پارلیمنٹ کے بلوں اور کمیٹیوں سے پیٹ نہیں بھرتے، بتایا جائے غریب کب بھوکا نہیں سوئے گا:سپریم کورٹ

پارلیمنٹ کے بلوں اور کمیٹیوں سے پیٹ نہیں بھرتے، بتایا جائے غریب کب بھوکا نہیں سوئے گا:سپریم کورٹ

اسلام آباد (ثناء نیوز + نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ نے آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے مقدمہ کی سماعت کے دوران وفاق اور صوبائی حکومتوں کو آخری مہلت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 17 جولائی تک ملک بھر کے غریبوں کو سستے آٹے کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کر کے عدالت کو حتمی ٹائم  فریم دیا جائے اور بتایا جائے کہ کب تک ملک کا کوئی شہری بھوکا نہیں سوئے گا اگر عدالت کو ٹائم فریم نہ دیا گیا تو پھر عدالتی حکم عدولی کے نتائج بھگتنا ہونگے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اکتوبر 2013ء سے مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن اب تک کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس کردہ بلوں یا حکومت کی جانب سے کمیٹیوں  کے قیام سے غریبوں کے پیٹ نہیں بھرتے، آئندہ سماعت پر کوئی صوبہ کمیٹی کے قیام یا اعدادوشمار کے بارے میں عدالت کو نہ بتائے صرف ٹائم فریم فراہم کیا جائے اور وفاقی حکومت صوبوں کے اقدامات کی مانیٹرنگ کرے۔ عدالت کو چکروں میں ڈالا جا رہا ہے سیدھی بات نہیں بتائی جا رہی۔ ہم اب اس مرحلے پر آ چکے ہیں جہاں  طفل تسلیاں نہیں چلیں گی، صوبائی سیکرٹریوں اور سرکاری وکلا کو مخاطب کرکے عدالت نے کہاکہ آپ تمام افسران سینئر عہدوں پر فائز ہیں آپ کا تجربہ 20,25 سال ہو گا۔ آپ کو اس کی بنیاد پر ہمیں بتانا ہو گا کہ,9 8 ماہ سے ابھی تک کوئی ٹھوس چیز سامنے نہیں آ رہی۔ اس بارے مشکلات ضرور ہونگی۔ ان سے انکار نہیں لیکن یہ مشکلات ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ سکیم کے پیسے لینے کے لئے لوگوں کو لائنوں میں لگتا پڑتا ہے وہ ایک درست تجربہ نہیں ہے جب لوگ راشن کارڈ لے کر جائیں گے تو ان کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسٹس جواد ایس  خواجہ نے سیکرٹری فوڈ سکیورٹی سیرت اصغر  کے تاخیر پر آنے سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افسری چھوڑ دیں انہیں وقت پر آنا چاہیے۔  افسران افسری  چھوڑ کر عوام کی خدمت کریں۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے جذبہ اور جوش کا ہونا ضروری ہے ورنہ معاملہ آگے نہیں بڑھے گا۔ افسر ہمیں بتائیں کہ کیا کیا جائے گا۔ اس موقع پر  سیکرٹری فوڈ پنجاب محمد اسلم کمبوہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چین گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو حکم دیا ہے کہ  وہ اس ضمن میں اپنا کام تیز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر حکام سے رابطہ کیا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ بہت سے مسائل ہیں آپ مل کر بیٹھ  جائیں اور بتائیں کہ کب تک اقدامات کئے  جا سکتے ہیں۔ سرکار چلانا آپ کا کام ہے اور ہمارا کام آرٹیکل 9,14 اور 38 پرعملدرآمد یقینی بنانا۔ ہمارا کام ہے کہ اکتوبر سے  جولائی  تک 9 مہینے ہو چکے ہیں پتہ چلے کہ کوئی کام ہو رہا ہے۔ یہ معاملہ ایسے نہیں چلے گا،  2008ء میں عدالت کے فیصلہ کا کوئی اطلاق نہیں ہو سکا۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عتیق شاہ نے عدالتی وقفے کے بعد بتایا کہ خیبر پی کے نے کہا ہے کہ  وہ اسی ماہ کے دوران ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ ملک کا کوئی شہری بھوکا نہیں سوئے  گا ہمیں یہ بتایا جائے کہ کب تک ہر شہری کو آٹا سستے داموں ملے گا۔  بلوچستان کے سیکرٹری خوراک کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ  نے کہا کہ صوبے میں کوئی شخص بھوکا نہیں سونا چاہئے ہمیں دیگر باتیں نہ بتائی جائیں ہمیں تحریری شکل میں بتائیں اگر سیکرٹری فوڈ نہیں بتا سکتے تو پھر صوبے کے لاء آفیسر ان کی نمائندگی نہ کریں سب سے زیادہ غربت تو بلوچستان میں ہے ہم آپ سے سیدھی باتیں مانگتے ہیں آپ عدالت کو چکروں میں ڈالتے ہیں ہم آپ کو آخری مہلت دے رہے ہیں ہمیں حتمی ٹائم فریم دیں۔آپ عدالت ہم پر کوئی  احسان نہیں کر رہے ہیں آپ کی ذمہ داری ہے۔ حکومت اب  تک غریبوں کو اناج کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔ انہیں فراہمی  ہر صورت یقینی بنائی جائے، غفلت برداشت نہیں کریں گے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ اکتوبر 2013ء سے معاملہ زیر سماعت ہے عدالت   کے یکم جولائی کے حکم پر کوئی پیشرفت نہیں کی گئی اور کوئی قابل اطمینان اقدامات نہیں کیے گئے کہ شہریوں کو آٹے کی  سستے داموں فراہمی یقینی بنائی جائے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ کوئی ٹائم فریم عدالت کو نہیں دیا گیا کہ شہریوں کو خوراک کی کم از کم مقدار کی فراہم کب تک یقینی بنا دی جائے گی۔ خیبر پی کے  میں کچھ ہو رہا ہے باقی صوبوں میں کچھ نہیں ہے۔ چاروں صوبے مل کر معاملے کا کوئی حل نکالیں۔