تاریخ ساز فیصلے دیکر عدالتی تاریخ میں شہرت پانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آج ریٹائر ہوجائینگے

تاریخ ساز فیصلے دیکر عدالتی تاریخ میں  شہرت پانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آج  ریٹائر ہوجائینگے

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پورے اعزاز کے ساتھ (آج) مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائر ہوجائینگے۔ وکلا کی مقبول اور طاقتور ترین شخصیت نے اپنے فیصلوں سے عوام میں پذیرائی پائی۔ جسٹس افتخار دو مرتبہ معزول کئے جانے کے بعد عوام کے دباؤ اور وکلا کی تحریک کے نتیجے میں بحال ہوئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کے بعد صوبہ بلوچستان کی سپریم کورٹ میں نمائندگی ختم ہوجائیگی۔ چیف جسٹس نے اہم ترین مقدمات کی سماعت کی اور تاریخ ساز فیصلے دیکر عدالتی تاریخ میں جو شہرت پائی وہ کسی اور جج کے حصے میں نہ آسکی۔ چیف جسٹس اپنی ریٹائرمنٹ پر آج کمرہ عدالت نمبر 1 میں فل کورٹ ریفرنس کی صدارت کرینگے۔ جسٹس افتخار دنیا بھر میں عدلیہ کے حوالے سے مختلف انعامات و اعزازات سے نوازے گئے۔ ریٹائرمنٹ کی تاریخ حروف تہجی کے اعتبار سے 11-12-13 یادگار بن گئی۔ سوموٹو ایکشن لینے کے حوالے سے مشہور چیف جسٹس کے دلیرانہ فیصلوں کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے۔ دیگر ممالک کے عدالتی فیصلوں سے آگاہی کے باعث دیگر ججز میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ انہیں امریکہ سے جاری ہونیوالے دی نیشنل لاء جرنل نے چیف جسٹس کو لائر آف دا ائر 2007ء کے ایوارڈ سے نوازا۔ دی نوا سائوتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف لاء کی اعزازی ڈگری دی۔ دی ایسوسی ایشن آف دی بار آف سٹی آف نیویارک نے انہیں عدلیہ اور وکلاء کی آزادی کا نشان قرار دیتے ہوئے ایسوسی ایشن کی اعزازی ممبر شپ سے نوازا۔ عدلیہ کی آزادی میں ثابت قدم رہنے پر ہارورڈ لاء سکول نے میڈل آف فریڈم دیا۔ افتخار محمد چودھری پہلے پاکستانی اور تیسرے شخص ہیں جنہیں میڈل آف فریڈم سے نوازا گیا۔ افتخار محمد چودھری سے پہلے یہ ایوارڈ نیلسن منڈیلا اور چارلس یملٹن ہاسٹن کو دیا گیا ہے۔ برطانیہ کی سپریم کورٹ کے صدر لارڈ فلپس نے انٹرنیشنل جسٹس ایوارڈ 2012ء پیش کیا۔ جسٹس افتخار کو انٹرنیشنل جسٹس ایوارڈ انٹرنیشنل جیورسٹ کونسل کی جانب سے پاکستان میں تمام تر مشکلات کے باوجود عدلیہ کی سربلندی قائم رکھنے پر پیش کیا گیا۔ بھارتی تنظیم پیٹا نے انہیں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مہلک پتنگ کے مانجھے پر پابندی لگانے پر ہیرو ٹو اینیمل ایوارڈ سے نوازا گیا۔اسلام آباد (ایجنسیاں) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ تاریخی جدوجہد کے بعد عدلیہ بحال ہوئی، عدلیہ نے بحالی کے بعد بہتر انداز میں کام کیا، (آج) ریٹائر ہو رہا ہوں، آنے والی عدلیہ بھی بہتر انداز میں کام کرے گی۔   وہ  سپریم کورٹ کے الوداعی  فل کورٹ اجلاس  کی صدارت کر رہے تھے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ فل کورٹ اجلاس بلانے کا مقصد انصاف کی فراہمی اور کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔ ماضی میں عدلیہ کو غیر فعال کیا گیا لیکن تاریخی جدوجہد کے بعد عدلیہ کی بحالی ہوئی۔ اس موقع پر  نامزد چیف جسٹس  تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ افتخار محمد  چوہدری مضبوط  اعصاب کے مالک ہیں اور ایک آمر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ چیف جسٹس ہاکی اور کرکٹ کے کپتان اور سپریم کورٹ کے ٹنڈولکر ہیں۔ چیف جسٹس نے اپنی اننگز بہترین انداز میں کھیلی۔ اس موقع پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ٹیم کا حصہ رہا ہوں اور اپنے پوتوں کو بھی بتائوں گا کہ میں نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ کام کیا ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ چیف جسٹس مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ان کی تعریف کیلئے الفاظ نہیں ہیں۔ اسلام آباد بار کے ظہرانے سے خطاب میں جسٹس افتخار نے کہا کہ انہیں  یقین ہے کہ سپریم کورٹ کی باگ ڈور محفوظ ہاتھوں میں جا رہی ہے، قانون کی مکمل حکمرانی تک جدوجہد جاری رہے گی۔ ادارے برقرار رہنے چاہئیں، شخصیات کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ شخصیات کی وقت پر تبدیلی سے اداروں میں بہتری آتی ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے اور امن لانے کے لئے قانون کی حکمرانی ناگزیرہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک معاشرے کے ہر فرد کو برابری کی بنیاد پر اس کے حقوق نہ مل جائیں قانون کی حکمرانی کے لئے شروع کی جانے والی جدوجہد جاری رہے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بینچ اور بار کے درمیان چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ہائیکورٹ بار نے انہیں بار کی رکنیت بھی دی۔سپریم کورٹ بار کے عشائیہ سے خطاب میں جسٹس افتخار نے کہا کہ جمہوریت پر شب خون مارنے کی ہمیشہ مخالفت کی گئی۔ وکلا اور ججز متحد ہوں گے تو آئین کی بالادستی آسان ہو گی۔ ادارے مستحکم ہوں تو کسی کو مجال نہیں کہ جمہوریت کو ڈی ریل کر سکے، اب نہ صرف عدلیہ، جمہوری حکومتیں بھی کام کر رہی ہیں۔