یمن کی صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور ,پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں ثالث بنے گا

یمن کی صورتحال پر قرار داد متفقہ طور پر منظور ,پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں ثالث بنے گا

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار  نے   یمن کی صورتحال پر قرار داد پیش کی
قراردادکے متن کے مطابق   یمن کی صورت حال خطے میں بحران پیدا کرسکتی ہے اس صورتحال پر پاکستان کو تشویش ہے لہذا  فریقین یمن کے مسئلے کا پرامن حل نکالیں۔ اس تنازع میں متاثرہ افراد کی مدد کیلیے کوششوں کی حمایت کرتےہیں۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یمن میں امن کیلیے مسلم امہ اور عالمی برادری کوششیں کرے اور پاکستان امن کیلیےعالمی اور علاقائی کوششوں کی حمایت کرتا ہے ۔ قرارداد میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ   حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے پاکستان سب سے آگے ہو گا وزیر خزانہ کی جانب سے  پیش  کی قرارداد کی پالیمنٹ نے متفقہ طور پر منظوری دیدی،اجلاس سے قبل  سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں  قرار داد کے مسودے کی منظوری دی گئی اجلاس میں ن لیگ  پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سمیت  پارلیمانی  جماعتوں نے شرکت کی

 بارہ نکات میں اہم ترین یہ تھا کہ سعودی عرب کی سرزمین پر آنچ نہیں آنے دی جائے اور پاکستان اس جنگ میں فریق نہیں ثالث بنے گا  

سپیکر ایاز صادق نے اجلاس شروع ہونے سے قبل تما م جماعتوں کے  پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کر کے متفقہ قرارداد کے حوالے انہیں اعتماد میں لیا اور آج کا دن یوم دستور قرار دیا ،اس کے بعداسپیکر نے تمام اراکین سے قرار داد پر رائے لی جس کو سب نے منظور کرلیامسلم لیگ ن کے سینیٹر نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے دنیا کے دیگر خطوں میں جا کر قیام امن میں اپنا کردار ادا کیا اگر کوئی اقوام متحدہ یا کسی اور فورم سے فوج قیام امن کےلیےیمن جاتی تو وہ الگ بات تھی اب ہم وہاں فوج نہیں بھیجیں گے ے یو آئی کے رکن مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ یمن کے مسئلے کو عالمی تناظر میں دیکھنا ہوگا,جنگیں مسائل کا حل نہیں
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ یمن کے مسئلے کے سیاسی حل پر کوئی اختلاف نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سالمیت کی حفاظت پر کوئی دو رائے نہیں۔پیپلز پارٹی کےایاز سومرو نے سرتاج عزیز کو  تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امید یہ تھی مشیر امور خارجہ اس معاملے میں مختلف ممالک کا دورہ کریں گے مگر شاید وہ عمر کے اس حصے میں ہیں یہ دورے نہ کر سکیں۔سینیٹر محسن لغاری کا کہنا تھا کہ یمن کا مسئلہ راتوں رات پیدا نہیں ہوا، پارلیمنٹ کی رائے ہے پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے۔بعد ازاں اجلاس پیر کے روز تک ملتوی کر دیا گیا جبکہ قرار داد صدر پاکستان کو دستخط کے لیے جائے گی۔

یمن سعودی عرب مسئلے کا پرامن حل نکالاجائے

سپیکر قومی اسمبلی سردارایازصادق کی زیرصدارت منعقدہ اجلاس میں آئینی دن مکمل ہونے پر سپیکرایازصادق نے اجلاس کے شرکاء کو مبارکباد دی، یمن کی صورتحال پر بلائے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پانچ روز تک بحث جاری رہی اور متفقہ قرارداد منظور کی گئی،  وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کردہ بارہ نکاتی قرارداد میں یمن کی صورتحال پر پاکستان کی جانب سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسئلے کو پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے، قرارداد میں واضح کیا گیا ہے کہ یمن میں اس وقت فرقہ وارانہ فسادات نہیں تاہم حالات اس طرف جا سکتے ہیں،، پاکستان یمن کے مسئلے پر غیر جانبدار رہتے ہوئے جنگ میں فریق نہیں بنے گا بلکہ مسئلے کے حل کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا، اگر سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان  سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ قرارداد میں اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یمن کی موجودہ صورتحال کا فائدہ دہشتگرد اور غیرریاستی عناصر اٹھا سکتے ہیں، اس ضمن میں پاکستان تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا۔ قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ اور او آئی سی اپنا کردار ادا کریں،،پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس ميں وزيراعظم نے بھي شرکت کی،پارلیمنٹ کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے