تحفظات دور کئے بغیر بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار نہ دیا جائے : کشمیر کمیٹی

اسلام آباد (ثناءنیوز + اے پی اے) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امورکشمیر نے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔ کمیٹی نے حکومت کو متعلقہ اداروں سے مشاورت تک بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کی سفارش کردی۔کشمیر سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاو¿س میں ہوا۔ اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے پر تحفظات کا اظہارکیا ہے۔ پارلیمنٹ کی خصوصی کشمیر کمیٹی نے 5 فروری کو ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر سرکاری سطح پر منانے کا فیصلہ کر لیا ،فروری میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کشمیر پالیسی تشکیل دی جائے گی۔ آئندہ اجلاس میں وزارت دفاع، خارجہ، داخلہ، تجارت، پانی وبجلی اور دیگرمتعلقہ اداروں کوطلب کرلیا گیا ہے۔ ابھی تک اس کی تاریخ کا تعین نہیں کیاگیا لیکن کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر اور پاکستان، بھارت تجارت کے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لینے سے قبل بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ نہ دیاجائے بلکہ اس حوالے سے پارلیمنٹ کے تحفظات دور کیے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں لائن آف کنٹرول پر پاکستانی چیک پوسٹ پر حالیہ بھارتی حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی اور شہید ہونے والے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ میں بھارتی کرفیو اور کریک ڈاﺅن کی مذمت اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدترین مظالم کی مذمت بھی کی گئی ۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے مشاورت تک بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا نوٹس جاری نہ کرنے کی سفارش بھی پیش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر بحث کےلیے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے، کشمیرکمیٹی نے پلوامہ اورلائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کے خلاف مذمتی قرارداد منظورکی اور حکومت پاکستان کو 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیرکے دن ملک بھرمیں عام تعطیل کا اعلان کرنے کی سفارش پیش کی ہے۔ کشمیر کمیٹی نے مشاہد حسین سید کی زیرصدارت ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو یوم یکجہتی کشمیرکے حوالے سے پورا ہفتہ تقریبات منعقد کرے گی۔ کمیٹی نے 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر ملک کے چاروں صوبوں آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور قبائلی علاقوں میں عام تعطیل کرنے کی بھی سفارش کی ہے ، اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے صحافیوں کو فیصلوں سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان مشاہد حسین سید ، بیگم عطیہ عنایت اللہ ، سید ظفر علی شاہ ، عامر مگسی ، خرم دستگیر و دیگر سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اہم فیصلے کئے ، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ حکومتی اور سرکاری سطح پر 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی تقریبات منعقد کی جائیں گی جبکہ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی بھارتی سامراج کی غلامی سے آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والے کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لئے ہفتہ یکجہتی کشمیر منائے گی اور اس حوالے سے آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں میں تقریبات ، سیمینارز اور خصوصی پروگرام منعقد کئے جائیں گے ، اس حوالے سے لائحہ عمل کی تیاری اور پروگرامات کے انتظامات کے لئے سینیٹر مشاہد حسین سید کی سربراہی میں ایک 3رکنی ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جس میں خرم دستگیر، عامر مگسی اور سید ظفر علی شاہ ممبر ہوں گے ۔مزید برآںپشاور میں میڈیا سے بات چیت کے دوران فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خون خرابے کے باوجود طالبان کی مذاکرات کی پیشکش کا فائدہ اٹھانا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت براہ راست بات نہیں کر سکتی تو قبائل عمائدین کا پلیٹ فارم موثر ہو سکتا ہے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کو ایم ایم اے میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، ایم ایم اے جلد بحال ہوگی۔ طاہر القادری کے لانگ مارچ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے، تاہم اگر کسی شخص نے آئین سے ماورا اقدام کیا تو تمام جماعتیں مل کر نظام کا دفاع کریں گی۔اسلام آباد آن لائن کے مطابق کشمیر پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی نے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر کو نہ ڈالے جانے پر وزارت خارجہ سے وضاحت طلب کرلی‘ فضل الرحمن نے بتایا کہ پاکستان نے ایک مہینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی ہے لیکن اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر مسئلہ کشمیر موجود نہیں ہے جس پر کمیٹی نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیر خارجہ کو خط لکھا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر شامل نہ کرنے پر وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ خط وزیر خارجہ کو امریکہ فیکس کردیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ کمیٹی نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کیلئے حکومت کو درخواست دی ہے اور کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان صرف اور صرف مسئلہ کشمیر پر غور و خوض کیلئے اجلاس کریں تاکہ بھارت سمیت دنیا بھر کو پاکستان کیلئے مسئلہ کشمیر کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے اور کشمیریوں کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ پاکستان ان کو کسی صورت بھی تنہاءنہیں چھوڑے گا۔