ایرانی جہاز یمنی حدود میں داخل نہیں ہونے دینگے : سعودی عرب : بیڑا تہران کے مفادات کا تحفظ کریگا : ریئر ایڈمرل

ایرانی جہاز یمنی حدود میں داخل نہیں ہونے دینگے : سعودی عرب : بیڑا تہران کے مفادات کا تحفظ کریگا : ریئر ایڈمرل

عدن/ صنعا/ ریاض/ تہران/ نیویارک (ایجنسیاں+ اے ایف پی+ رائٹر) یمن میں سعودی عرب اور اتحادیوں کی بمباری جاری رہی۔ اتحادی طیاروں نے عدن کے مضافات اور صنعا میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک، درجنوں زخمی ہو گئے سعودی عرب نے کہا ہے کہ ایرانی جہازوں کو یمن کی علاقائی حدود میں پانیوں میں ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ فضائی حملے فوری طور پر بند کئے جائیں اور مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ اتحادی طیاروں نے یمن کے صوبہ عدن اور صنعا کے بارڈر کے قریب شدید بمباری کی۔ عدن کے شہر دار سعد میں بمباری سے 14 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ والح شہر کے قریب سابق صدر منصور ہادی کے حامیوں نے حملہ کر کے 6 حوثیوں کو ہلاک کردیا۔ اتحادی طیاروں نے صنعا میں حوثیوں کے اسلحہ ڈپو پر بمباری کر کے اسے تباہ کر دیا ۔ سعودی عرب کی قیادت میں حوثی مخالف فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایرانی بحری جہازوں کو بین الاقوامی پانیوں میں موجود رہنے کا حق حاصل ہے لیکن انہیں یمن کی علاقائی حدود میں پانیوں میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی اتحاد ایران کی جانب سے حوثیوں کو مسلح کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ طبی سامان اور ادویہ سے لدا ہوا بحری جہاز عدن کی بندرگاہ پر لنگراندز ہوگیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی بحریہ کے ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا ہے کہ ایرانی بحری جہاز یمن کیلئے روانہ ہوچکے ہیں۔ ایرانی بیڑا خلیجِ عدن میں ”ایرانی جہازوں کے زیرِ استعمال راستوںاور کھلے سمندر میں ”ایرانی مفادات“ کی حفاظت کریگا۔ایرانی ایڈمرل کا کہنا تھا کہ ایرانی بحریہ کے جہاز علاقے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو قزاقوں کے حملے سے بھی محفوظ رکھنے کی کوشش کریں گے۔ خدشہ ہے کہ ایران کے بحری جہازوں کی خطے میں موجودگی سے عرب ایران کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خلیجی ممالک کی جانب سے یمن کے استحکام کے لیے قرارداد پیش کی گئی ہے۔ امکان ہے کہ قرارداد پر رائے شماری آج ہو گی۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق سلامتی کونسل میں جمع کرائی گئی قرارداد میں ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے، یمن میں سیاسی استحکام، آئینی حکومت کی بحالی اور ملکی وحدت و خود مختاری کے احترام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک یمن کی داخلی سلامتی، خود مختاری اور سیاسی استحکام پر یقین رکھتے ہیں۔ تمام خلیجی ممالک یمن میں جاری سیاسی بحران کے جلد خاتمے اور تمام نمائندہ قومی دھاروں پر مشتمل حکومت کے قیام کے حامی ہیں۔قرارداد میں یمن میں القاعدہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ القاعدہ کو شکست دینے کیلئے مداخلت کریں۔ اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یمن کی موجودہ صورتحال میں یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے۔ اندرون ملک بے گھر ہونے والے افراد کے حقوق بارے اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب چالوکا بیانی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہے۔ وہاں کی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد جنگ زدہ علاقوں میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو رہی ہے۔ ایران کے صدر حسن روحانی نے ٹی وی خطاب میں کہا ہے کہ سعودی عرب اور اسکے اتحادی یمن میں بمباری فوری طور پر بند کریں، فضائی حملے ناکام ہوگئے ہیں۔ یہ بہت بڑی غلطی ہے یمن مسئلے کا سیاسی حل نکالنے کیلئے خطے کے ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، یمنی ایک عظیم قدم ہیں انہیں بمباری کر کے تباہی کی طرف دھکیلنا درست نہیں جنگ کے خاتمے کیلئے سیز فائز کیا جائے، دوسری طرف لبنان میں موجود ایران کے نائب وزیر خارجہ مرتضیٰ سرمدی کا کہنا ہے کہ یمن کے متحارب گروپ اپنے ملکی بحران کو ختم کرنے کیلئے اجتماعی حکومت کے قیام پر متفق ہوں۔ مرتضیٰ سرمدی کے مطابق یمنی سیاسی حالات کے پےش نظر اِس ملک پر کوئی ایک سیاسی گروپ حکومت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ دریں اثناءسعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 260 زائرین کو لانے والے ایرانی طیارے کو سعودی عرب کی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکدیا ہے۔ سعودی نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی طیارے نے فضائی حدود کے استعمال کیلئے پیشگی اجازت نہیں لی تھی۔ رائٹر کے مطابق بمباری کے باوجود علی عبداللہ الصالح کے حامی حوثی شمالی یمن کے سنی اکثریتی صوبے شیوا کے دارالحکومت میں داخل ہو گئے ہیں اور وہاں قبضہ کر لیا ہے یہ بات وہاں کے مقامی لوگوں نے بتائی ہے دریں اثنا ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے یمن میں جاری بمباری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ بمباری جتنی جلد ممکن ہو روکی جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بمباری کرنے والوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔صنعا سے ملنے والی اطلاع کے مطابق اتحادی طیاروں نے یمن کی وزارت دفاع کی عمارت پر بھی بمباری کی جو اسوقت حوثیوں اور انکے اتحادیوں کے قبضے میں ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر میں تین دھماکے سنے گئے۔ اسکے علاوہ فج عطان میں ایلیٹ ریپبلکن گارڈز کے اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسکے علاوہ خوراک کی سپلائی کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔


ےمن / بمباری