فوری ‘ سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری اور ترجیح ہے‘ رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے: چیف جسٹس

فوری ‘ سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری اور ترجیح ہے‘ رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے: چیف جسٹس

لاہور (وقائع نگار خصوصی+ آئی این پی) چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ فوری اور سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی اوّلین ذمہ داری اور ترجیح ہے۔ انصاف کے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سطح کی عدالتوں میں بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ 18 سے 19 اپریل تک عالمی عدالتی کانفرنس ہوگی۔ چیف جسٹس نے ماتحت عدلیہ کی جانب سے زیرالتوا مقدمات نمٹانا خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے تحت عدلیہ کی یہ بھی ذمہ داری ہے وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے، حکومت سے کہا تھا عدالتوں میں ججزکی تعداد بڑھائیں تاکہ فیصلے جلد کئے جاسکیں اور فیصلے  کرنے میں آسانی بھی ہو۔ لیکن اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔ تارکین وطن پاکستانی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا سیل انکی شکایات کا ازالہ کررہا ہے۔ چیف جسٹس نے عدلیہ پر زور دیا کہ وہ عوام کو تیز تر اور سستے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے لگن سے کام کرے کیونکہ ہر نظام  میں ہر وقت بہتری کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ آئین کے تحت عدلیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ چیف جسٹس کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں کمیٹی کے ارکان چیف جسٹس وفاقی شریعت کورٹ آغا رفیق احمد، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال، چیف جسٹس  بلوچستان ہائیکورٹ مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مسٹر جسٹس مقبول باقر اور چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ میاں فصیح الملک شریک ہوئے جبکہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ مسٹر جسٹس انور خان کاسی، چیف جسٹس سپریم کورٹ جموں کشمیر مسٹر جسٹس اعظم خان، چیف جسٹس سپریم ایپلیٹ کورٹ گلگت بلتستان، مسٹر جسٹس رانا ارشد خان، چیف جج ہائیکورٹ آزاد جموں کشمیر مسٹر جسٹس غلام مصطفی مغل اور چیف جج چیف کورٹ گلگت بلتستان مسٹر جسٹس صاحب خان خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں ضلعی عدلیہ میں زیر التواء مقدمات،مالیاتی اداروں کے خلاف اور ان کی اپیلوں، چالان داخل کرنے میں تفتیشی ایجنسیوں کی کارکردگی سمیت ٹیکس اور ریونیو معاملات کا جائزہ لیا گیا اور عدالتی انفراسٹرکچر سمیت دیگر امور کا بھی  زیرغور آئے۔ آئی این پی کے مطابق  چیف جسٹس   تصدق حسین جیلانی نے18 اور 19 اپر یل کو انٹرنیشنل جوڈیشل کانفر نس بلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے عوام کو کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی عدلیہ کی اولین آئینی ذمہ داری ہے۔ انصاف کی فراہمی، آئین اور قانون کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔ عدلیہ بغیر کسی خوف سے مکمل آزادی کے ساتھ فیصلے کر رہی ہے۔ انصاف کے اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ماتحت عدالتوں میں مقدمات کا جلد نمٹنا خوش آئند ہے۔ ججز کی کمی، ناقص انفراسٹرکچر اور سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث زیر التوا مقدمات میں اضافہ ہوا۔ آئین کے دائرے میں انصاف کی فوری فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری ہے، ماتحت عدالت میں فوری انصاف کی فراہمی کیلئے انفراسٹرکچر کی بہتری، مقدمات کے چالان کا بروقت جمع کرایا جانا اور ججز کی کمی پوری کرنا ضروری ہے۔ بیرون ملک پاکستانی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انکے زیرالتوا مقدمات نمٹانے کیلئے سیل قائم کردیا گیا ہے صارفین کے حقوق کیلئے بھی خصوصی عدالتوں کے قیام کا جائزہ لیا جائیگا۔ آئین کے تحت عدلیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ ماتحت عدلیہ کی جانب سے سال 2008 سے پرانے مقدمات نمٹانا خوش آئند ہے۔ موجودہ عدلیہ آئین اور قانون کے تحت ہر شخص کو فوری اور سستا انصاف فر اہمی کر نا چاہتی ہے، ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے اسے انصاف فر اہم کیا جائے۔ انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائیگی۔ حکومت سے ججوں کی تعداد میں اضافے کا کہا تھا تاکہ مقدمات کا جلد فیصلہ ممکن بنایا جا سکے لیکن اس حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔آئی این پی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا ماتحت  عدالتوں میں فوری انصاف کیلئے انفراسٹرکچر  کی بہتری مقدمات کے چالان کا بروقت جمع کرایا جانا، ججز کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس کے مظفر آباد میں عدالتی عمارتوں کی عدم تعمیر کا نوٹس لے لیا۔ سانحہ اسلام آباد کی مذمت کی تارکین وطن کی شکایات کے ازالے کیلئے ضلعی سطح پر تھانے بنانے کی سفارش کی گئی کمیٹی نے کہا کہ بیرون ملک مقیم شہریوں کے مقدمات 6 ماہ میں نمٹائے جائیں۔ اجلاس کے بعد اعلامیہ میں بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے مقدمات 6 ماہ میں نمٹانے اور انکی شکایات کے ازالے کیلئے اضلاع کی سطح پر خصوصی تھانے بنانے کی بھی سفارش کی گئی۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بین الاقوامی عدالتی کانفرنس 18 اور 19 اپریل کو ہو گی جس میں دنیا بھر سے ججز اور وکلاء تنظیموں کے عہدیدار شرکت کریںگی۔ کمیٹی کی جانب سے ایف ایٹ کچہری میں ہونیوالی دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت اور مظفر آباد میں خستہ حال عدالتوں کے باوجود نئی عدالتیں تعمیر نہ کئے جانے پر نوٹس لیا گیا اعلامیہ میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر فوری طور پر عدالتوں کی تعمیر کرے۔ ایف ایٹ کچہری کے واقعہ کے بعد کچہری کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے آئندہ کیلئے ملک بھر میں عدالتوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔