نوازشریف سے جنرل راحیل کی ملاقات‘ وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن کے تمام مقاصد حاصل کرینگے: آرمی چیف

نوازشریف سے جنرل راحیل کی ملاقات‘ وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن کے تمام مقاصد حاصل کرینگے: آرمی چیف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم نواز شریف سے آرمی چیف  راحیل شریف  نے وزیراعظم ہائوس  میں ملاقات کی جس میں شمالی  وزیرستان میں جاری  آپریشن ضرب عضب  سمیت قومی سلامتی  کے امور پر غور کیا گیا۔ آرمی چیف  نے اپنے حالیہ دورہ شمالی وزیرستان  کی تفصیلات سے وزیراعظم  کو آگاہ کیا اور آپریشن  ضرب عضب  میں حاصل کی گئی کامیابیوں  کے بارے میں بتایا۔ آرمی چیف  نے بتایا کہ آپریشن  ضرب عضب پلان کے مطابق کامیابی سے جاری ہے۔  انہوں نے آئی  ڈی پیز کی موجودہ  صورتحال اور پاک فوج کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔  اس موقع پر وزیراعظم نے آپریشن میں حصہ لینے والے جوانوں  اور افسروں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن ضرب  عضب کی کامیابی  سے پاکستان مضبوط اور خوشحال  ملک بنے گا۔ آپریشن  کے نتیجہ میں ملک میں امن قائم ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کم نقصان  کے ساتھ آپریشن  کو کامیابی کی طرف لے جا رہی ہے۔  جوانوں کی مہارت کے باعث آپریشن میں عوام کا نقصان  نہیں ہو رہا۔  وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نقل مکانی  کرنے والوں کی بحالی کے لئے جامع منصوبہ  بندی  کر لی ہے۔  آپریشن کی کامیابی  کے بعد متاثرین  کی بحالی کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ وزیراعظم  کا کہنا تھا کہ فوج سمیت تمام اداروں کا مربوط  انداز میں کام کرنا باعث  اطمینان ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ شمالی  وزیرستان کے عوام نے ملکی سلامتی  کے لئے  اپنا  گھر بار چھوڑا۔  وزیراعظم نے مختصر وقت  میں آپریشن کو کامیاب بنانے پر چیف  آف آرمی سٹاف  جنرل  راحیل شریف  کے کردار کو سراہا۔ این این آئی کے مطابق جنرل راحیل نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب پلان کے مطابق کامیابی سے جاری ہے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق آپریشن کے تمام مقاصد حاصل کئے جائینگے۔ آئی این پی کے مطابق سیاسی اور عسکری قیادت نے  شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خاتمہ کیلئے جاری آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچنے تک جاری رکھنے  کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جائے گا‘   بلا تفریق تمام دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ کیا جائیگا‘  شمالی وزیرستان آپریشن  کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے والے  متاثرین قوم کے محسن ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک میں امن و امان چاہتی ہے ہم کسی کو مخصوص ایجنڈا  کو آگے بڑھانے، ذاتی مقاصد کیلئے ملکی امن سے نہیں کھیلنے دینگے‘  آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ اسی مقصد کیلئے کیا گیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو لاحق خطرات  کے پیش نظر انتظامیہ جب چاہے فوج کو طلب کر سکے۔ ہماری افواج  ملکی استحکام اور قومی سلامتی کی ضامن ہے۔  فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن سے ایک بار پھر اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ملک اور قوم کو دہشت گردی کی لعنت سے نجات دلانے اور اپنی آئندہ نسلوں کو محفوظ بنانے کیلئے  جو قربانیاں دی ہیں قوم انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔  وزیراعظم نے کہا  حکومت متاثرین کی مکمل بحالی تک  ان کے ساتھ ہے اور اس کے لئے جتنے بھی فنڈز  درکار ہونگے وہ مہیا کئے جائینگے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں افغان صدارتی انتخابات  کے نتائج کے اعلان کے  بعد  پیدا صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔  آرمی چیف نے افغانستان کے اندر سے ہونے والی کارروائیوں سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ علاوہ ازیں حکومت کی طرف سے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے نیکٹا کا چئرمین میجر جنرل رینک کے سینئر افسر کو بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔