انتظامیہ کردار ادا نہ کرے تو عدلیہ کا مداخلت کرنا ضروری ہے: جسٹس ثاقب نثار

انتظامیہ کردار ادا نہ کرے تو عدلیہ کا مداخلت کرنا ضروری ہے: جسٹس ثاقب نثار

لاہور (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ کے جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ یہ عمل باعث تشویش ہے کہ لوگوں کے مقدمات زیر التوا رہتے ہیں۔ جج صاحبان جلد از جلد مقدمات نمٹانے کے لئے مؤثر فیصلے کریں۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں دیوانی مقدمہ جات کو نمٹانے کے حوالے سے ایک جامع لیکچر دیتے ہوئے جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ضلعی عدلیہ کے ججز کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی طرف سے سرپرستی حاصل ہے۔ انہیں کسی دباؤ کا شکار نہیں ہونا چاہئے اور وہ تمام مقدمات کے فیصلے میرٹ کی بنیاد پر کر کے عوام کی توقعات پر پورا اتریں۔ انہوں نے عدالتی افسران سے کہا کہ لوگ اپنے مرنے والوں کا دکھ بھول جاتے ہیں لیکن اپنے مقدمات کی تاخیر کو نہیں بھولتے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ضلعی عدلیہ کو ملک کے نظام انصاف میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لئے وہ ایسے جامع فیصلے کریں جو اعلیٰ عدالتوں میں بھی قائم رہیں اور چھوٹی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا رجحان ختم ہو جائے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ اکیڈمی میں جدید ٹیکنالوجی اور قانونی پہلوؤں پر مشتمل اہم کورس شروع کئے جا رہے ہیں۔ اکیڈمی میں تحقیق اور انگریزی زبان کی ترویج کے لئے بھی کورس شروع کئے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جج صاحبان بلاخوف و خطر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں انہیں عدالت عالیہ مکمل تحفظ فراہم کرے گی۔ آئی این پی کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جب انتظامیہ اپنا کردار ادا نہ کرے تو عدلیہ کا مداخلت کرنا ضروری ہے‘ ججزکا قبلہ انصاف کی طرف ہونا چاہئے۔کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے انصاف کی فراہمی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ معاشرے میں جلد انصاف نہ ملنے کی شکایات درست ہیں اور سوات میں بھی تحریک چلانے والوں نے انصاف کی جلد فرا ہمی کا نعرہ لگایا۔ پاکستان کے آئین کے مطابق انصاف کی فراہمی ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے جس سے اسکو کسی بھی صورت محروم نہیں رکھا جا سکتا۔