گجرات فسادات میں سینکڑوں مسلمانوں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ’’امیت شاہ‘‘ بی جے پی کا صدر بن گیا

گجرات فسادات میں سینکڑوں مسلمانوں کے قتل کا ماسٹر مائنڈ ’’امیت شاہ‘‘ بی جے پی کا صدر بن گیا

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بی جے پی کے پارلیمانی اور ایگزیکٹو بورڈز نے گجرات میں 12 سال قبل سینکڑوں مسلمانوں کو فسادات کی آڑ میں مروانے اور زندہ جلانے کے ماسٹر مائنڈ انتہاپسند اور پارٹی کے موجودہ سیکرٹری جنرل امیت شاہ کو راج ناتھ سنگھ کی جگہ پارٹی کا نیا صدر مقرر کردیا ہے۔ امیت شاہ بی جے پی فسادی ہندو تنظیم آر ایس ایس اور دیگر جماعتوں سے ملکر بنائے گئے انتہاپسند ہندوئوں کے حکمران اتحاد ’’این ڈی اے‘‘ کے بھی سربراہ ہونگے۔ نئی دہلی میں گزشتہ روز اس حوالے سے پارٹی اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے بی جے پی کے موجودہ صدر اور بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ امیت شاہ کے بطور صدر انتخاب میں آر ایس ایس کی قیادت بھی صلاح و مشورہ کرکے منظوری لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ بہترین انتظامی سیاسی صلاحیتوں کے حامل شخص ہیں جن کے کام کے باعث بی جے پی اتر پردیش اور لوک سبھا کے انتخابات میں کامیاب ہوئی۔ واضح رہے کہ 49 سالہ امیت شاہ بی جے پی میں نریندر مودی کی ناک کا بال سمجھا جاتا ہے یہ شخص بابری مسجد شہید کرانے والی انتہاپسند ہندو جماعت راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ میں رضاکار کے طور پر 1980ء کے اوائل میں بھرتی ہوا اور 1986ء میں اسے بی جے پی میں شفٹ کردیا گیا۔ 2002ء میں امیت شاہ جب گجرات کا وزیر داخلہ اور نریندر مودی وزیراعلیٰ تھا گودھرا میں ہندو زائرین کی ٹرین جلائے جانے کے بعد ردعمل کے نام پر اس نے مودی کو فسادات کی آڑ میں مسلمانوں کو سبق سکھانے کی ترغیب دی۔ نتیجتاً جگہ جگہ فسادات ہوئے۔ 5 ہزار کے قریب مسلمان جن میں عورتیں بوڑھے بچے بھی تھے، سرعام اور بیدردی سے قتل کردیئے گئے۔ اکثر کو زندہ جلا دیا گیا۔ بیسٹ بیکری کا سانحہ اس حوالے سے نمایاں ہے۔ فسادات کے دوران امیت شاہ نریندر مودی کے آپریشنل کمانڈر کے طور پر کام کرتا رہا اور پولیس کو ہندو فسادیوں کیخلاف کارروائی اور مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے سے سختی سے روک دیا۔ امیت شاہ کے حکم پر 2006ء میں ممبئی کی مسلمان طالبہ عشرت جہاں کو جو گجرات میں رشتہ داروں سے ملنے آئی تھی، کو 5 دیگر مسلمانوں سمیت جہادی قرار دیکر جعلی پولیس مقابلے میں مروا دیا۔ اس کے علاوہ 2010ء میں سہراب الدین شیخ سمیت کئی بے گناہ مسلمانوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کرانے کے دھبے بھی امیت کے دامن پر لگے ہیں اور مقدمات اب بھی اس کے خلاف چل رہے ہیں۔ امیت شاہ کو بی جے پی کا سب سے کم عمر صدر بھی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے صدر بننے سے بی جے پی عملاً نریندر مودی کے قبضے میں چلی گئی ہے۔