اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیکٹا کے سربراہ کو ہٹا دیا‘ ادارہ کو دوبارہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ماتحت کرنے کا حکم

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیکٹا کے سربراہ کو ہٹا دیا‘ ادارہ کو دوبارہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے ماتحت کرنے کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ + نیٹ نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسدادِ دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کے سربراہ عامر اشرف خواجہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کے 15 جولائی 2013ء کے بعد کئے جانے والے تمام فیصلے بھی کالعدم قرار دے دئیے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس نورالحق قریشی نے اس ضمن میں دائر ہونے والی مختلف درخواستوں پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی قواعد وضوابط سے ہٹ کر کی گئی تھی۔ عدالت نے نیکٹا کو وزراتِ داخلہ کے ماتحت کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے اس ادارے کو دوبارہ وزیرِاعظم سیکرٹریٹ کے ماتحت کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے نیکٹا کے 6 برطرف ملازمین بھی بحال کردیئے ہیں۔ حکومت نے ملک میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کو متحرک کیا تھا اس ضمن میں فوج اور سویلین خفیہ اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ شدت پسندوں سے متعلق خفیہ معلومات نیکٹا کو فراہم کریں، تاکہ خفیہ اداروں میں رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کے مطابق اس وقت ملک میں 26 کے قریب فوجی اور سویلین خفیہ ادارے کام کر رہے ہیں اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا فقدان ہے۔ وفاقی حکومت نے گذشتہ برس نیکٹا کو وزارتِ داخلہ کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ وزارتِ داخلہ کے ادارے نیشنل کرائسس مینجمنٹ سیل کو بھی ختم کر کے اس کو بھی نیکٹا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ وزارتِ داخلہ کے چار افسروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں خواجہ عامر کی تعیناتی اور ان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواستوں میں کہا گیا تھا کہ اس ادارے کے سربراہ کے لئے اس شخص کی سکیورٹی کلیرنس آئی ایس آئی کے سربراہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ عدالت عالیہ کا کہنا ہے نیشنل کائونٹر ٹیرارزم اتھارٹی کے انتظامی امور وزارت داخلہ کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن آئین سے متصادم ہے۔