خفیہ اور ظاہری خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں : آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی

خفیہ اور ظاہری خطرات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں : آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی

سیالکوٹ (نامہ نگار + اے پی اے + این این آئی) چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گذشتہ روز سیالکوٹ گیریژن کا دورہ کیا اور پاک آرمی کی جاری تربیتی مشقوں ”عزم نو“ کا جائزہ لیا۔ کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا کہنا تھا کہ تربیتی مشقوں کی وجہ سے جوانوں کی صلاحےت میں اضافہ ہوا ہے اور پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کی پوری صلاحےت رکھتی ہے۔ انہوں نے تمام رینکس کے بلند حوصلے اور تربیت کے اعلیٰ معیار کو سراہا اور انہوں نے جوانوں اور افسروں کو اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حصول پر زور دیا۔ واضح رہے کہ عزم نو کے تحت تربیتی مشقیں چار سال سے جاری ہیں اور ان مشقوں میں جوانوں کو جنگی حالات میں بہترین حکمت عملی سے دشمن کا مقابلہ کرنے، جدید دور کے مطابق جوانوں کی حوصلہ افزائی اور دیگر امور سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دورہ کے موقع پر سیالکوٹ میں سکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مزید کہا کہ پاک فوج خطرات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے، فوج براہ راست، بالواسطہ، ظاہری اور خفیہ خطرات سے نمٹنے کے لئے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ فوج بالواسطہ یا بلاواسطہ چیلنج کا جواب دینے کے لئے چوکس ہے جبکہ پاک فوج ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے اور اسے ہر قسم کے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ آرمی چیف کا استقبال کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل مزل حسین نے کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ چار سال سے جاری عزم مشقوں کا مقصد نئے چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے۔ دریں اثناءامریکی سینٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے وفد نے جنرل اشفاق پرویز کیا نی ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات بالخصوص پاکستان اور بھارت کیخلاف حالیہ فائرنگ واقعہ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاک افغان بارڈر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وفد نے سینیٹر کارل لیون کی سربراہی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملاقات میں سرحد پار دراندازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اس موقع پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں تعینات ایساف فورسز اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کریں۔ ملاقات میں امریکی آرمڈ فورسز کمیٹی کے رکن سینیٹر جیک ریڈ بھی شامل تھے۔ جنرل کیانی نے کہا کہ پاک فوج نے مشرقی اور مغربی سرحد پر نئی حکمت عملی بنا لی ہے، نئی جنگی حکمت عملی سرحدوں کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے، نئی حکمت عملی میں بھارت کی کولڈ وار سٹرٹیجی کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملاقات میں سرحد پار دراندازی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ اس موقع پر زور دیا گیا کہ افغانستان میں تعینات ایساف فورسز اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کریں۔