کمیٹی کی ملاقات کامیاب: طالبان آئینی دائرے میں مذاکرات ‘ مشروط جنگ بندی پر تیار

کمیٹی کی ملاقات کامیاب: طالبان آئینی دائرے میں مذاکرات ‘ مشروط جنگ بندی پر تیار

 پشاور/اسلام آباد (آئی اےن پی + آن لائن+ این این آئی) طالبان کمیٹی کی شمالی وزیرستان میں طالبان رہنماﺅں سے نامعلوم جگہ پر ہونے والی ملاقات کامیاب رہی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق طالبان رہنماﺅں نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات آگے بڑھانے اور دوطرفہ جنگ بندی پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے‘ طالبان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ حکومت بھی جنگ بندی کا اعلان کرے۔ طالبان نے مولانا سمیع الحق کو شمالی وزیرستان آنے کی دعوت دی ہے، حکومتی اور طالبان کمیٹیوں میں مذاکرات کا دوسرا دور بدھ کو متوقع ہے۔ طالبان قیادت کی طرف سے اپنی کمیٹی کو حکومتی کمیٹی کو پیش کرنے کیلئے دی گئی شرائط اور آئندہ کیلئے مذاکرات کا مینڈیٹ حاصل کرکے کمیٹی شمالی وزیرستان سے واپس پہنچ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بات چیت میں طالبان کی طرف سے قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پر کئی پہلوﺅں سے غور کیا گیا۔ طالبان قیادت نے اپنے بعض قیدیوں کی فہرست کمیٹی کو دی جسے حکومتی کمیٹی کو پیش کرکے رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ دوسری طرف ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپنے ان قیدیوں کے بدلے میں طالبان نے پروفےسر اجمل ‘شہر ےار تاثےر‘ علی حیدر گےلانی ‘واپڈا اور اےف سی کے اہلکاروں کی مشروط رہائی پر آمادگی کا اظہار کر دےا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کی سےاسی کمےٹی کے سربراہ قاری شکےل نے مذاکراتی کمےٹی سے کہا ہے کہ اگر حکومت طالبان کے43اہم رہنماﺅں اور 800 قےد ارکان کو رہا کر دے ‘ فورسز کی تعےناتی روک دی جائے تو ہم اسکے بدلے مےں اپنے پاس قےد پروفےسر اجمل‘ شہر ےار تاثےر‘ علی موسیٰ گےلانی‘ واپڈا اور اےف سی کے اہلکاروں کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کےلئے بھی تےار ہےں۔ طالبان نے مذاکراتی کمیٹی کو مکمل اختیارات دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اعلان آئندہ ایک دو روز میں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی ارکان نے سیاسی شوریٰ کے علاوہ طالبان کے اہم کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمیٹی اور طالبان شوریٰ میں اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ حکومتی کمیٹی سے دوسری ملاقات سے قبل ہی طالبان قیادت جنگ بندی کا اعلان کر سکتی ہے۔ طالبان قیادت نے طالبان کمیٹی کو مختلف مطالبات پیش کئے۔ طالبان کمیٹی نے سیاسی شوریٰ کو حکومتی پیغام سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان مذاکرات میں مخلص ہے، طالبان حملے نہ کریں، مذاکراتی عمل میں ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو حکومت کے دائرہ کار سے باہر نہ ہو مذاکراتی کمیٹی کو مکمل بااختیار بنایا جائے۔ طالبان کی سیاسی کمیٹی نے مولانا سمیع الحق کو آج شمالی وزیرستان آنے کی دعوت دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ طالبان کی سیاسی کمیٹی مولانا سمیع الحق کو حکومتی کمیٹی سے ہونے والی ملاقات اور تجاویز سے آگاہ کرے گی، طالبان اپنا اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مولانا سمیع الحق نے بھی شمالی وزیرستان جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ وہاں ان کا آج جانے کا امکان ہے۔ مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ کمیٹی طالبان کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ایک اور نجی ٹی وی کے مطابق مذاکراتی ٹیم نے مرکزی اور سیاسی شوریٰ کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔ بعد میں سیاسی شوریٰ کے سربراہ قاری شکیل اور مرکزی نائب امیر شیخ خالد حقانی نے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور معاملات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق طالبان کی سیاسی شوریٰ اور مذاکراتی کمیٹی کے درمیان اجلاس میں طالبان نے ابتدائی طور پر پندرہ مطالبات پیش کر دئےے ہیں۔ جن میں کہا گیا ہے کہ ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں، پاکستان کے عدالتوں میں شرعی نظام نافذ کیا جائے، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں اسلامی نظام تعلیم نافذ کیا جائے، جیلوں میں ملکی اور غیرملکی قیدیوں کی رہائی، قبائلی علاقوں میں آپریشن اور ڈرون حملوں میں تباہ شدہ مکانات، سرکاری املاک کی ازسرنو تعمیر اور نقصانات کا ازالہ، قبائلی علاقوں کا کنٹرول مقامی فورس کے حوالے کرنا، ایف سی کو قلعوں کے اندر رہنے دیا جائے، قبائلی علاقے سے فوج کی واپسی اور چیک پوسٹ کا خاتمہ، تحریک طالبان کے خلاف تمام مقدمات کے اخراج، قیدیوں کا تبادلہ، امیر اور غریب کے یکساں حقوق کی فراہمی، آپریشن اور ڈرون حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے رشتہ داروں کو معاوضہ اور سرکاری نوکریاں دینے، طالبان کمانڈرز کے لئے عام معافی کے اعلان، دہشت گردی میں امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے کا باضابطہ اعلان، جمہوری نظام کو ختم کرکے شرعی نظام کا نفاذ اور سودی نظام کا خاتمہ شامل ہیں۔ این این آئی کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے جنگ بندی پر مشروط آمادگی ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سیز فائر کےلئے تیار ہیں اور حکومت بھی جنگ بندی کا اعلان کرے، نجی ٹی وی کے مطابق طالبان نے حکومت کی اکثر شرائط مان لی ہیں جس میں آئین کے دائرے میں مذاکرات کا نکتہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں حکومتی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور پر بات چیت کی گئی۔ طالبان نے کہاکہ مذاکرات قرآن و سنت کے مطابق کئے جائیں، طالبان اکثریتی علاقوں سے فوجی دستوں کی واپسی اور کئی طالبان رہنماﺅں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ سیاسی شوریٰ کے سربراہ قاری شکیل اور مرکزی نائب امیر شیخ خالد حقانی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ بعض ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے پہلے روز کے اجلاس میں مذاکراتی کمیٹی کے ارکان کو تین مطالبات دیئے۔ طالبان نے اب یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے موقف ظاہر کیا کہ مذاکراتی عمل شریعت کے مطابق جاری رہنا چاہئے، ہمارے لئے آئین سے زیادہ شریعت مقدم ہے جس پر کمیٹی نے کہاکہ حکومت مذاکرات میں مخلص ہے طالبان حملے نہ کریں، ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو حکومت کے دائرہ کار سے باہر نہ ہو۔ ایک انٹرویو میں مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے حکومت کی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کو مفید قرار دیتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف مذاکرات کے حوالے سے مخلص ہیں، قوم بھی مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعاگو ہے۔ طالبان کی سیاسی شوری نے مذاکراتی کمیٹی کو مکمل سکیورٹی فراہم کی۔ ذرائع کے مطابق طالبان کی جانب سے ابتدائی مرحلے میں شریعت کے نفاذ کی شرط نہیں رکھی گئی تھی، پہلے مذاکرات کیلئے سازگار ماحول اور دونوں طرف سے کارروئیوں کا بند ہونا ضروری ہے۔ آن لائن کے مطابق طالبان نے شریعت کے نام پر مذاکرات ناکام بنانے کی کسی بھی کوشش کا حصہ بننے سے انکار کر دیا ہے ۔ طالبان کی سیاسی شوری سے ملاقات کے بعد بہت سے خدشات دور ہوگئے۔ طالبان کی جانب سے رکھی گئی شرائط پر بھی گفتگو ہوئی ۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کے سینئر رہنماﺅں نے لال مسجد کے مولانا عبد العزیز سے بھی بات کی۔ طالبان نے مولانا محمد یوسف شاہ اور پروفیسر ابراہیم پر واضح کردیا کہ نفاذ شریعت ان کا حقیقی مقصد ہے لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے سازگار ماحول کی ضرورت ہے، ساز گار ماحول اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک پاکستان میں امن قائم نہیں ہوگا، وہ کسی بھی صورت میں شریعت کی بنیاد پر مذاکرات کے عمل کو ناکام نہیں ہونے دیں گے، مولانا عبد العزیز کو بھی یہ سمجھایا ہے کہ جو مقصد ان کا ہے وہی مقصد ہمارا بھی ہے۔ طالبان نے آئین کی بعض دفعات پر تحفظات کا اظہار کیا لیکن وہ اس پر بعد میں بات کریں گے۔ حکومت اور طالبان دونوں ہی جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں۔ طالبان نے کہاکہ ہمارے قیدی رہا کئے جائیں جس پر مولانا محمد یوسف اور پروفیسر ابراہیم نے فوری طور پر کہا کہ اس شرط سے کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ صرف ہمارے قیدی حکومت کے پاس نہیں۔ ایف سی اور سکیورٹی فورسز کے لوگ ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس مطالبے پر جو لوگ مذاکرات کے مخالف ہیں وہ یہ سوال اٹھائیں گے کہ جن لوگوں پر سنگین الزامات ہیں حکومت ایسے قیدیوں کو رہا کیوں کرے جس کی آئین و قانون اجازت نہیں دیتا۔ طالبان کا کہنا تھا کہ ہمارے اکثر قیدیوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا اگر پیش کیا گیا ہے تو ان پر کوئی مقدمہ ثابت نہیں ہوا۔ حکومت آئین کے اندر رہ کر ہم سے بات کر سکتی ہے۔ قبائلی علاقوں سے فوج کی واپسی پر کمیٹی کا کہنا تھا کہ یہ بہت مشکل ہے۔ ثناءنیوز کے مطابق طالبان سے بات چیت کرنے والے ارکان پروفیسر محمد ابراہیم اور مولانا یوسف شاہ نے سمیع الحق سے رابطہ کیا اور ابتدائی بات چیت سے آگاہ کیا اس سلسلے میں حکومتی کمیٹی سے رابطے کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپی کے پرویز خٹک نے بتایا ہے کہ سیکورٹی کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی جانب سے ثالثی کمیٹی کو مکمل سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ کمیٹی کے ساتھ تعاون کیا جارہا ہے بندوبستی علاقے ہمارے دائرہ اختیار میں ہیں اس حوالے سے سیکورٹی فراہم کی ہے۔ گورنر خیبر پی کے کو بھی شمالی وزیرستان ایجنسی کی پولیٹیکل انتظامیہ کے ثالثی کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے خصوصی ہدایات کی گئی ہیں اس ضمن میں گورنر سے وفاق نے رابطہ کیا تھا۔ تحریک طالبان پاکستان نے ایک بار پھر پشاور میں ہونے والے واقعات سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ملک میں قیام امن کیلئے بیرونی عناصر کی نشاندہی اور غیر ملکی سیکورٹی ایجنسیوں کے کارندوں کی موجودگی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے، مفاہمت کیلئے فریقین میں بعض معاملات پر لچک کا مظاہرہ کرنے کا قوی امکان ہے۔ جمعیت علمائے اسلام (س) کے رہنما سید احمد شاہ نے کہا ہے کہ طالبان رہنماﺅں سے ملاقات کے بعد واپس آکر مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم اور رابطہ کار یوسف شاہ نے مولانا سمیع الحق کو مثبت رپورٹ دے دی جس میں کہا گیا ہے کہ دورہ کامیاب رہا۔ مذاکرات انتہائی مثبت رہے ہیں، طالبان رہنماﺅں کی طرف سے انتہائی مثبت رویے کا اظہار کیا گیا۔ طالبان رہنماﺅں کی طرف سے کوئی ایسی شرط عائد نہیں کی گئی جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔
اسلام آباد (آن لائن) حکومت اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کیساتھ مذاکرات نتیجہ خیز اور کامیاب بنانے کے لئے افغان طالبان کا تعاون حاصل کیا جائے، اس کے ساتھ ہی مذاکراتی عمل کے سلسلے میں حقانی نیٹ ورک سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکومت اس وقت منتظر ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کے حوالے سے ابتدائی ردعمل کیا سامنے آتا ہے، طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے تشکیل کردہ حکومتی کمیٹی کے ذریعے چند اہم نکات تحریک طالبان کی قیادت کے سامنے رکھے جا رہے ہیں جیسا کہ ان مذاکرات کا آئین پاکستان کے دائرے میں ہونا اور بات چیت اور مذاکراتی عمل کا اطلاق شورش زدہ علاقوں پر ہونا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے حکومت دیکھے گی کہ طالبان کی قیادت ان اہم نکات پرکس طرح کا ردعمل ظاہر کرتی ہے، اگر یہ ردعمل مثبت ہوتا ہے تو اس بات کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ ملا عمر کی قیادت میں افغان طالبان سے رجوع کیا جائے تاکہ وہ پاکستانی طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکیں اور ان کو اپنے موقف میں نرمی اور امن کے قیام کے حوالے سے سنجیدہ طرز عمل اختیار کرنے کے لئے کہا جائے۔ حقانی نیٹ ورک کو خاصا اثر و رسوخ حاصل ہے، افغان طالبان کیساتھ ساتھ اس نیٹ ورک کو بھی تحریک طالبان پاکستان کیساتھ کامیاب مذاکرات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ماضی میں بھی پاکستانی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کیساتھ ہونیوالے کچھ امن معاہدوں میں افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک اپنا کردار ادا کرچکے ہیں، ایسا ہی معاہدہ شمالی وزیرستان کے اہم طالبان رہنما حافظ گل بہادر اورشمالی وزیرستان کی انتظامیہ کے درمیان ہوا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان کمیٹی اور تحریک طالبان کی سیاسی شوریٰ نے بات چیت کا ابتدائی مرحلہ کامیابی سے طے کرلیاہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ طالبان قیادت نے اپنی نامزد کمیٹی کو مکمل مذاکراتی اختیارات تفویض کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کا اعلان آئندہ 24سے 48گھنٹوں میں متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کمیٹی اور طالبان شوریٰ میں اس بات پر اتفاق ہوگیا ہے کہ حکومتی کمیٹی سے دوسری ملاقات سے قبل ہی طالبان قیادت سیز فائر کا اعلان کرسکتی ہے۔ طالبان قیادت نے طالبان کمیٹی کو آگاہ کردیا ہے کہ طالبان سیز فائر کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ حکومت بھی سیز فائر کا اعلان کرے ۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کمیٹی نے حکومتی پیغام سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان مذاکرات میں مخلص ہے طالبان حملے نہ کریں، مذاکراتی عمل میں ایسا راستہ اختیار کیا جائے، جو حکومت کے دائرہ کار سے باہر نہ ہو اور مذاکراتی کمیٹی کو مکمل بااختیار بنایا جائے ،اطلاعات ہیں کہ حکومتی پیغام اور آئین کے دائرہ کار میں مذاکرات کی شرائط سمیت دیگر امور پر طالبان قیادت غور کررہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مولانا سمیع الحق بھی جلد شمالی وزیرستان روانہ ہوں گے، آئندہ 48گھنٹوں میں طالبان کمیٹی طالبان کی جانب سے پیش کردہ مطالبات لے کر واپس آئے گی ،جہاں یہ مطالبات حکومتی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں گے اور حکومتی کمیٹی اس مذاکرات کی پیش رفت سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو آگاہ کرے گی ،جس کے بعد آئندہ مذاکرات کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔