سارک ممالک کو باہمی تنازعات کے حل کیلئے یورپی یونین کو ماڈل بنانا ہوگا : شہبازشریف

سارک ممالک کو باہمی تنازعات کے حل کیلئے یورپی یونین کو ماڈل بنانا ہوگا : شہبازشریف

لاہور (خصوصی رپورٹر) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ سارک ممالک کو اپنے مسائل اور تنازعات کے حل کیلئے یورپی یونین کا ماڈل اپنا کر آگے بڑھنا ہو گا کیونکہ بدقسمتی سے ماضی میں سارک ممالک کا خطہ زیادہ پرامن نہیں رہا اور خطے کے ممالک کی تاریخ آپس کے تنازعات، جنگوں، لڑائیوں اور مسائل سے عبارت ہے لیکن جنگوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا بلکہ اس سے تباہی، بربادی، غربت اور بیروزگاری کے ساتھ عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوا۔ اگر سارک ممالک یورپی ممالک کی طرح اپنے اختلافات اور تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کر کے وسائل عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کریں تو یہ خطہ دنیا کا ترقی یافتہ ترین علاقہ بن سکتا ہے۔ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کو یکساں اجتماعی سوچ اپنا کر ختم کیا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں تنازعات کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی گئیں۔ اب ہمیں ماضی کی سوچ کو بھول کر آگے بڑھنا ہو گا اور اپنے عمل اور سوچ میں یکسانیت لا کر خطے کے عوام کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ نے ان خیالات کا اظہار ساﺅتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ناروے کے سفیر، سینیٹر پرویز رشید، معاونین خصوصی خواجہ سلمان رفیق، زعیم حسین قادری، ارکان اسمبلی اور سیفما کے دیگر ارکان نے تقریب میں شرکت کی۔ شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت خطے کے دو اہم اور بڑے ملک ہیں، دونوں ملک آپس میں تین جنگیں لڑ چکے ہیں لیکن ان جنگوں کے باوجود تنازعات حل نہیں ہوئے بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کی تکالیف، مشکلات اور مصائب میں اضافہ ہوا۔ کشمیر سمیت تمام تنازعات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی ملک ہیں۔ اگر خدانخواستہ جنگ ہو تو مشکل سے ہی کوئی زندہ بچے گا۔ تاریخ نے دونوں ملکوں کے حکمرانوں اور عوام کو سبق دیا ہے کہ ہم نے پرامن طور پر اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا ہے۔ دونوں ملکوں کو آپس کے تنازعات مل بیٹھ کر بامقصد بات چیت کے ذریعے حل کرنے ہیں کیونکہ امن ہی ہمارا راستہ اور منزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارک ممالک کی تنظیم کو یورپی یونین کی طرح خطے کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے یورپ کے ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک صدیوں آپس میں دست و گریبان رہے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ، روس، اٹلی نے دو عالمی جنگیں لڑیں جن میں لاکھوں افراد مارے گئے لیکن انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھا اور تنازعات مل بیٹھ کر حل کئے اور آج یورپی ممالک یورپی یونین بنا کر ایک ہو چکے ہیں۔ آج یورپی یونین بہت بڑی قوت بن چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سارک ممالک کی تنظیم کو یورپی یونین کا ماڈل سامنے رکھتے ہوئے اس کی پیروی کرنی چاہئے اور تنازعات و مسائل پر کھل کر بامقصد مذاکرات کرتے ہوئے قابل عمل حل ڈھونڈنا چاہئے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیفما کے ارکان خطے میں امن کے فروغ کیلئے بہت اچھا کردار ادا کر رہے ہیں تاہم سارک ممالک کے درمیان تنازعات کے حل، تعلقات کو بہتر بنانے اور روابط بڑھانے کے لئے انہیں اپنا کردار مزید م¶ثر انداز میں ادا کرنا چاہئے۔ میڈیا کی قربانیوں، عزم اور جذبے سے 2008ءمےں پاکستان میں جمہوریت بحال ہوئی۔ اسی طرح آزاد عدلیہ کی بحالی میں بھی میڈیا نے انتہائی متحرک کردار ادا کیا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ الیکٹرانک میڈیا پاکستان میں ارتقائی مرحلے سے گزر رہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا مزید بہتر انداز میں کام کرے گا۔ پاکستان کا سیاسی نظام کرپٹ ہے اور کرپشن کے میگا سکینڈل موجودہ دور میں سامنے آئے ہیں جبکہ بھارت جہاں جمہوریت مضبوط ہے وہاں پر بھی کرپشن کے سکینڈلز سامنے آئے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بھارت کے ادارے پاکستان کے مقابلے میں بہت مضبوط ہیں اور احتساب کا نظام بہترین طریقے سے کام کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ کرپشن کرنے والے بڑے بڑے رہنماﺅں کو جیل بھی جانا پڑا جبکہ پاکستان میں کمزور اداروں کے باعث لٹیرے اور چور آزاد پھر رہے ہیں اور مزید لوٹ مار کر رہے ہیں جس کا آزاد عدلیہ نے بھی نوٹس لیا لیکن اس کے باوجود ابھی ہمیں بہت لمبا سفر طے کرنا ہے۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسے عظیم رہنما سے جلد محروم ہو گیا۔ قائداعظمؒ کی زندگی وفا کرتی اور انہیں کچھ دیر پاکستان کی خدمت کا موقع ملتا تو یہاں بھی ادارے مضبوط ہوتے جبکہ بھارت کو جواہر لال نہرو جیسا لیڈر ملا جس نے اداروں کو مضبوط کیا۔ مجھے یقین ہے بہت جلد ہمیں قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسا وژن رکھنے والا دیانتدار لیڈر ملے گا جو ملک کو بحرانوں سے نکال کر آگے لے کر جائے گا اور قومی اداروں کو مضبوط بنائے گا۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ لاہور میں سالڈویسٹ مینجمنٹ کے جدید نظام سے شہر میں صفائی کے انتظامات بہت بہتر ہوئے ہیں اور شہر کا رنگ و روپ بدل گیا ہے۔ لاہور کی 101 یونین کونسلز میں صفائی کا جدید نظام کامیابی سے جاری ہے جبکہ دیگر یونین کونسلز میں صفائی کے جدید نظام کو جلد متعارف کرایا جا رہا ہے۔ لاہور میں صفائی کے جدید نظام کی کامیابی کے بعد اس کا دائرہ کار پہلے مرحلے میں صوبے کے 5 بڑے اضلاع گوجرانوالہ، راولپنڈی، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد تک پھیلایا جا رہا ہے۔ شہر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے بھرپور مہم چلائی جائے گی۔ وہ گذشتہ روز ماڈل ٹاﺅن میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تمام سڑکوں پر صفائی کے انتظامات معیاری اور یکساں ہونے چاہئیں۔ صفائی کے جدید نظام سے عوام کو آگاہ کرنے کیلئے مہم کے دوران تعلیمی اداروں میں آگاہی سیمینارز منعقد کرائے جائیں اور خصوصی لیکچرز کا اہتمام کیا جائے کیونکہ سکولوں اور کالجوں کے طلبا و طالبات صفائی کے حوالے سے سفیر انقلاب کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ترک کمپنیوں نے صوبے میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ترک کمپنیوں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ کوڑا کرکٹ کیلئے گھر گھر بیگز کی تقسیم کا عمل شروع ہو چکا ہے تاہم کوڑا کرکٹ کیلئے شہریوں کو ان کے گھروں میں بیگز کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔ کوڑا کرکٹ کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کیلئے لینڈ فل سائٹ کا انجینئرنگ ڈیزائن مکمل کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کرپشن میں ملوث ملازمین کیلئے کسی بھی محکمے میں کوئی جگہ نہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں تیز رفتاری سے عملدرآمد ہونا چاہئے۔ کمپنیوں کے نمائندوں نے پنجاب حکومت کی طرف سے بھرپور تعاون کی فراہمی پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیں وزیر اعلیٰ سے گذشتہ روز ماڈل ٹاﺅن میں سوزوکی کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر ہیرو فومی ناگاﺅ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ پنجاب حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات اور مراعات فراہم کر رہی ہے۔ آٹو موبائل انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پنجاب غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش صوبہ بن چکا ہے۔ کئی غیر ملکی کمپنیاں پنجاب میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے کر بیروزگاری اور غربت کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو بس پراجیکٹ رواں ماہ کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے سوزوکی کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر اور ان کے وفد کو میٹرو بس میں سفر کرنے کی دعوت بھی دی۔