ایران نے خطے کو غیر مستحکم کرنیکی کوشش کی تو امریکہ دیکھتا نہیں رہیگا : کیری

ایران نے خطے کو غیر مستحکم کرنیکی کوشش کی تو امریکہ دیکھتا نہیں رہیگا : کیری

واشنگٹن (نیٹ نیوز + بی بی سی ) امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کا ملک یمن میں حوثی باغیوں کے لئے ایران کی مبینہ حمایت سے بخوبی آگاہ ہے اور ایران نے اگر خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی تو امریکہ ’کھڑا دیکھتا نہیں رہے گا‘۔ امریکی ٹی وی چینل’پی بی ایس‘ سے انٹرویو میں جان کیری نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے ان اتحادیوں کی حمایت جاری رکھے گا جو ایران سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ایران حوثیوں کی مدد کر رہا ہے ’واضح طور پر ایران سے کمک آ رہی ہے۔ ہر ہفتے متعدد ایسی پروازیں ہیں جو وہاں سے آ رہی ہیں۔‘ واضح طور پر ہم لڑائی نہیں چاہتے ہیں لیکن ہم اپنے اتحادیوں اور دوستوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ان کے ساتھ کھڑے ہیں جو ممکنہ طور پر ایران کی مرضی سے پیدا ہونے والے نتائج سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ہم لڑائی نہیں چاہتے ہیں لیکن ہم اپنے اتحادیوں اور دوستوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے امریکہ نے ایک دن پہلے ہی سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف برسرِ پیکار اتحاد کے لئے اسلحے کی فراہمی کا عمل تیز کرنے اور خفیہ معلومات کے تبادلے کے سلسلے میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی طیاروں نے سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی مہم میں شریک لڑاکا طیاروں میں دوران پرواز ایندھن بھرنے کا کام شروع کردیا ہے۔امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان کرنل اسٹیون وارن نے صحافیوں کو بتایا ''امریکی فضائیہ کے طیارے کے سی 135 اسٹریٹو ٹینکر نے سعودی عرب کے ایک ایف 15 لڑاکا جیٹ اور متحدہ عرب امارات کے فائٹر فالکن (ایف) 16 میں دوران پرواز پہلی مرتبہ ایندھن بھرا ہے۔ امریکی فضائیہ کا دوران پرواز ایندھن بھرنے کے لئے ایک ٹینکر طیارہ اڑے گا اورسعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کی تمام پروازوں میں یمن کی فضائی حدود سے باہر ایندھن بھرا جائے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز ضرورت پڑنے پر ہنگامی راڈار ائرکرافٹ کی پرواز کے لیے بھی تیار ہیں تاہم امریکی حکام اور فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ امریکی امداد محدود ہے اس کا کوئی لڑاکا طیارہ یمن میں فضائی بمباری میں حصہ نہیں لے گا۔امریکہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے اس نے ایک روز قبل ہی کہا تھا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ انٹیلی جنس کے تبادلے کی سرگرمیوں میں تیزی لارہا ہے اور عرب اتحادیوں کو گائیڈڈ بم مہیا کرنے کا عمل بھی تیز کررہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی مہم کے دوران یمن کی فضائی حدود میں یہ آپریشنز نہیں کئے جائیں گے۔کیری نے کہا کہ امریکہ یمن میں غیر ملکی مداخلت بالکل قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا ایران سے پہلے بھی پروازیں آتی رہی ہیں اور اب بھی ہر ہفتے پروازیں آتی ہیں جن کا ہم نے سراغ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ امریکہ سٹینڈ بائی نہیں جبکہ ایران یمن میں باغیوں کی حمایت کر رہا ہے۔
کیری