اسرائیلی حملے جاری‘ خواتین بچوں سمیت مزید 27 فلسطینی شہید‘ زمینی کارروائی کی دھمکی

اسرائیلی حملے جاری‘ خواتین بچوں سمیت مزید  27 فلسطینی شہید‘ زمینی کارروائی کی دھمکی

غزہ+ اسلام آباد+ واشنگٹن (اے ایف پی+ نوائے وقت رپورٹ+ سٹاف رپورٹر) غزہ میں اسرائیل کی جارحیت اور حملوں میں شدت آ گئی گزشتہ 3روز سے جاری بمباری اور میزائل حملوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد سمیت 51فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ گزشتہ روز تازہ کارروائی میں 15خواتین اور 7بچوں سمیت مزید 27فلسطینی شہید ہوئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 370ہے۔ شہید ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 7افراد بھی شامل ہیں۔ ادھر حماس نے اسرائیل کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے نیو اتم ائیر بیس پر راکٹوں سے حملہ کر کیا۔ اسرائیل نے تین روز سے جاری آپریشن دفاعی کنارے کے نام پر غزہ کو ایک بار پھر ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ اسرائیل نے صبح سویرے بیت ہنون پر بمباری کی جس کے نتیجے میں حافظ احمد اور ان کے پانچ اہل خانہ شہید ہو گئے۔ ایمرجنسی سروسز کے ترجمان نے بتایا کہ تباہ ہونے والا گھر القدس بریگیڈ کے کمانڈر کا تھا۔ حماس نے اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کے لئے ڈیڑھ سو سے زائد راکٹ داغے اور نیو اتم میں اسرائیلی ائیر بیس کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلسطینی عوام نے مغربی کنارے میں واقع اسرائیلی بیس کے سامنے احتجاج کیا۔ مظاہرین نے ٹائر جلائے اور اسرائیلی فوج پر پتھراؤ کیا۔  اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے بھرپورطاقت کا استعمال کیا۔ دریں اثناء  سمندر کے راستے سے اسرائیل میں داخل ہونے والے 4 فلسطینی مزاحمت کار اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں شہید ہو گئے۔ اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کیلئے حماس نے نئی حکمت عملی اختیار کی ہے اور غزہ سے اسرائیل کے جنوبی ساحلی علاقے میں مزاحمت کار بھیجے گئے، جن کی اسرائیلی فورسز سے شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں اسرائیل کی نیوی، فضائیہ اور زمینی فوجوں نے حصہ لیا۔ جھڑپوں میں اسرائیلی فوج نے چار مزاحمت کاروں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ غزہ میں موٹر سائیکل پر ڈرون حملے میں ایک شخص مارا گیا۔ اسرائیلی فوجی  ترجمان نے رات بھر فضائی حملوں میں 160 اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ فلسطینی کمانڈوز کے صہیونی بیس پر حملے میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔ادھر پاکستان، ایران اور اردن  نے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی کاز اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق تازہ حملے میں شہید ہونے والے خواتین اور بچے تھے۔ المفازی کے قریب ایک گھر پر میزائل حملے میں ماں اور اس کے 4بچے شہید ہو گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا  موقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد حماس کی جانب سے اسرائیل میں راکٹ حملوں کو روکنا ہے جبکہ آئندہ چند روز میں حملوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا، اسرائیل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے راکٹ حملے نہ روکے تو زمینی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ ادھرحماس نے اسرائیل کی جانب سے میزائل حملے میں بچوں کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اب تمام اسرائیلی ان کے ٹارگٹ پر ہیں، حماس کے ترجمان سمیع ابو زہری نے کہا کہ بچوں کی شہادت انسانیت سوز اقدام ہے جس کا بدلہ لیا جائے گا۔ دریں اثناء وزیراعظم نوازشریف نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت ناقابل قبول اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل نے غیرمسلح اور نہتے فلسطینیوں کے خلاف ہمیشہ طاقت کا بیہمانہ اور وحشیانہ استعمال کیا۔ اسرائیلی جارحیت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہے۔ پاکستانی عوام غزہ کے عوام کے ساتھ ہیں، پاکستان فلسطینیوں کی آزاد اور خودمختار ریاست کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ دریں اثناء اے ایف پی کے مطابق اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ فلسطینی جنگجوئوں کی طرف سے راکٹ حملے میں اسرائیلی نیوکلیئر ری ایکٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حماس کی طرف سے 3راکٹ فائر کئے گئے، 2کھلی جگہ پر گرے جبکہ ایک ایٹمی ری ایکٹر ڈاٹمونا کے قریب گرا حملے میں اسرائیل میزائل ڈیفنس پروگرام کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جینفر ساکی نے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسرائیل پر ہونے والے حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اس کے باوجود امریکہ نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل نے حملے مزید بڑھانے کے ساتھ زمینی کارروائی کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔ شمعون پریز نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کی کارروائایں نہ رکھیں تو زمینی آپریشن ہو گا۔