یمن میں ثالثی اولین ترجیح ہے چار روز تک سیز فائر ہو سکتا ہے : خواجہ آصف‘ شیخ رشید کی تقریر پر لیگی ارکان کے نعرے معافی کا مطالبہ

یمن میں ثالثی اولین ترجیح ہے چار روز تک سیز فائر ہو سکتا ہے : خواجہ آصف‘ شیخ رشید کی تقریر پر لیگی ارکان کے نعرے معافی کا مطالبہ

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں گزشتہ روز بھی جاری رہا ۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے تقریر شروع کی تو مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے نعرے بازی شروع کردی۔ لیگی ارکان نے مطالبہ کیا کہ معافی مانگو جس پر شیخ رشید نے کہا کہ معافی میں صرف اللہ سے مانگتا ہوں۔ہنگامہ آرائی اور شورشرابے سے ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگا۔ شیخ رشید نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران، بھارت اور امریکہ کا نیا اتحاد بننے جا رہا ہے۔ سپیکر نے شکوہ کیا کہ آپ نے کل مجھے بددعائیں دیں، میں آپکو نہیں دوں گا، جادو ٹونے الٹے پڑ جاتے ہیں۔بلوچ رہنما محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ یمن کی صورتحال سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہو گا۔ پارلیمنٹ پر حملہ کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ عمران خان کراچی سے سیٹ جیت جائیں تو انہیں اپنی چادر دیدونگا۔ آفتاب شیرپاﺅ نے خطاب کرتے کہا کہ یمن کے مسئلے کے اثرات پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔ فوجی مداخلت کی بجائے سفارتی کوششیں کی جائیں تو بہتر ہے، پاکستان درمیانی راستہ نکالے اور اپنے مفاد کو دیکھے۔ رحمن ملک نے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں خراب صورتحال گریٹ گیم کا حصہ ہے دشمن کو پہچانیں دشمن وہی کررہے ہیں جو القاعدہ نے کیا وفد بنا کر بھیجیں فریق نہیں رفیق بنیں، اگر سپیکر کلیدی کردار ادا نہ کرتے تو پی ٹی آئی اراکین آج یہاں نہ ہوتے۔ تحریک انصاف کے اراکین کو بولنے کا موقع دیا جائے، بولنے کیلئے پارٹی کوٹہ سسٹم ختم ہونا چاہئے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث‘ (ن) لیگ اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ نے سعودی عرب کی جغرافیائی حدود کو خطرات کی صورت میں سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دینے اور مکہ مدینہ کی حفاظت کیلئے پاکستانی افواج بھجوانے کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ہمار امحسن ہے جس نے زلزلوں ‘ سیلاب اور ہر مشکل وقت میں ہماری کھل کر مدد کی ہے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم سعودی عرب کا یہ قرض اور احسان اتار سکیں جبکہ بی این پی عوامی کی خاتون سینیٹر نے کہاکہ پاکستان فریق بننے کی بجائے سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار ختم کرانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرے ۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بی این پی عوامی کی سینیٹر نسیم احسان ‘ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر علامہ ساجد میر ‘ فاٹا سے رکن سینٹ صالح شاہ اور مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر و دیگر نے یمن کی صورتحال پر بحث کے دوران خطاب کیا۔ سینیٹر نسیم احسان نے کہا کہ یمن میں دونوں طرف مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے اور امت مسلمہ خواب غفلت کی نیند سو رہی ہے۔ اگر یمن کی سلگتی آگ کو نہ بجھایا گیا تو یہ پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ یمن میں سعودی عرب کی کارروائی جائز ہے۔ آج سعودی حکمرانوں پر مشکل وقت ہے تو ہمیں انکا ساتھ دینا چاہیے۔ حوثی باغیوں نے پاکستان کو ثالث تسلیم نہیں کیا نہ کوئی مطالبہ کیا پھر پاکستان کس طرح ثالثی کر سکتا ہے۔ نوا زشریف کا موقف درست ہے سعودی عرب کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔ سینیٹر صالح شاہ نے کہاکہ اگر سعودی عرب کی جغرافیائی حدود کو خطرہ ہو تو ہمیں مدد کرنی چاہیے۔ اگر ثالثی نہیں کر سکتے تو ایوان اور سعودی عرب میں مذاکرات کی کوششیں کرنی چاہئیں۔ سینیٹر چوہدری تنویر نے کہاکہ ارکان لمبی تقاریر کی بجائے حکومت کو یمن کی صورتحال بارے مفید او رمثبت تجاویز دیں۔ پارلیمنٹ سے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ایران نے یمن میں سیزفائر کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم سیزفائر کن شرائط پر ہوتا ہے یہ طے ہونا ابھی باقی ہے۔ اطلاع کے مطابق حوثیوں نے غیرمشروط طور پر سیزفائر پر آمادگی ظاہر کی ہے، لگتا ہے کہ آئندہ 2 سے 4 روز میں سیزفائر سے متعلق پیشرفت ہوگی، سیزفائر کن شرائط پر ہوتا ہے یہ طے کرنا ابھی باقی ہے چند روز میں مسئلہ حل ہوجائیگا۔ یمن کے معاملے پر وزیراعظم کے اقدامات پر ایران نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ مذاکرات سے معاملات کے حل پرتمام ملکوں کو اتفاق ہے۔ ہماری ترجیح فریق بننے کی بجائے مفاہمت اور ثالثی ہے۔
اسلام آباد (محمد نواز رضا/ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے وفاقی حکومت نے یمن کی صورت حال پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے متفقہ قرارداد منظور کرانے کیلئے اپوزیشن سے مشاورت شروع کردی ہے۔ جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ اقتصادی امور محمد اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو قرارداد کے مسودہ پر اعتماد میں لیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت پارلیمنٹ سے سعودی عرب کی قومی سلامتی کے دفاع کے لئے ہر ممکن امداد کرنے کی قرارداد منظور کرانا چاہتی ہے جبکہ قرارداد میں یمن کے مسئلہ کے سیاسی حل پر بھی زور دیا جائے گا۔ اپوزیشن قرارداد میں پاکستان کو یمن کی لڑائی سے الگ رہنے کی بات بھی شامل کرنا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کی آج آخری نشست ہوگی جس میں وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے یمن کی صورت حال پر پالیسی بیان دینے کا امکان ہے وہ اس تنازعہ پر ترکی کی قیادت کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف سے ہونے والی بات چیت کے نتیجہ میں پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت پارلیمنٹ میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی کہ وہ سعودی عرب کی کس قدر مدد کرسکتی ہے تاہم یہ بات واضح کردے گی کہ پاکستان یمن کی لڑائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ وفاقی حکومت پارلیمنٹ سے متفقہ قرارداد کی منظوری کیلئے اپوزیشن کے نکات کو بھی شامل کرنے کیلئے لچک دکھائے گی۔
مشاورت