پنجاب کی طرف سے سیلاب زدگان کیلئے 25 ارب کے مطالبے پر غور کریں گے‘ ملتان میں بیس کیمپ قائم کردیا : وزیراعظم

لیہ + مظفر گڑھ ( نامہ نگار + اے پی پی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ متاثرین سیلاب کیلئے امداد کو شفاف انداز میں متاثرین تک پہنچانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے یہ بات یہاں مظفر گڑھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے مختصر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے ریلیف کیمپ کا بھی دورہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے جامع اقدامات کئے جا رہے ہیں، حکومت سوات اور مالاکنڈ کے بے گھر افراد کی بحالی کے تجربات کو بروئے کار لا رہی ہے۔ حکومت سیلاب سے متعلق صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، متاثرہ افراد کیلئے خوراک اور دیگر ضروری اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے اور ایسے افراد کو خوراک اور دیگر ضروری اشیاءپہنچانے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے جنوبی پنجاب میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے، سیلاب سے وسیع رقبہ پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، متاثرین کی امداد کے حوالہ سے ملتان میں بیس کیمپ قائم کر دیا گیا ہے، اس کیمپ کے ذریعہ ریلیف اور ریسکیو کی سرگرمیوں کو مربوط بنایا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنے دورہ کے دوران سیلاب سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور ان کے مسائل دریافت کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بڑے پیمانے پر نقصان کے باوجود حکومت متاثرہ افراد کی امداد کیلئے تمام کوششیں کر رہی ہے، متاثرین کو خوراک، پناہ اور طبی امداد فراہم کرنے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ نقصانات کا جائزہ لینے کے بعد متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کیلئے کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سیلاب کی صورتحال پر تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا ۔لیہ میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرین کی مدد کریں گی جبکہ امداد کی تقسیم کے حوالے سے وفاق اور صوبوں میں رابطے بہتر بنائے جائیںگے پنجاب کی طرف سے سیلاب زدگان کے لئے 25 ارب روپے کے مطالبے پر غورکیا جائیگا جبکہ حکومت پنجاب سے ملکر سیلاب زدہ علاقوں میں کام کریں گے۔ متاثرین کی بحالی کےلئے ترقیاتی کام بھی روکنا پڑے تو روک کر مدد کرینگے۔ گورنمنٹ کالج لیہ مےں ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عالمی برادری سے مصیبت کی اس گھڑی مےں اپیل کرتے ہےں کہ وہ ہماری مدد کرے پشاور سے لے کر رحیم یار خان اور سندھ کے کئی اضلاع آفات مےں گھرے ہوئے ہےں وفاق اور صوبوں کے درمیان کوئی تغاوت نہیں مشکل کی اس گھڑی مےں باہم اتفاق ہے۔ انہوں نے تمام اراکین اسمبلی سے درخواست کی کہ ان کا تعلق خواہ کسی بھی جماعت سے ہو متاثرین سیلاب کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کی مدد کریں۔ ادھر نجی ٹی وی کو انٹرویو مےں یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پوری قوم سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی کیلئے پرعزم ہے، کسی علاقے میں اشیائے خوردنی کی قلت نہیں ہونے دیں گے، بحالی میں تعاون کیلئے عالمی برادری سے رجوع کیا ہے، میاں نواز شریف ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور ان سے میرا رابطہ رہتا ہے، اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ عوام کو بچانے کے ایک نکاتی ایجنڈے پر پوری لیڈر شپ کو کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کانفرنس کا پہلے ایجنڈا دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقدامات تھا، اب صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور ہمیں قومی سلامتی کمیٹی کی طرف سے بھی کچھ سفارشات موصول ہوئی ہیں اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے جلد فیصلہ ہوگا۔