دریائے سندھ میں سکھر بیراج اور گدو بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے ،کچے کے متعدد علاقے بدستور زیرآب ہیں ۔

دریائے سندھ میں سکھر بیراج اور گدو بیراج کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے ،کچے کے متعدد علاقے بدستور زیرآب ہیں ۔

گدوکے مقام پر پانی کی آمد دس لاکھ چھتیس ہزارسات سو پچاس کیوسک، اوراخراج دس لاکھ چھتیس ہزار دو سو پندرہ کیوسک ہے، سکھر بیراج میں پانی کی آمد گیارہ لاکھ بیس ہزار نو سو نوے کیوسک جبکہ اخراج گیارہ لاکھ آٹھ ہزار سات سو پچانوے کیوسک ہے۔ یہاں پانی کے بہاؤ میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔ سندھ میں اس وقت کندھکوٹ، لاڑکانہ سمیت مختلف اضلاع سیلاب کی لپیٹ میں ہیں، جبکہ کندھکوٹ کے علاقے غوث پور، کرم پوراور دڑی  میں ایک سو سے زائد دیہات ڈوب گئے ہیں، جس کے باعث کندھکوٹ کا اسی فیصد علاقہ خالی کرالیا گیا ہے اور کوٹری پُل آمدورفت کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ  تمام اہم مقامات اور حفاظتی پشتوں پر فوج کے جوانوں کو تعینات کردیا گیا ہے، عمرکوٹ میں ممکنہ امکانی سیلاب کے پیش نظر انتظامیہ نے چار شہروں اور تیس سے زائد دیہات کو حساس قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب ٹنڈو محمد خان انتظامیہ نے ملاکاتیار کے مقام پر دریا میں پانی کا بہاؤ بڑھنے کے باعث مختلف علاقوں کو حساس قرار دیتے ہوئے مقامی آبادی کو چوبیس گھنٹوں میں وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کی ہے، جھڈو شہر کے وسط سے گذرنے والی ندی اور جھڈو نوکوٹ سے گذرنے والے سیم نالے میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث سینکڑوں دیہات زیرآب آنے  کا خدشہ  ہے، دوسری جانب اونچے درجے کا سیلاب ہونے کی وجہ سے صحرائی علاقوں کو پانی کی فراہمی کے لئے بنائی گئی رینی کینال میں پانی چھوڑنے سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ جیکب آباد کے علاقے ٹھل کے قریب الہٰ آباد نہر میں چوڑا شگاف پڑنے سے پچاس دیہات زیرآب آگئے ہیں۔