ایم ایس پر تشدد کرنے والے 8 ڈاکٹر برطرف‘ 6 معطل‘ 3 کا تبادلہ‘ ہڑتال کے اعلان کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست

ایم ایس پر تشدد کرنے والے 8 ڈاکٹر برطرف‘ 6 معطل‘ 3 کا تبادلہ‘ ہڑتال کے اعلان کیخلاف ہائیکورٹ میں درخواست

گوجرانوالہ / لاہور ( آئی این پی + وقائع نگار خصوصی) پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ میں ایم ایس پر تشدد کرنے والے17 ینگ ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 8ینگ ڈاکٹرز کی ملازمت سے برطرفی ، 6 کی معطلی اور 3 کے تبادلے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے گوجرانوالہ میں ڈسٹرکٹ ہسپتال میں ایم ایس پر تشدد کرنے والے17ینگ ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ جس کے مطابق ڈاکٹر عبداللہ ضیائ، ڈاکٹر فریحہ باجوہ، ڈاکٹر زوہیب ، ڈاکٹر وقاص، ڈاکٹر حسین، ڈاکٹر تجمل بٹ ، ڈاکٹر جاوید اور ڈاکٹر مزمل رﺅف کو ملازمت سے برطرف کیاگیا ہے جبکہ ڈاکٹر کاشف بلال ، ڈاکٹر کاشف بشیر ، ڈاکٹر وقار عظیم، ڈاکٹر یحیٰی ضیاء، ڈاکٹر فراست علی اور ڈاکٹر طاہر کو معطل کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر فریحہ کاشف، ڈاکٹر جاوید اور عمر راٹھور کا تبادلہ کردیاگیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے روبرو ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے 10 جنوری کو ہڑتال کی کال دینے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز کے لائسنس منسوخ کرنے کیلئے دوبارہ درخواست دائر کر دی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ینگ ڈاکٹروں نے ہڑتال کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال عدالتی احکامات اور ان کے اپنے حلف کی بھی واضح خلاف ورزی ہے۔ لازمی سروس ایکٹ کے تحت ڈاکٹر کسی صورت ہڑتال نہیں کر سکتے۔