چیف الیکشن کمشنر بااختیار ہونا چاہئے، جج کو بنانے کی پابندی ختم، اسمبلیوں کی معیاد 4 برس کی جائے : اپوزیشن لیڈر

چیف الیکشن کمشنر بااختیار ہونا چاہئے، جج کو بنانے کی پابندی ختم، اسمبلیوں کی معیاد 4 برس کی جائے : اپوزیشن لیڈر

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی +نیوز ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے انتخابی اصلاحات کیلئے تجاویز دے دی ہیں انہوں نے تجویز دی ہے کہ جمہوریت کے استحکام اور اسے آئے دن کے خطرات سے بچانے کیلئے اسمبلیوں   کی مدت کم کر کے 5 سال کے بجائے 4 سال کر دی جائے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کیلئے جس طرح سابق صدر آصف زرداری نے صدر کے تمام اختیارات پارلیمنٹ کو تفویض کئے تھے، وزیر اعظم نواز شریف کو چاہیے کہ آئندہ اسمبلیوں کی مدت پانچ کے بجائے چار سال کر دیں، اس سے نہ صرف جمہوریت مضبوط بلکہ کسی کو سازش کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا‘ موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہئے۔ 5 سالہ مدت کچھ جماعتوں سے ہضم نہیں ہوتی اسمبلیوں کی مدت 4 سال ہونے سے جھگڑے ہی ختم ہو جائینگے۔ جمہوریت مستحکم ہو جائے تو مدت دوبارہ 5 سال کر دی جائے۔ چیف الیکشن کمشنر کیلئے جج کی پابندی ختم ہونی چاہئے، چیف الیکشن کمشنر کو بااختیار ہونا چاہئے۔ بیوروکریٹس اور وکلا کو بھی چیف ا لیکشن کمشنر کے عہدے سے کا اہل قرار دینے کیلئے ترمیم ہونی چاہئے۔ چیف الیکشن کمشنر کیلئے صرف جج ہونے کی پابندی کے باعث آپشنز محدود ہیں اگر موزوں جج نہ ملا تو چیف الیکشن کمشنر کہاں سے لائیں؟ پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نواز شریف سے جب بھی ملاقات کریں گے انہیں تجویز دیں گے کہ موجودہ حکومت اپنی مدت پانچ سال پورے کرے، آئندہ کے لئے مرکزی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت پانچ کے بجائے چار سال کر دی جائے، اس سے جمہوریت کو فائدہ ہو گا اور وہ عناصر جو بے صبرے ہو کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، منفی حربے اختیار کرتے ہیں، ایسے عناصر کو سازش کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ابھی جمہوریت نے بچوں کی طرح چلنا سیکھا ہے، انشاء اللہ اگلی مدت بالغ جمہوریت کی صورت میں صبر اور تدبر آ جائے گا۔ سابق صدر آصف زرداری نے 58-2B سمیت بہت سے اختیارات ختم اور پارلیمنٹ کو ساری طاقت دی۔ امید ہے کہ میاں نواز شریف میری تجویز پر مثبت انداز میں غور کریں گے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنمائوں سے چیف الیکشن کمشنر کے ناموں پر مشاورت ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی نے کوئی نام تجویز نہیں کیا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس اخباری خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ سابق چیف جسٹس تصدق جیلانی کا نام بطور چیف الیکشن کمشنر تجویز کیا گیا ہے، پہلے وزیر اعظم کی جانب سے نام آئیں گے اس کے بعد اپوزیشن اپنے نام دے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو بااختیار ہونا چاہئے کیونکہ اس وقت چیف الیکشن کمشنر بھی اتنا ہی بااختیار ہے جتنا کہ کمیشن کا کوئی دوسرا رکن۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کیلئے چونکہ صرف جج کی پابندی ہے اس لئے آپشن محدود ہیں اور اگر کوئی موزوں جج نہ ملے چیف الیکشن کمشنر کہاں سے لائیں۔