وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے رقوم کی فراہمی عارضی طور پر روک دی

لاہور (سلمان غنی) بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے رقوم کی فراہمی کے عمل کو عارضی طور پر روک دیا ہے جبکہ دو ماہ قبل پاس کئے جانے والے بجٹ میں بھی ترقیاتی بجٹ میں پاس کئے جانے والے منصوبوں اور ان کیلئے مختص کی جانے والی رقوم پر بھی نظرثانی ہو سکتی ہے۔ حکومتی ذمہ داران کے مطابق حالیہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی کے باعث جہاں ملک میں غیر معمولی اور ہنگامی حالات پیدا ہوئے ہیں وہاں بجٹ میں طے ہونے والی مالیاتی حکمت عملی اور ڈسپن پر اس طرح عمل پیرا ہونا مشکل ہے خصوصاً سیلاب زدہ علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر اور متاثرین کی بحالی کے عمل پر اٹھنے والے اربوں کے اخراجات کیلئے حکومتوں کو اپنے اخراجات خصوصاً ترقیاتی پروگرام پر یکسر نظرثانی کرنا ہو گی اور وفاق پختونخوا اور پنجاب کی سطح پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ترقیاتی اخراجات کا بڑا حصہ اب صرف متاثرہ علاقوں میں ذرائع مواصلات کی بحالی پر خرچ ہو گا۔ دوسری جانب خود حکومتوں کی جانب سے غریب عوام کیلئے شروع کی جانے والی سکیموں خصوصاً بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور خصوصاً پنجاب میں جاری سستی روٹی سکیم کے اس طرح جاری رہنے کا امکان نہیں۔ پنجاب حکومت کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی سطح پر عارضی طور پر اب سستی روٹی سکیم کیلئے جاری کئے جانے والے فنڈز متاثرہ اضلاع میں متاثرہ عوام کو خوراک اشیائے ضروریات کی فراہمی پر صرف ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پیدا شدہ صورتحال میں عملاً سستی روٹی سکیم کو عارضی طور پر ختم ہی سمجھا جائے۔ وفاقی وزارت خزانہ کے ایک اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی و بربادی کے باعث انہیں بھی ایسی ہدایات ہیں کہ غیرمعمولی صورتحال کے پیش نظر اس ترقیاتی منصوبوں کیلئے رقوم جاری نہ کی جائیں اور اس حوالہ سے سیلاب زدہ علاقوں اور متاثرین کی ریلیف کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے۔