اداروں کے بورڈز میں 33 فیصد نمائندگی ‘ صوبائی اسمبلی میں بل منظور‘ پنجاب حکومت کا خواتین کے لئے ایک اور پیکج ‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کریں گے: وزیر اعلی

اداروں کے بورڈز میں 33 فیصد نمائندگی ‘ صوبائی اسمبلی میں بل منظور‘ پنجاب حکومت کا خواتین کے لئے ایک اور پیکج ‘ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کریں گے: وزیر اعلی

لاہور (خصوصی رپورٹر+ کامرس رپورٹر) خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پنجاب اسمبلی نے خواتین کو اختیارات، آزادی دینے اور تمام حکومتی اداروں کے فیصلہ ساز اور پالیسی ساز بورڈ آف گورنرز میں 25,992 خواتین کو 33 فیصد نمائندگی دینے کیلئے 2014ءکا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا، اپوزیشن جماعتوں پاکستان تحریک انصاف، (ق) لیگ اور پیپلزپارٹی نے قبل ازیں مسودہ قانون میں ترمیم پیش کی جسے کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا۔ خواتین کی مناسب نمائندگی پنجاب 2014ءکے قانون کے ذریعے 66 ترامیم منظور کی گئیں۔ یہ مسودہ قانون صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ نے پیش کیا تھا۔ اس حوالے سے مسودہ قانون صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ نے پیش کیا تھا۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے اور صوبے میں پنجاب خواتین پارلیمانی گروپ قائم کرنے کی قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ اپوزیشن نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر قانون سازی اور حکومتی اقدامات کو ”ڈرامہ اورشعبدہ بازی“جبکہ صوبائی وزیر قانون راناثناءاللہ خان نے طالبان کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کو بھی خواتین کی ترقی کا مخالف قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے صوبائی وزیر قانون کو پیدائشی ”نیگیٹو“ کہنے پر حکومتی ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ بعدازاں ڈپٹی سپیکر نے الفاظ کارروائی سے حذف کرنے کی ہدایت کی‘ تحریک انصاف کی رکن اسمبلی سعدیہ سہیل نے حکومت سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ سے رہائی اور ملک میں واپسی کا مطالبہ کیا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے قواعد کی معطلی کی تحریک پیش کی جو منظور کرلی گئی جس کے بعد صوبائی وزیر برائے خواتین ترقی حمیدہ وحید الدین نے خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بابائے قوم محمد علی جناح ؒکی بصیرت کی روشنی میں خواتین کو معاشی ، سماجی اور سیاسی شعبوں میں مساوی شہری کے طور پر قومی دھارے میں لانے کےلئے اپنی بھر پو روابستگی اور حمایت کا اظہار کرتا ہے ۔ یہ ایوان اس ضمن میں حکومت پنجاب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا اور اس امر کی سفارش کرتا ہے کہ آئین کے تحت خواتین کے حقوق اور ترقی کےلئے صوبہ بھر میں پنجاب خواتین پارلیمانی گروپ قائم کیا جائے اسے متفقہ طور پرمنظور کرلیا گیا دوسری قرار داد مسلم لیگ (ن)کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد قواعد کی معطلی کے بعد پیش کی جس کو بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا، اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے کہاکہ آج خواتین کے حقوق کی بات کرنے والے پنجاب کے حکمرانوں کو اس سے پہلے خواتین کی ترقی اور خوشحالی کا خیال کیوں نہیں آیا 2012ءمیں بھی پنجاب حکومت نے خواتین کی ترقی کےلئے پیکج کا اعلان کیا جس پر آج تک عمل نہیں ہو سکا صوبے میں خواتین پر جنسی تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات میں ہر سال مسلسل اضافہ ہو رہا ہے صرف صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان کے شہر میں ایک سال کے دوران ایک ہزار 38جنسی تشدد کے واقعات ہوئے صوبے میں 47ہزار سے زائد لیڈیز ہیلتھ ورکرز 20سال سے ریگولر ہونے کیلئے دربدر ہیں، وہ دو دن تک پنجاب اسمبلی کے سامنے سراپا احتجاج رہیں اس وقت حکمرانوں کی عزت اور غیرت کہاں تھی؟ لاہور میں 5سالہ سنبل کے ساتھ زیادتی ہوئی آج تک اس کے ملزم نہیں پکڑے جا سکے اور ایسی ہزاروں سنبل ہیں جو انصاف کےلئے پکار رہی ہیں مگر ان کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں حکومتی اقدامات صرف سیاسی مشہوری ہیں جن سے عام خواتین کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، حکومت نے انتہائی عجلت میں خواتین کو مناسب نمائندگی کا بل ایوان میں منظوری کےلئے پیش کیا یہ اچھا بل ہے لیکن اس کےلئے جو طریقہ کار اپنایا گیا ہے وہ اچھا نہیں، صوبائی وزیر قانون راناثناءاللہ خان نے شدید احتجاج کیا اور کہاکہ جس طرح طالبان کو خواتین کی ترقی پسند نہیں اسی طرح تحریک انصاف کو بھی خواتین کی ترقی پسند نہیں آتی، دنیا میں صرف 2ہی لوگ ہیں جو خواتین کی ترقی کی مخالفت کر رہے ہیں جن میں طالبان اور تحریک انصاف شامل ہے۔ اپوزیشن نے خواتین کے بل کےلئے جو ترامیم دی ہیں ان پر تاریخ ستمبر 2013ءلکھی ہوئی ہے حالانکہ اب 2014ءآ چکا ہے۔ پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی فائزہ ملک نے کہاکہ پنجاب حکومت صوبے کی دیگر خواتین کو حقوق دینے سے پہلے پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر آنے والی خواتین کو ان کے حقوق دے ایک طرف خواتین ارکان اسمبلی کا استحصال کیا جا رہاہے دوسری طرف صوبے میں خواتین کو ان کے حقوق دینے کی بات ہو رہی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے گھرمیں خواتین کو حقوق دیں پھر بات کریں یہاں تو خواتین کو ترقیاتی فنڈز اور اضلاع کی سطح پر ڈی سی سی کی کمیٹیوں میں نمائندگیاںبھی نہیں دی جا رہیں۔ تحریک انصاف کے میاں اسلم اقبال نے کہاکہ صوبے میں لوگ بے روزگاری سے مر رہے ہیں حکومت سر سے اخروٹ توڑنے اور الٹی سیدھی بنیانیں پہننے کے ریکارڈ بنوانے میں مصروف ہیں مجھے بتایا جائے ان ریکارڈ ز سے عام آدمی اور خواتین کو کیا فائدہ ہو گا حکمران صرف سیاسی شعبدہ بازی اور ڈرامے بازی میں مصروف ہیں مگر وہ قوم کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ صوبے میں آج بھی ہزاروں خواتین زچگی کے دوران دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں لیکن ان کےلئے کوئی کچھ نہیں کرتا، حکومت خواتین کو مناسب نمائندگی کے حوالے سے جو بل لائی ہے اس سے عام خاتون اور ورکرز خواتین کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئے گی صوبے میں سینکڑوں خواتین پر تیزاب پھینکے گئے انہیں انصاف نہیں مل سکا۔ تحریک انصاف کے ڈاکٹر مراد راس نے کہاکہ حکومتی اقدامات صرف ڈرامہ اور شعبدہ بازی ہے، آج بھی ہزاروں بچے بچیاں داخل نہیں ہو رہیں کیا وہ اس قوم کی بیٹیاں نہیں ۔ تحریک انصاف کی سعدیہ سہیل نے کہاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی عمران خان، آصف علی زرداری ، نوازشریف اور شہبازشریف کی بیٹی ہے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ان غیرت مند بھائیوں کی بہن ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ میں بے آبرو ہوتی رہے میر امطالبہ ہے کہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لانے کا اعلان کرے۔ ق لیگ کے عامر سلطان چیمہ نے کہاکہ حکومت ہرسا ل خواتین کی ترقی کےلئے صرف نعرے لگاتی ہے لیکن یہ عملی طور پر کچھ نہیں کرتے چودھری پرویز الہٰی کے دور میں خواتین کی ترقی کےلئے عملی اقدامات کئے گئے ۔ تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی سبطین خان نے کہاکہ حکومت نے ماضی میں بھی خواتین کی ترقی کےلئے جو وعدے کئے ان پر عمل نہیں کیا اس لئے آئندہ بھی حکمرانوں سے کسی خیر کی توقع نہیں اس موقع پر دیگر خواتین اور ممبران اسمبلی نے خواتین کی ترقی اور حکومتی اقدامات کے حوالے سے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی اقدامات کو ناکافی اور سیاسی مشہوری قرار دیاجس کے بعد ایوان نے پنجاب کے مختلف سرکاری اور پرائیویٹ اداروں میں فیصلہ ساز شعبوں میں خواتین کو نمائندگی دینے کےلئے مناسب نمائندگی کا بل2014ءمنظور کرلیا، اپوزیشن کی ترامیم کو مسترد کر دیا گیا۔ مناسب نمائندگی کے بل 2014ءکے تحت خواتین کو محکموں میں 33فیصد نمائندگی حاصل ہو گی، فیصلہ ساز اداروں میں 24ہزار 992خواتین کو نمائندگی ملے گی، خواتین کی نمائندگی کیلئے 27محکموں کے قوانین میں ترامیم کی گئی ہیں۔ قرارداد کے موقع پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں تلخ کلامی ہو گئی۔ اپوزیشن نے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کے بیان پر شدید احتجاج کیا۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ خواتین کے حقوق کی قرارداد کی مخالفت طالبان کر سکتے ہیں یا تحریک انصاف۔ تحریک انصاف نے جو ترمیم دی وہ ستمبر 2013ءکی ہے۔ میاں عبدالرشید نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ خواتین کے حقوق کی حمایت کی ہے۔ سپیکر نے وزیر قانون رانا ثناءکے الفاظ کارروائی سے حذف کرا دئیے۔
لاہور (خصوصی رپورٹر+ لیڈی رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے جامع اور دوررس اصلاحات پر مبنی ایک اور پیکیج کا اعلان کیا ہے جس کے تحت قوانین میں موجود ہر وہ اقدام ختم کیا جا رہا ہے جو صوبہ پنجاب میں خواتین کی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔ وزیراعلیٰ نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پنجاب حکومت 8 ارب روپے کی لاگت سے مزید 2 لاکھ لیپ ٹاپ ہونہار طلبا و طالبات میں تقسیم کریگی۔ وہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایوان اقبال میں منعقدہ تقریب اور پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے حقوق خواتین کے حوالے سے مختلف قوانین میں ترامیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت چائلڈ میرج ایکٹ، جہیز اور دلہن کو دئیے جانیوالے تحائف کے بارے میں ایکٹ، شادی بیاہ کی تقریبات کے بارے میں ایکٹ، گارڈین اینڈ وارڈ ایکٹ، موجودہ نکاح نامہ، پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ اور ٹھوس اثاثہ جات کی تقسیم کے بارے میں قوانین میں ترامیم کررہی ہے۔ پنجاب میں خواتین کے حوالے سے صوبائی کمشن قائم کیا گیا ہے جس کیلئے چیئرپرسن کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ گھریلو ملازموں کے بارے میں جامع پالیسی لائی جا رہی ہے، بچوں کی پیدائش پر رجسٹریشن فیس ختم کی جا رہی ہے جس سے بچیوں کی رجسٹریشن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ خواتین کے تعلیمی اداروں میں صرف خاتون ٹھیکیدار ہی کنٹینیں چلاسکیں گی، ٹریڈ یونین میں عہدیداروں کے طور پر خواتین کی شمولیت لازمی ہوگی، خواتین کیلئے ویٹرنری ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا جائیگا، کارکنوں کی بیویوں کے لئے ٹیکنیکل ٹریننگ کا انتظام ہوگا، سکولوں کے نصاب میں مردوں اورخواتین کے درمیان مساوات پر مبنی اسباق شامل کئے جائیں گے۔ خواتین کو معاشی طور پر توانا بنائے بغیر معاشرے میں انہیں مطلوبہ مقام نہیں دلایا جاسکتا۔ ہم نے اپنے پیکیج میں ایسے پروگرام شامل کئے ہیں جو اس مقصد کیلئے براہ راست خواتین کے مددگار ثابت ہوں گے۔ ہم نے آنیوالے دنوں میں خواتین کیلئے روزگار اور چھوٹے درجے پر تجارت کے مختلف النوع مواقع پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خواتین کی ترقی اور ان کی بہبود پر کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں گے۔ سال رواں 2014ءمیں پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ اور پنجاب ایجوکیشن فا¶نڈیشن اور پنجاب سِکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت خواتین کی تعلیمی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافے کیلئے مختلف پروگراموں پر عملدرآمد کیا جائیگا۔ تمام سرکاری کارپوریشنوں اور اداروں اور کمپنیوں کے بورڈز میں خواتین کا کم از کم 33 فیصد حصہ لازمی قرار دیا جاچکا ہے۔ پاکستان کی قومی سلامتی اس کی معاشی سکیورٹی سے عبارت ہے اور اگر ہم واقعی پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم ملک بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کی مکمل شرکت کو یقینی بنانا پڑیگا۔ خواتین کے ساتھ صدیوں پر پھیلے ہوئے امتیازی سلوک اور ناانصافی کی تلافی کرنے کےلئے ہمیں مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ہم خواتین کے حوالے سے ایسی پالیسی اصلاحات لیکر آئے ہیں جس کے پیچھے قانون کی طاقت موجود ہے۔ محنت مزدوری کیلئے جو خواتین گھر سے نکلنے کا دلیرانہ فیصلہ کرکے معیشت کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں، انہیں ہراساں کرنیوالے افراد کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔ کام والی جگہ پر کسی بھی خاتون کو ہراساں کرنا ایک جرم ہے اور اےسے افراد سے مجرموں جیسا ہی سلوک کیا جائیگا۔ پنجاب اسمبلی کے ایوان میں خواتین کے عا لمی دن کے موقع پر متفقہ طو رپر خواتین کی مناسب نمائندگی پنجاب 2014ءکا قانون منظور کیا گیا ہے جس پر میں اپوزیشن اور تمام معزز ایوان کا شکرےہ ادا کرتا ہوں، ےہ قانون خواتین کے حقوق کیلئے بہت بڑا اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ نے ترکی اور چین کی ترقی کی مثال دےتے ہوئے کہاکہ دونوں ملکوں نے خواتین کو قومی دھارے میں شامل کر کے پائےدار ترقی کی اور آج دونوں ملک معاشی طو رپر خوشحال ہےں۔ ترکی اور چین میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ دونوں ممالک نے شبانہ روز محنت سے ےہ مقام حاصل کیا۔ میں آج ہی ترکی سے واپس آیا ہوں اور ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے اپنے دورہ لاہور کے دوران ملنے والے والہانہ محبت پر پاکستان خصوصاً لاہور کے شہریوں کا شکرےہ ادا کیا ہے جبکہ کچھ عرصہ قبل صدر کے ساتھ ہم چین گئے، چین کی حکومت نے پاکستان کے مسائل کا بھرپور ادراک کرتے ہوئے 7سال کیلئے 32 ارب ڈالر کے سرماےہ کاری پیکیج کا ا علان کیا ہے۔ چینی قیادت خود اس بات کا برملا اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان چین دوستی ہمالیہ سے بلند ، سمند ر سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ اگر ہم شبانہ روز محنت کریں اور 32 ارب ڈالر کا 80 فیصد بھی استعمال میں لے آئے تو اس ملک سے اندھےرے ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائیں گے۔ خواتین کی مناسب نمائندگی کا قانون خوشحال، صحتمند اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کی جانب سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے پنجاب ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈ میں 50 ہزار طلبا و طالبات کو وظائف دےئے ہیں جس میں 25 ہزار طالبات ہیں اسی طرح 2 برس کے دوران لیپ ٹاپ سکیم سے استفادہ کرنے والوں میں 60 فیصد طالبات شامل ہیں۔ 4 ارب کے چھوٹے قرضے 50 فیصد خواتین کو دئےے گئے ہیں اورآج وہ باعزت طریقے سے روزگار کما رہی ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف کی قرضہ سکیم میں 50ارب روپے خواتین کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سابق دور حکومت میں صوبوں کو اعتماد میں لئے بغیر صوبوں کے حوالے کیا گیا تاہم میں آج لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ریگولر کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ ےہ ہماری اپنی بیٹیاں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ خواتین آبادی کا 52 فیصد ہیں، انہیں تعلیم حاصل کرنے کے بعد عملی میدان میں آنا چاہئے۔ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنیوالی طالبات کو دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے کام کرنا چاہےے۔ اگر قوم کا سرماےہ بیٹیوں کی تعلیم کیلئے صرف ہوتا ہے تو ہماری بیٹیوں کا فرض ہے کہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد عملی میدان میں آئیں۔ اس ضمن میں ہمیں کلچر تبدیل کرنا ہوگا۔ خواتین کی ترقی وخوشحالی کیلئے اٹھایا جانیوالا ہمارا ہر قدم آگے کی طرف جائیگا۔ خواتین کی عزت و توقیر میں ا ضافہ کیا جائیگا تاکہ ملک باوقار اور طاقتور ہو۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب اسمبلی میں منظور کئے گئے قانون کے تحت پنجاب حکومت نے تمام سرکاری اداروں، خودمختار بورڈز اور ڈویلپمنٹ اور ریسرچ سینٹرز میں خواتین کی نمائندگی کو لازمی قرار دیدیا ہے۔ اس قانون سے 25 ہزار خواتین کو نمائند گی کا حق حاصل ہوگیا ہے۔ اب ےہ 25 ہزار خواتین 25 لاکھ خواتین کے حقوق کے لئے بھر پور آواز اٹھائیں گی۔ اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو خواتین کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گھروں میں بیٹھنا ان مریضوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو ہسپتالوں میں علاج کے منتظر ہوتے ہیں۔ اسی ماہ راولپنڈی، اسلام آباد میٹروبس پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے، چین نے ملتان روڈ پر اورنج لائن کیلئے 2 ارب ڈالر کی پیشکش کی ہے۔ ہمارا پروگرام یہاں ریل چلانے کا ہے۔ خواتین عملی میدان میں بھرپور شرکت کریں، پنجاب حکومت ان پر ان کی آبادی کے تناسب یعنی 52 فیصد سے زائد وسائل انکے قدموں میں نچھاور کریگی۔ حکومت خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے اپنا فرض اداکر رہی ہے اب خواتین کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ لاہور سے لیڈی رپورٹر کے مطابق ایوان اقبال میں خطاب میں وزیراعلیٰ شہبازشریف نے کہا کہ خواتین کو امپاور کئے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، جب تک ہماری خواتین ترک، ملائیشین اور چینی خواتین کی طرح کام نہیںکریںگی ہم کھویا ہوا مقام حاصل نہیںکرسکتے، اگر پاکستان کوترقی کی شاہراہ پرگامزن کرنا ہے تو خواتین کو بھرپورکرداراداکرنا ہوگا۔ اس موقع پر وفاقی وزراءانوشہ رحمن، سائرہ افضل تارڑ، صوبائی وزراءذکیہ شاہنواز اور حمیدہ وحیدالدین ، سینیٹرز نجمہ حمید، نزہت عامر صادق، ارکان قوی وصوبائی اسمبلی شازیہ مٹو، عارفہ خالد، شکیلہ لقمان ، صباصادق، خالدہ منصور، حنابٹ، کالج پرنسپلز پروفیسرڈاکٹر سمیعہ کلثوم، کلثوم برنی، ڈاکٹرطاہرہ سکندر، پروفیسر کوکب تسنیم، ڈاکٹررخسانہ لطافت، رفعت ثقلین، ثمینہ بھٹی، اداکارہ زیبا، گلوکارہ ترنم ناز، اساتذہ، پولیس افسر، افواج پاکستان میں خدمات انجام دینے والی خواتین، ڈاکٹرز، خواتین وکلائ، سوشل ورکرزسمیت زندگی کے مختلف شعبوںسے وابستہ خواتین بھی موجود تھیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری خواتین کئی حوالوںسے مردوںسے آگے ہیں اور ستاروں پر کمند ڈال رہی ہیں۔ ملک کی 45 فیصد آبادی اگر ملکی ترقی کیلئے فعال کردارکی بجائے گھروں میں بیٹھی رہے گی تو ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہاکہ خواتین حصول تعلیم کے بعد گھروں میں بیٹھ جانے کی بجائے میدان عمل میں آئیں ورنہ یہ قوم کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی۔ انہوںنے کہاکہ ہم سب ملکر پاکستان کوعظیم بنائیںگے اور یہ ملک حقیقی معنوں میں قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان بنے گا۔ اسی ماہ راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔ ہمارا پروگرام یہاں پر ریل چلانے کا ہے۔