تھرپارکر: قحط ایک اور بچی کو نگل گیا‘24 گھنٹوں میں مزید375 بچے ہسپتال داخل

تھرپارکر: قحط ایک اور بچی کو نگل گیا‘24  گھنٹوں میں مزید375 بچے ہسپتال داخل

کراچی+ لاہور (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) سندھ کے قحط زدہ صحرائی ضلع تھرپارکر میں گزشتہ روز ایک بچی غذائی  کمی اور بیماری کے باعث دم توڑ گئی۔ مٹھی ہسپتال کے ذرائع نے بتایا 8 سالہ بچی کا تعلق گوٹھ  ارباب حسان سے تھا، اس طرح ایک ماہ میں فاقوں، غذائی کمی اور بیماری کی وجہ سے جاںبحق ہونیوالے بچوں کی تعداد 36 تک جاپہنچی ہے۔ ایک نجی ٹی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 375 سے زائد بچے ہسپتال لائے گئے، قحط سالی اور بیماریوں سے بچوں کی اموات پر لوگوں نے علاقے سے نقل مکانی شروع کردی۔ دریں اثنا تھر میں قحط سالی سے ہلاکتوں کے معاملے پر سندھ حکومت نے پنجاب حکومت کی جانب سے امداد اور تعاون کی پیشکش ٹھکرا دی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے جاری ہینڈ آئوٹ کے مطابق تھر میں بچوں کی ہلاکت پر پنجاب حکومت نے سندھ حکومت سے رابطہ کیا اور ہر قسم کی امداد اور تعاون کی پیشکش کی تاہم سندھ حکومت نے تعاون اور امداد لینے  سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں ابھی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ ادھر تھرپارکر میں متاثرین کی مدد کیلئے پاک فوج کے دستوں نے ریلیف آپریشن شروع کردیا ہے جبکہ فیلڈ ہسپتال بھی قائم کر دیا گیا۔ قحط زدہ علاقے میں گندم  اور دیگر اشیائے خوردنی کی تقسیم بھی شروع ہوگئی جبکہ متاثرین کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ تھر پہنچ گئے اور گوداموں میں بند بارہ ہزار بوریوں میں موجود گندم متاثرہ علاقوں میں تقسیم ہونے لگی۔ دوسری طرف وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے پنجاب حکومت کی جانب سے تھر کے متاثرین کیلئے امداد کی کوئی پیشکش نہیں ہوئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے امداد کو ٹھکرانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ تھرپارکر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم وزیراعظم میاں نوازشریف اور وفاقی حکومت کے مشکور ہیں کہ انہوں نے تھر کیلئے اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا تھر میں قحط سالی کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے سندھ حکومت ہرممکن اقدامات کر رہی ہے اور جلد اس پر قابو پالیا جائیگا۔ صوبائی وزیر کی ہدایت پر 30 ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم 15 پیرامیڈیکل سٹاف کے ہمراہ تھر پارکر روانہ ہوگئی۔ اس ٹیم کے ہمراہ ادویات کے 2 ٹرک بھی روانہ کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ تھر میں بچوں کی اموات زیادہ تر بیماری اور سردی کے باعث ہوئیں۔ تھر پارکر میں خوراک اور ادوایات کے بحران کے باعث بچوں کی ہلاکتوں پر غلفت برتنے پر کمشنر میرپور خاص غلام مصطفیٰ اور ڈپٹی کمشنر تھرپارکر مخدوم عقیل الزماں کو معطل کرکے ساجد جمال ابڑو کو کمشنر میرپورخاص اور آصف اکرام کو ڈپٹی کمشنر تھرپارکر تعینات کردیا۔ سندھ حکومت نے ایس پی تھرپارکر عابد قائم خانی کو بھی ہٹا کر انکی جگہ منیر شیخ کو تعینات کردیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے آج  (اتوار) تھر میں قحط سالی اور ریلیف اقدامات کے حوالے سے مٹھی میں اجلاس طلب کرلیا۔ اجلاس میں صوبائی وزرائ، امدادی محکموں کے سربراہان، ارکا ن اسمبلی اور دیگر رہنما شرکت کریں گے۔ اجلاس میں تھر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیکر ریلیف کے کاموں کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی مرتب کی جائیگی۔ حکومت سندھ نے مٹھی کو بیس کیمپ کا درجہ دیدیا ہے جہاں سے تمام امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ادھر خیبرپی کے حکومت نے تھر کے متاثرین، خشک سالی کیلئے ہنگامی طور پر 10 کروڑ روپے کے غذائی پیکیج  کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلی خیبر پی کے پرویزخٹک  نے پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی چاول، آٹا، دالیں، چینی، چائے، کوکنگ آئل، کھجوریں، نمک، پانی، بچوں کیلئے دودھ، ادویات اور دیگر ضروری اشیا مقامی مارکیٹ سے ہنگامی بنیادوں پر خریدی جائیں اور فوری طور پر تھر پہنچا کر متاثرین میں تقسیم کی جائیں۔ وزاعلیٰ نے خشک سالی اور قحط کی صورتحال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ خیبر پی کے  کی حکومت  اور عوام متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیگی۔ انکی ہدایت پر امدادی سامان ٹرکوں میں رات گئے تھر پارکر روانہ کردیا گیا۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے ہمیں ملک میں دہشت گردی کے خاتمے اور طالبان کو شکست دینے کیلئے یکجا ہو کر کوششیں کرنا ہوگی۔ ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا  پنجاب حکومت نے ڈینگی سے 1000 افراد کی ہلاکت کے بعد ہی ڈینگی کیخلاف مہم شروع کی تھی ۔ بہت افسوس کی بات ہے، آج تھر میں قدرتی آفت آئی ہے تو وفاقی حکومت سمیت تمام جماعتیں متاثرین کی مدد کی بجائے صرف اور صرف سیاست میں مصروف ہیں۔ ناقدین پر واضح کردینا چاہتا ہوں تھر میں قدرتی آفت کو میں بھارت کی سازش قرار نہیں دوں گا۔ بلاول نے کہا پچھلے 5 سال سے سندھ قدرتی آفات میں گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستانی اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم تھر کے مصیبت زدہ بھائیوں کو مدد کریں نہ کہ سیاست میں وقت ضائع کریں۔ دوسری طرف صدر ممنون حسین نے گورنر سندھ عشرت العبار سے فون پر رابطہ کرکے تھرپارکر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور رپورٹ طلب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی۔  دریں اثنا وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کی ہدایت پر صحرائے تھر میں خوراک کی کمی اور قحط کے باعث کثیر تعداد میں بچوں کی ہلاکتوں اور وہاں بسنے والے خاندانوں کی مشکلات کے پیش نظر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بیس ہزار خوراک کے پیکٹ متاثرہ افراد میں تقسیم کرنے کیلئے 25 ٹرکوں کا قافلہ صوبائی وزراء چودھری شفیق اور وحید آرائیں کی سربراہی میں لاہور سے روانہ کردیا گیا۔ وزیراعلی پنجاب نے ڈائریکٹر جنرل ڈیزاسٹرمینجمنٹ پنجاب آصف کو بھی خصوصی طور پر اس قافلے کے ساتھ روانہ ہونے کی ہدایت کی۔ چیئرمین  بحریہ ٹائون ملک ریاض  حسین کی جانب سے تھرپارکر کرکے قحط زدگان  کیلئے 20 کروڑ روپے کی امداد کے اعلان کے بعد بحریہ ٹائون  کی متاثرین بحالی ایکشن ٹیم، ایمبولینس، موبائل ہسپتال، واٹرٹینک سے بھرے ٹرک لیکر متاثرہ علاقے میں پہنچ گئی۔ ملک ریاض کی خصوصی  ہدایت پر تھرپارکر  کی امدادی ٹیم کا بیس کیمپ تھرپارکر کے علاقے، مٹھی قائم کیا جا رہا ہے جبکہ تین کیمپ چچرو، ڈپلو اور نگرپار کرکے علاقوں میں قائم کئے جا رہے ہیں۔ تمام کیمپس کے پاس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمبولینس سمیت ڈاکٹرز پیرامیڈیکل سٹاف خوراک اور ادویات کی وافر تعداد موجود ہے۔ ملک ریاض نے کہا متاثرہ علاقوں کے گھرانوں کو 10 سے 50 ہزار تک امدادی رقوم بھی انکے گھروں پر مہیا کی جائیں گی اور امداد کا یہ سلسلہ ابتدائی طور پر ہنگامی بنیادوں پر چھ ماہ تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد بحریہ ٹائون ان کیلئے پینے کا صاف پانی، خوراک اور ادویات کا مستقل انتظام کرے گا۔ ملک ریاض نے مزید بتایا  بھوک، پیاس اور ادویات کی غیر موجودگی کے باعث بچوں، بڑوں کی ہلاکتوں کی خبر نے انہیں دہلا دیا ہے اور انکو جس قدر بھی رقم خرچ کرنی پڑی وہ بلادریغ  خرچ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا تھرپارکر کے صرف قحط زدگان انکے ذاتی موبائل 0334-5164991 پر ایس ایم ایس میں اپنا نام، پتہ اور ضرورت لکھ کر بھجوائیں۔ بحریہ ٹائون کی امدادی ٹیم ان کے گھر پہنچ کر انکا خوراک، پانی اور علاج کا مسئلہ حل کرے گی۔ مزید برآں بحریہ ٹائون کے کال سینٹر 0800-00100 کا ایمرجنسی مشن برائے تھرپارکر  24 گھنٹے قحط زدگان کے متاثرین سے متعلق کسی بھی قسم کی ضرورت کیلئے قائم کر دیا گیا ہے جہاں متاثرہ خاندان اپنی ضرورت درج کروا سکتے ہیں۔ جب ان سے استفسار کیا گیا وہ کس قدر رقم ان متاثرین کے بحالی پراجیکٹ کیلئے مختص کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا 20 کروڑ صرف ابتدائی  طور مختص کئے گئے ہیں ورنہ تھرپارکر کے لوگوں کی قحساط سالی سے جانیں بچانے کیلئے 50 کروڑ یا 100 کروڑ یا جس قدر بھی روپے خرچ  کرنے پڑے تو وہ دریغ نہیں کریں گے اور ان متاثرہ بہن بھائیوں کیلئے ان کی جان بھی حاضر ہے۔