارت کو بھی اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے ہوئے باہمی تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملک معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا کر آگے بڑھیں اور عوام ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے مستفید ہوسکیں۔ افغانستان میں کینیڈا کی سفیر ڈی بورا لیونز نے کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلی بار پنجاب آئی ہیں اور انہیں پنجاب میں انفراسٹرکچر کی ترقی دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے حقیقی معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے مکمل کئے ہیں۔ علاوہ ازیں شہبازشریف سے گذشتہ روز ترکی کے سفیر صادق بابر گرگن نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی تاریخی دوستانہ رشتے میں جڑے ہوئے ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین دوستی محبت اور بھائی چارے کی لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔ پاکستان اور ترکی کے عوام یکجان دو قالب ہیں۔ ترکی کی متعدد کمپنیوں نے پنجاب میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے جس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ میٹرو بس پراجیکٹ پاک ترکی دوستی کی شاندار مثال ہے۔ میٹرو بسوں پر روزانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسافر سفر کر رہے ہیں۔ حکومت میٹرو بس پراجیکٹ کا دائرہ کار مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان تاریخی دوستی سودمند معاشی تعلقات میں بدل رہی ہے۔ ترکی نے مشکل کی ہر گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان کے دورہ پاکستان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ترکی کے سفیر صادق بابر گرگن نے کہا کہ ترکی پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پاکستان میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے کئی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف محنت، جذبے اور عزم کے ساتھ عوام کی خدمت کررہے ہیں۔