لانگ مارچ میں دہشت گردی ہوئی تو ذمہ دار بس ڈرائیور‘ کنڈکٹر ہوگا : رحمن ملک

لانگ مارچ میں دہشت گردی ہوئی تو ذمہ دار بس ڈرائیور‘ کنڈکٹر ہوگا : رحمن ملک

اسلام آباد (وقائع نگار + نوائے وقت رپورٹ) لانگ مارچ کیلئے اسلام آباد کے ریڈ زون کے اردگرد کنٹینرز لگا کر خاردار تاریں بچھا دیں کنٹینرز کا مقصد ڈپلومیٹک انکلیو، ایوان صدر اور وزیراعظم ہاﺅس کو سکیورٹی دینا ہے۔ اسلام آباد ضلعی انتظامیہ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کے شرکاءکو ریڈ زون، شاہراہ دستور پر داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سفارتخانوں اور سفارت کاروں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی۔ سفارت کاروں نے وزارت داخلہ کو تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے جس پر وزارت داخلہ نے یقین دہانی کرائی ہے سفارتخانوں کو سکیورٹی دیں گے۔ لانگ مارچ کے دوران رینجرز، ایف سی کی خدمات لی جائیں گی۔ وقائع نگار کے مطابق اہم شاہراہوں پرکنٹینرز اور بلاک لگا کر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں جبکہ رابطہ سڑکوں پر پولیس کی اضافی نفری کی تعیناتی شروع کر دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کی زیر صدارت اعلی سطح اجلاس ہوا جس میں طاہر القادری کے لانگ مارچ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رحمان ملک نے کہا ہے کہ مارچ کے منتظمین کو اخراجات کی تفصیلات دینا ہوں گی۔ مارچ میں شرکت کرنے والے شناختی کارڈ ساتھ لائیں۔ کسی بس میں ہلاکت ہوئی تو مالک معاوضہ دیگا اور کسی بس میں دھماکے کی صورت میں ڈرائیور اور کنڈکٹر ذمہ دار ہو گا۔ ڈرائیور، کنڈکٹرز بس میں دہشتگرد کی عدم موجودگی کا بیان حلفی دیں گے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مارچ میں خودکش حملہ آوروں اور مسلح افراد کی شرکت کی اطلاعات ہیں۔ رحمن ملک نے کہا سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کا ازخود نوٹس لیا، مداخلت نہیں کرنا چاہتا، تحقیقات کر رہا ہوں ملزم کیسے ملک سے فرار ہوا، طاہر القادری، نواز شریف کے زیادہ قریب ہیں۔ طاہر القادری بہت ایمان دار ہیں جب قوم حساب مانگے گی وہ دیں گے۔ آئی این پی کے مطابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے صدر زرداری اور وزیراعظم پرویز اشرف کو طاہر القادری کو لانگ مارچ سے باز رکھنے سے متعلق اپنے مشن کی رپورٹ دیدی۔ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ نے صدر اور وزیراعظم کو ٹیلی فون پر رپورٹ دیتے ہوئے بتایا انہوں نے طاہر القادری کو تحریک طالبان پاکستان کی انہیں جان سے مارنے کی مبینہ دھمکی، لانگ مارچ سے امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر منفی اثرات سے تفصیل سے آگاہ کیا تاہم وہ طاہر القادری کو اپنی لانگ مارچ کی کال واپس لینے پر آمادہ نہیں کر سکے۔ این این آئی کے مطابق قبل ازیں کراچی ائر پورٹ پر گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا حکومت لانگ مارچ کی حمایت نہیں کررہی۔ انہوں نے کہا بغیر شناختی کارڈ کسی کو بھی اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ آئین سے ہٹ کر بات کرتے ہیں اور نہ کرنے دیں گے، لانگ مارچ کرنا ان کا بنیادی حق ہے یہ تاثر غلط ہے حکومت لانگ مارچ کو درپردہ سپورٹ کررہی ہے۔ انکا کہنا تھا لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی خدشات موجود ہیں لانگ مارچ میں شامل بس مالکان اپنی بسوں کے کاغذات مکمل ہمراہ لائیں۔ ڈرائیورز اور کنڈکٹرز حضرات کے پاس بس میں سوار مسافروں کے مکمل کوائف ہونے چاہئیں۔ کسی بھی حادثے کی صورت میں بس کا مالک ذمہ دار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اپنے سکولوں اور کالج کے کارڈ اپنے ہمراہ لائیں۔ ان کا کہنا تھا موسم کی خرابی کے باعث لانگ مارچ کے شرکاءکو مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ طاہر القادری کو اس بات کا احساس ضرور ہونا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا لانگ مارچ کی سکیورٹی کیلئے حکومت کو 25 کروڑ روپے درکار ہونگے۔ عوام جاننا چاہتی ہے لانگ مارچ کے اخراجات کون برداشت کریگا۔وزیر داخلہ رحمن ملک کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہا گیا کچھ عناصر کی جانب سے ریلی میں خودکش حملہ آور بھیجنے کی اطلاعات ہیں لہٰذا تمام شرکا کی جانچ پڑتال ضروری ہے۔ علاوہ ازیں رحمن ملک نے گورنر سندھ سے بھی ملاقات کی۔