کندھ کوٹ میں خسرہ نے مزید تین زندگیاں نگل لیں جس کےبعد ضلع بھرمیں ہلاکتوں کی تعداد ایک سونو ہوگئی۔

کندھ کوٹ میں خسرہ نے مزید تین زندگیاں نگل لیں جس کےبعد ضلع بھرمیں ہلاکتوں کی تعداد ایک سونو ہوگئی۔

محکمہ صحت سندھ کی جانب سے صوبے میں خسرہ کی ویکسی نیشن کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کو ہے لیکن وبائی مرض سے اموات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ صوبے کے سب سے متاثرہ علاقے کندھ کوٹ میں آج مزید تین ماؤں کی گود اجڑ گئی، تنگوانی کے گاؤں علی بیگ میں چھ سالہ رانی اس جان لیوا مرض سے دم توڑگئی،کشمور میں چار سالہ شاہد اور تین سالہ مائرہ بھی جان برنہ ہوسکے۔ ضلع بھر میں موذی مرض سے ہلاکتوں کی تعداد ایک سو نو ہوچکی ہے جبکہ ہزاروں بچوں پر موت کے سائے منڈ لارہے ہیں۔ سکھر، گھوٹکی،جیکب آباد سمیت کئی علاقوں میں ویکسی نیشن کی قلت اور عملے کی کمی سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے لیکن حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سندھ بھر میں خسرہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دو سو تراسی تک پہنچ چکی ہے۔