گلابی رکشہ پاکستانی معاشرے میں عورت کی خود مختاری کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے

 گلابی رکشہ پاکستانی معاشرے  میں   عورت کی خود مختاری کی جانب پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے

گلابی رکشہ لاہور کی ایک عورت کے ذہن کی پیداوار ہے  زارا اسلم ایک این جی او چلاتی ہےجس کے پاس  خواتین شکایت لے کر آیا کرتی تھیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں ان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ الگ لیکن اکثر رکشہ ڈرائیور بھی انہیں ہراساں کرتے ہیں ان حالات میں  زارا اسلم نے خواتین کیلیے الگ رکشے چلانے کا منصوبہ بنایا ایسے رکشے جن میں خواتین سفر کریں اور ڈرائیور بھی  خواتین ہی ہوں لاہور میں ابتدائی طور پر پچیس گلابی یا خواتین رکشہ چل رہے ہیں زارا اسلم اور اس کی ٹیم پر امید ہے کہ جلد ہی ان رکشوں کی تعداد سو سے تجاوز کر جائے گی رکشوں میں سفر کرنے والی خواتین بھی اس تبدیلی پر خوش ہیں اور اسے عورت کے تحفظ کی جانب اچھا قدم قرار دیتی ہیں گلابی رکشہ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاں ایک جانب دنیا تیزی سے ترقی کر رہی ہے وہیں  ہم اپنی قدریں  کھو رہے ہیں عورت کی عزت معاشرے میں بتدریج  کم ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے