صوبہ خیبر پختونخوا میں بارشوں کے باعث سیلاب زدہ علاقوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جس سے متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں بارشوں کے باعث سیلاب زدہ علاقوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جس سے متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر دو لاکھ اسی ہزار کیوسک کا سیلابی ریلہ گزررہا ہے۔ بارشوں کے باعث دریا کے قریبی علاقوں نوشہرہ کلاں، امان کوٹ، پشتون گڑھی اور محب بانڈہ میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نوشہرہ کا دیگر علاقوں سے رابطہ ابھی تک بحال نہیں ہوسکا ، جس کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والوں کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پاک فوج اور انتظامیہ کی جانب سے  امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، لوگوں کواشیائے خوردونوش اورادویات  فراہم کی جارہی ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے نوشہرہ میں متاثرین کے لیے مزید دو کیمپ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد علاقے میں ریلیف کیمپوں کی تعداد چارہوجائے گی ۔ چارسدہ کے مختلف علاقوں میں بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ادھر ڈیرہ اسماعیل خان کے بیشتر سیلاب زدہ علاقوں میں لوگ ابھی تک کھلے آسمان تلے حکومتی امداد کے منتظرہیں۔ ان علاقوں میں وبائی امراض میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ادھرسیلابی ریلے نے بلوچستان کےبھی وسیع علاقے کو متاثرکیا ہے۔ سیلاب سے ہرنائی شہرمیں سینکڑوں مکانات منہدم ہوگئے ہیں اورکوئٹہ جانے والی شاہراہ ابھی تک ڈوبی ہوئی ہے۔ غریب آباد ، جلال آباد اور سعید آباد سمیت مختلف علاقوں میں پانی کھڑا ہے  ۔ ہرنائی میں پلوشین بند کولوگوں نے  اپنی مدد آپ کے تحت بند کردیا ہے ۔ دریائے ناڑی میں پانی کی سطح میں کمی کے بعد مختلف علاقوں سے فلڈ وارننگ واپس لے لی گئی ہے۔