سربراہ پی ٹی آئی کی متحدہ کے گڑھ آمد تصادم پر نائن زیرو جانے سے انکار‘ ایک طرف اچھی باتیں‘ دوسری طرف ڈنڈے‘ الطاف کی پالیسی دوغلی ہے : عمران

سربراہ پی ٹی آئی کی متحدہ کے گڑھ آمد تصادم پر نائن زیرو جانے سے انکار‘ ایک طرف اچھی باتیں‘ دوسری طرف ڈنڈے‘ الطاف کی پالیسی دوغلی ہے : عمران

کراچی ( نیوزرپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا جناح گراو¿نڈ کا دورہ بدنظمی کا شکار ہوگیا اور وہ جناح گراو¿نڈ کا تفصیلی دورہ اور ایم کیو ایم کی نائن زیرو دورے کی دعوت کو قبول کئے بغیر ہی واپس لوٹ گئے۔ انکے استقبال کیلئے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان موجود تھے تاہم پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے کارکنوں میں تصادم ہوگیا۔ دونوں جماعتوں کے کارکنان نے ایک دوسرے کیخلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران دیکھنے میں آیا کہ بعض افراد کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی اور کچھ لوگوں نے ایک دوسرے پر انڈے پھینکیں اور ڈنڈے برسائے تاہم پولیس نے صورتحال کو کنٹرول کرلیا اور دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو پیچھے کر دیا۔ عمران اپنی اہلیہ کے ہمراہ جناح گراو¿نڈ پہنچے تو ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، امین الحق، کنور نوید جمیل ،خالد مقبول، حیدر عباس رضوی اور دیگر رہنما بھی وہاں موجود تھے تاہم عمران پہنچنے کے بعد وہ گاڑی سے اترے تو اس دوران بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ جس پر وہ واپس مڑ گئے اور یادگار شہداءپر گئے، فاتحہ پڑھی اور گاڑی میں جا کر بیٹھ گئے۔ اس دوران ایم کیوایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار عمران خان کی گاڑی کے قریب گئے اور انہیں نائن زیرو کے دورے کی دعوت دی۔ وہ عمران خان سے بات چیت ہی کر رہے تھے کہ وہاں موجود پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے کارکنوں نے ایک دوسرے کیخلاف نعرے بازی کی جس کی وجہ سے ماحول میں کشیدگی پیدا ہوگئی اس موقع پر وہاں موجود چند افراد نے پی ٹی آئی کے جھنڈوں سے اپنے جوتے صاف کئے۔ عمران خان نے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کی دعوت قبول نہیں کی اور واپس لوٹ گئے۔ فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم عمران خان کو خوش آمدید کہنے کیلئے جناح گراو¿نڈ میں جمع ہوئی تاہم وہ جلد واپس لوٹ گئے۔ ہم انکے مشکور ہیں کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز یادگار شہدا سے کیا۔ قبل ازیں عمران خان طویل ریلی کے ہمراہ پی سی ایچ ایس سے ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کے قریب واقع جناح گراو¿نڈ پہنچے۔ ریلی کا آغاز صبح ساڑھے 11 بجے ہوا۔ عمران خان کے ہمراہ عمران اسماعیل، فیصل واڈا، علی زیدی اور دیگر رہنما تھے۔ ریلی کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری عمران کے ہمراہ چل رہی تھی۔ اس موقع پر بعض افراد نے گو عمران گو کے نعرے بھی لگائے۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں نے الطاف حسین کے حق میں نعرے بازی کی تاہم اس موقع پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا عمران خان کے جناح گراﺅنڈ پہنچے ایم کیو ایم کے رہنماﺅں اور کارکنوں نے استقبال کیا۔ عمران خان اور ریحام خان گاڑی سے باہر آئے تو رش دیکھ کر دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گئے۔ عمران خان نے متحدہ رہنماﺅں کو جواب دیا کہ اس وقت ممکن نہیں بعد میں رابطہ کرونگا۔ عمران خان کا قافلہ جب جناح گراﺅنڈ سے کریم آباد پہنچا تو ان پر گل پاشی کی گئی۔ عمران خان نے کریم آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکنوں نے خوف کا حصار توڑ دیا۔ کراچی کے لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ افسوس ہوا ہمارے کارکنوں پر متحدہ کے کارکنوں نے حملے کئے، ہمیں کراچی کو امن اور روشنیوں کا شہر بنانا ہے۔ ایک طرف دعوت دی جاتی ہے دوسری طرف کارکنوں پر ڈنڈوں سے حملہ کیا جاتا ہے، ہم ایک پرامن پارٹی ہیں تحریک انصاف کے کارکنوں نے کسی تصادم میں شریک نہیں ہونا ۔بندوق کا مقابلہ بندوق سے نہیں کرنا۔ انہوں نے الطاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین آپکی پارٹی تو خود کو منظم کہتی ہے، آپ نے کہا تھا استقبال کریں گے، پھر جو کچھ ہوا وہ کیسے ہوا؟ ایک طرف الطاف حسین کی طرف سے اچھی باتیں کی جاتی ہیں دوسری طرف ڈنڈے بھی برسائے جاتے ہیں۔ الطاف حسین دوغلی پالیسی رکھتے ہیں، عمران اسماعیل کے کیمپ پر 2 بار حملے ہوئے، جناح گراﺅنڈ جلسے کیلئے چھوٹا پڑ جائیگا۔ 19 اپریل کو تحریک انصاف کا جلسہ ہو گا، عمران اسماعیل سے کہا ہے کہ جناح گراﺅنڈ کی بجائے کوئی اور جگہ جلسے کے لیے دیکھیں، کراچی میں تبدیلی شروع ہو گئی ہے جو پورے پاکستان میں ہو گی۔ عمران اسماعیل مشکلات کے باوجود کھڑے ہیں۔ این اے 246 کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ ڈرنا نہیں، 2015ءالیکشن کا سال ہے۔عمران کے جناح گراﺅنڈ سے واپس جانے کے بعد ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے کارکن پھر آنے سامنے آ گئے اور بھگدڑ مچ گئی تاہم پولیس نے جلد حالات کنٹرول کر لئے۔ ائیرپورٹ پر پریس کانفرنس میں عمران نے کہا امید سے زیادہ خیرمقدم پر کراچی والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس طرح کا استقبال کیا گیا وہ میری امید سے بڑھ کر تھا۔ الطاف حسین کے بیان کا خیرمقدم کرتا ہوں اس سے کشیدگی میں کمی ہوئی ۔ا فسوس ہوا کہ ریلی نائن زیرو سے نکلی تو پیچھے ہمارے کارکنوں کو مار پڑی، ایک طرف خوش آمدید کہا گیا دوسری طرف کارکنوں کو مارا گیا یہ بھی دیکھا گیا کہ ایم کیو ایم کے کارکن مارنے والوں کو روک رہے تھے۔ ریحام خان بھی یہ بتانے ساتھ آئی ہیں کہ تبدیلی میں خواتین کا بھی اہم کردار ہے لوگ بندوقوں کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں، ایم کیو ایم کو خود کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، آنیوالا سال پاکستان کیلئے فیصلہ کن ہوگا۔ جمہوریت کا مطلب میرٹ ہوتا ہے ، مسئلہ تب حل ہوگا جب سرمایہ کار واپس آئے گا کراچی کو پھر وہی روشنیوں کا شہر بنایا جائے گا۔جماعت اسلامی خیبر پی کے میں ہماری اتحادی جماعت ہے عمران خان نے کہا کہ پولیس اور ایم کیو ایم تشدد کرنے والے افراد کیخلاف کارروائی کریں انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان بنے گا اور نیا کراچی بنے گا۔عمران خان نے ائرپورٹ پر کہا کہ متحدہ کی طرف سے ریحام کو ہار کا تحفہ ملا نہ پھول جس پر پریس کانفرنس کے دوران قہقہے بلند ہوئے۔
عمران خان