بلاول کی سوچ میں پختگی آنے پر میدان میں اتاریں گے‘ سیاسی جماعتوں سے گندے انڈے نکالے جائیں : زرداری

بلاول کی سوچ میں پختگی آنے پر میدان میں اتاریں گے‘ سیاسی جماعتوں سے گندے انڈے نکالے جائیں : زرداری

کراچی (بی بی سی اردو+ ایجنسیاں) سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ بلاول کی جوانی اور سوچ میں بلوغت کی ضرورت ہے جب یہ دونوں چیزیں ہوجائیں تو پھر انہیں میدان میں اتارا جائے گا۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں زرداری نے کہا کہ ویسے بھی یہاں ( پاکستان میں) جو چیلنجز اور سیکیورٹی خطرات ہیں ان کو مد نظر رکھتے ہوئے بلاول کو آہستہ آہستہ متعارف کرایا جائے، تو بہتر ہے۔آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سمیت دیگر سیاسی جماعتوں میں بھی گندے انڈے ہیں، ان کی جماعت میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لے کر اب تک گندے انڈے چلے آ رہے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانے یا جمہوریت کو ختم کرنے کی بجائے سیاسی جماعتوں سے گندے انڈے نکال دیئے جائیں۔ ایک زرداری ، سب پہ بھاری کا نعرہ مغرور نعرہ ہے اور ایسے نعرے نہیں لگنے چاہئیں۔جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے مجھ سے پوچھا تھا کہ یہ ایک زرداری، سب پہ بھاری کا نعرہ لگ رہا ہے تو میں نے کہا تھا کہ ایک زرداری سب سے یاری کا نعرہ لگے گا اور اسی یاری کی وجہ سے ہم نے سینیٹ کے چیئرمین اور وائس چیئرمین بنائے۔پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت بڑھ جانے کے سوال پر سابق صدر نے میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ میڈیا والوں کو چٹ پٹی خبریں چاہیں کسی کی بے عزتی نہ ہو یا سیاست دانوں کو آپس میں لڑوایا نہ جائے تو خبر نہیں بنتی۔اگر میری گھی اور سیمنٹ کی فیکٹری ہے تو میں ٹی وی فیکٹری بھی لگا لیتا ہوں۔ ٹیکسٹائل ملز والے بھی ٹی وی چینلز چلا رہے ہیں تاکہ وہ ایک پاور بن جائیں۔ میڈیا ایک طاقت ہے۔ کوئی اسے سنجیدگی سے استعمال کرتا ہے اور کوئی اسے غیر سنجیدگی سے۔عمران خان کے اس دعوے کہ 2015ءانتخابات کا سال ہے، کے متعلق زرداری نے کہا کہ انکی تو یہ کوشش ہے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے کیونکہ اس حکومت نے اپنی مدت پوری کی تو آئندہ جمہوریت کو طاقت ملے گی۔سابق صدر نے تجویز پیش کی کہ شفاف اور غیر جانبدرانہ انتخابات کیلئے آزادانہ اور خود مختار الیکشن کمیشن قائم کیا جائے جو مالی معاملات میں بھی آزاد ہو۔بقول ان کے پیپلز پارٹی حکومت نے ووٹ کیلئے انگوٹھا لگانے کے علاوہ دیگر اقدامات کیے لیکن ریٹرننگ افسروں کا فیکٹر آ گیا۔’سیشن جج کے خلاف تو ہم کیس نہیں کر سکتے لیکن اگر آزاد الیکشن کمیشن اور دھاندلی کے ثبوت ہوں تو الیکشن کمیشن کے اہلکار کیخلاف ایف آئی آر درج کرائی جاسکتی ہے۔آصف علی زرداری سے پوچھا گیا کہ آپ اپنی یاد داشتیں لکھیں گے ؟ تو ان کا کہنا تھا کہ شہید بھٹو کے زمانے سے میرے سینے میں راز موجود ہیں۔ اگر راز افشاں کرنے سے عوام کی بہتری ہو تو سوچا جا سکتا ہے۔ دنیا کے بڑے لیڈر اپنی یاد داشتیں لکھتے ہیں لیکن وہ سارے راز بیان نہیں کر پاتے، وہ بھی صرف 70 فیصد ہی بیان کرسکیں گے۔یمن کی صورتحال پرحکومت کواسلامی کانفرنس بلانے کی تجویزدیتے ہیں ،اے پی سی بلاکرسیاسی جماعتوں کے سربراہوں کوان کیمرہ بریفنگ بھی دی جائے ،یمن کے معاملے ہرملک میں اپناوفدبھیجیں گے ،تحریک انصاف اورحکومت کے درمیان معاہدے کابھی خیرمقدم کرتے ہیں۔جمہوریت میں مذاکرات کے سواکوئی راستہ نہیں ،مذاکرات کے حامی ہیں ،مسلمان ملکوں کی آپس کی رنجشیں ختم ہونی چاہئے ،لاکھوں پاکستانی سعودی عرب اورخلیجی ممالک میں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہواہے کہ پیپلزپارٹی اپناوفداسلامی ممالک میں بھیجے گی۔خواجہ آصف کابیان کافی نہیں ہے ،سابق صدرمیرے ساتھ بھی باتیں شیئرکی جائیں ،یمن کے معاملے پرزیادہ ذمہ داری حکومت کی بنتی ہے ۔
آصف زرداری