دھرنے میں بہت گالیاں سنیں‘ ملک کو یوٹرن والی قیادت نہیں چاہیے‘ یمن بحران مسلم ممالک کیلئے خطرناک ہے‘ فوری حل نکالا جائے : نوازشریف

دھرنے میں بہت گالیاں سنیں‘ ملک کو یوٹرن والی قیادت نہیں چاہیے‘ یمن بحران مسلم ممالک کیلئے خطرناک ہے‘ فوری حل نکالا جائے : نوازشریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کیساتھ ملاقات میں یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال سنگین ہے جو مسلمان ممالک کو خطرے میں ڈالنے کے علاوہ بے گناہ لوگوں کی زندگیوں کیلئے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ تشویش کا باعث بننے والے علاقائی ایشوز پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایران برادر پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ حکومت اور پاکستانی عوام تعاون پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم نے یمن کے تنازعہ کو جلد از جلد پرامن طور پر حل کرنے کیلئے گہرے غور و فکر سے طریقے اور ذرائع تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسلمان ممالک کے زعما کیلئے ضروری ہے کہ وہ صبر و تحمل کے مظاہرہ اور باہمی نقطہ نظر کو سمجھنے کیلئے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ وزیراعظم نے یمن کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلے کا فوری اور پرامن حل نکلنا چاہئے۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں یمن کی صورتحال کے بارے میں جاری بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام سعودی عرب کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو سعودی عرب کے عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونگے۔ وزیراعظم نے ”نان سٹیٹ ایکٹرز“ کی طرف سے یمن کی قانونی حکومت کا تختہ الٹنے پر پاکستان کی تشویش کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یہ تمام ریاستوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے امن و استحکام متاثر ہو۔ وزیراعظم نے ایرانی وزیر خارجہ کو ان کوششوں کے بارے میں بتایا جو انہوں نے مسلمان ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے یمن میں امن کیلئے کی ہیں۔ وزیر داخلہ نے توقع ظاہر کی کہ مسلمان ممالک کی لیڈرشپ اس حقیقت کا ادراک کریگی کہ یمن کے تنازعہ کا تسلسل امن کیلئے سنگین خطرہ ہے اسلئے اس ایشو کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے بھی تنازعہ کے جلد حل کی ضرورت سے اتفاق کیا اور یمن کے بحران کے حل کیلئے مختلف آپشنز کی تلاش کے سلسلے میں اپنی حکومت کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے نیوکلیئر ایشو پر ایران اور پی فائیو کے ساتھ مفاہمت کے بارے میں بتایا۔ وزیراعظم نے اس ایشو کے پرامن حل پر اطمینان ظاہر کیا اور توقع ظاہر کی کہ جون 2015ءتک جامع سمجھوتہ ہوجائیگا۔ ملاقات میں ایرانی سفیر، گورنر جنرل سیستان، قومی سلامتی کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز، سیکرٹری خارجہ اور دوسرے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، یمن کی صورتحال انتہائی تشویشناک اور مسلمان ممالک کیلئے خطرناک ہے، مسلم ممالک خطرے میں پڑ سکتے ہیں، تمام مسلم ممالک کو ملکر اس گھمبیر صورتحال کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں، دہشت گردی کے خاتمے تک خطے میں امن اور خوشحالی نہیں آ سکتی۔ ملاقات میں یمن کی گھمبیر صورتحال اور خطے میں پڑنیوالے اثرات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی صدر کا پیغام وزیراعظم نوازشریف تک پہنچایا، ایرانی وزیر نے پاکستان ایران سرحد پر ایران کے8 محافظوں کے قتل کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے اٹھایا اور ایران کی تشویش سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور یمن میں جاری جنگ کے خاتمے اور فریقین میں مذاکرات کے حامی ہیں۔ یمن کی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے جس کے اثرات پورے مشرق وسطی پر پڑ رہے ہیں، خطے کے تمام مسلم ممالک کو ملکر اس گھمبیر صورتحال سے نمٹنا اور ملکر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے پاکستان ایران سرحدی علاقے میں محافظوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، خطے میں دہشت گردی کے خاتمے تک امن قائم نہیں ہو سکتا، پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، اس میں ہزاروں افراد جانیں گنوا چکے ہیں۔ وزیراعظم ہاﺅس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے فوری طور پر پرامن طریقے سے لڑائی کے خاتمے کے راستے اور طریقے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ساتھ جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات، انسداد دہشت گردی اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں قائدین نے پاکستان ایران سرحد پر بارڈر مینجمنٹ کے موضوع پر بھی بات چیت کی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے آپریشن ضربِ عضب میں پاک فوج کی کارکردگی کو سراہا اور یادگار شہداءپر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ نجی ٹی وی کے مطابق آرمی چیف سے ملاقات میں دفاعی تعاون پر بھی غور کیا گیا۔ مسلم امہ میں اتحاد و یگانگت، سالمیت اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ضرب عضب میں فوجی جوانوں کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا اور آپریشن ضرب عضب کو سراہا۔ ایرانی وزیر خارجہ کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور چیئرمین سینٹ رضا ربانی سے بھی ملاقاتیں کیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ ظہرانے میں ایرانی وفد کے ارکان کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بھی شرکت کی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ایران کے اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیرخارجہ نے پاکستان ایران مشترکہ کمشن کے حالیہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت، مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی سے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات کی۔ اس موقع پر رضا ربانی نے کہا کہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم مسلم امہ کے اتحاد کیلئے خطرناک ہے، اس کا فائدہ صرف استعماری اور نوآبادیاتی ذہنیت کو ہی ہو گا۔ پاکستان یمن کے مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے۔ جواد ظریف نے کہا کہ دونوں ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک میں پارلیمانی وفود کے تبادلوں میں تیزی لائی جائے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں پاکستان ایران تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا عزم کیا گیا اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے غور کیا گیا۔ سپیکر نے کہا پاکستانی عوام اور حکومت ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں مشترکہ جامع ایکشن پلان پر دستخط ہونے پر مبارکباد پیش کی۔ سپیکر نے قومی اسمبلی نے ایرانی وزیر خارجہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شرپسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کے بارے میں بھی آگاہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی قوتیں اس سلسلے میں یکجاں ہیں اور ان کی اسی قوت سے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کو تقویت ملی ہے جس کے باعث ملک میں دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک فوجی آپریشن جاری رہے گا۔ جواد ظریف نے کہاکہ ایران پاکستان کے حوالے سے خصوصی برادرانہ جذبات رکھتا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ یہ رشتے مزید مضبوط اور مستحکم ہونگے۔
اسلام آباد+ہری پور (نمائندہ خصوصی+نیٹ نیوز) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے ملک کو یوٹرن لینے والی قیادت کی ضرورت نہیں، بتایا جائے خیبر پی کے میں کونسا نیا پاکستان بنا ہے؟ ہری پور میں اپنے اعزاز میں دئیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے خیبر پی کے میں کونسا نیا پاکستان بنا، کونسا انقلاب آیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کراچی میں امن بحال ہو رہا ہے۔ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت وہی کچھ کر رہی ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔ لوڈشیڈنگ کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ 2017ءتک ملک سے مکمل طور پر بجلی کا بحران ختم کردیں گے۔ ہم نے دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں کامیابیوں پر پاک فوج مبارکباد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ہماری کوششوں سے خوف کی فضا ختم ہوئی اور ترقی کا پہیہ دوبارہ چل پڑا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پی کے مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے۔ آنیوالے وقت میں خیبر پی کے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہوگی۔ نیا پاکستان بنانے والے پہلے نیا خیبر پی کے بنا لیں۔ کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان ہم نے ختم کیا۔ نیا پاکستان بنانے والوں نے خیبر پی کے میں کیا کیا؟ 2 سال میں خیبر پی کے میں کون سے تبدیلی آئی۔ پاکستان کو غیر سنجیدہ، غیر مستحکم اور پسپا ہونے والی قیادت کی ضرورت نہیں۔ خیبر پی کے میں نئے پاکستان کی جھلک دیکھنا چاہتے ہیں۔ یوٹرن لینے والی قیادت کو ملک کی کوئی ضرورت نہیں۔ کراچی میں امن ہے اللہ کراچی کو نظر بد سے بچائے۔ چین کی سرحد سے موٹروے خیبر پی کے پہنچے گی۔ کراچی میں ترقی کا پہیہ چلنا دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ کراچی ترقی کریگا تو پورا ملک ترقی کریگا۔ بلوچستان میں قوم پرستوں کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ خیبر پی کے میں ہزارہ موٹروے بنانے کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومت وہی کچھ کر رہی ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے۔ لوڈشیڈنگ کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ 2017ءتک ملک سے مکمل طور پر بجلی کا بحران ختم کر دیں گے۔ ہم نے دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن جنگ کا آغاز کردیا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب میں کامیابیوں پر پاک فوج مبارکباد کی مستحق ہے۔ درےں اثناءوزیراعظم نواز شریف سے مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر ثناءاللہ زہری نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے، پاکستان چین اقتصادی راہداری سے بلوچستان میں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت بلوچستان کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے بلوچستان کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ ملاقات کے دوران ملک کی سیاسی صورتحال اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تنظیمی امور بھی زیرغور آئے۔ وزیراعظم نے ثناءاللہ زہری سے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور پارٹی امور پر ان سے مشاورت کریں۔ انہوں نے کہا کہ کارکن ایک عظیم اثاثہ ہیں اور پارٹی کیلئے باعث فخر ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت جمہوریت کے نصب العین اور ملک میں قانون کی حکمرانی کو سربلند رکھنے کیلئے انکی بے شمار قربانیوں کی قدر کرتی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی بھی موجود تھے۔
نواز شریف/ ہری پور خطاب