سپریم کورٹ نے ڈی جی آئی بی کا جواب غیر نسلی بخش قرار دیدیا‘ دوبارہ جمع کرانے کا حکم

سپریم کورٹ نے ڈی جی آئی بی کا جواب غیر نسلی بخش قرار دیدیا‘ دوبارہ جمع کرانے کا حکم

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت ) سپریم کورٹ نے آئی بی کے خفیہ فنڈزکے استعمال سے متعلق ڈی جی آئی بی کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوبارہ جواب داخل کروانے کی ہدایت کردی۔ آئی بی کے خفیہ فنڈز کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سر براہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ سابق ڈی جی آئی بی مسعود شریف خٹک عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عدالت کا نوٹس 28 نومبر 2012 ءکو موصول ہوا تھا تاہم اس وقت وہ بیرون ملک تھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی بی فنڈز 90-1989ءمیں پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کیلئے استعمال ہوئے۔ اس وقت آپ آئی بی کے سربراہ تھے جس پر مسعود شریف کا کہنا تھا کہ اس دوران وہ آئی بی کے سربراہ نہیں جوائنٹ ڈائریکٹر انٹرنل تھے۔ موجودہ ڈی جی آئی بی اختر گورچانی کا جواب سن کر لفافے میں عدالت کو پیش کیا گیا۔ عدالت نے اسے غیر تسلی بخش اور نا مکمل قرار دیتے ہوئے انہیں دوبارہ جواب داخل کروانے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری فنانس کی جانب سے بھی عدالت میں سربمہر جواب داخل کروایا گیا۔ عدالتی نوٹس کے باوجود سابق ڈی جی آئی بی طارق لودھی عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا طارق لودھی کہاں ہیں اور کیوں نہیں آئے؟ لاءافسر آئی بی نے جوابدیا ہم نے نوٹس بھجوا دیا تھا، وہ آج کل برطانیہ میں جنرل منیجر نادرا ہیں۔ سپریم کورٹ نے سابق ڈی جی آئی بی ونگ کمانڈر ریٹائرڈ طارق لودھی کو دوبارہ نوٹس جاری کردیا۔ نوٹس کی تعمیل کیلئے چیئرمین نادرا اور سیکرٹری وزارت خارجہ کو بھی ہدایت کردی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ طارق لودھی وضاحت کریں انہوں نے خفیہ فنڈ سے 40 کروڑ کیوں نکلوائے؟ سابق ڈی جی آئی بی مسعود شریف خٹک نے جواب دیا ریکارڈ دیکھے بغیر کچھ کہنا مشکل ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپکو اپنی یادداشت کے مطابق جواب دینا ہوگا۔ آپکو 2 اخباری تراشے بھی دیئے گئے ہیں تاکہ وضاحت کرسکیں۔ آئی بی فنڈز کیس کی مزید سماعت 23 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔