ایجنسیوں کو انسانی حقوق کی تربیت دی جائے‘ پارلیمانی نگرانی یقینی بنائی جائے : سلامتی کمیٹی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + نوائے وقت رپورٹ) قومی سلامتی کمیٹی نے لاپتہ افراد کے حوالے سے سفارشات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کسی بھی شخص کی حراست آئین کے آرٹیکل دس کے تحت ہونی چاہیے انٹیلی جنس اداروں کی کارروائی کو ریگولیٹ کیا جائے حکومت کو 24 گھنٹے کے اندر کمپیوٹرائزڈ رجسٹر میں حراست میں لئے گئے شخص کا نام درج کرنا چاہیے ¾ لاپتہ شخص کو مقررہ مدت میں عدالت میں پیش کرنے والے اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹسز لاپتہ افراد کے مقدمات کی سماعت کیلئے خصوصی بنچز تشکیل دیں جبکہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے لاپتہ افراد کی سفارشات کو سینٹ، قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سینیٹر رضا ربانی کی زیر صدارت قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کی سفارشات میں کہا گیا غیر قانونی حراست پر متعلقہ شخص کے خلاف آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے، حراست میں لیے گئے شخص کو 24 گھنٹے کے اندر ان پر لگائے دفعات سے باخبر کرنا چاہئے۔ کمیٹی کی سفارشات کے مطابق، فوج، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس کے تمام تربیتی ادارے قانون کے مطابق ہونے چاہئیں۔ حکومت جیل اصلاحات کا فوری طور پر اعلان کرے، حکومت پولیس کو انسانی حقوق کے دائرے میں تربیت دینے کے لئے اقدامات کرے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے حکومت سفارشات پر عملدرآمد کرائے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے لاپتہ افراد سے متعلق 15 سفارشات کی منظوری دے دی۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر رضا ربانی کا کہنا ہے انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار قانون کے مطابق اور پارلیمنٹ کی نگرانی میں ہو گا۔ پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی جانب سے رہا طالبان کی تفصیلات سے آگاہی کے لئے سیکرٹری دفاع، سیکرٹری خارجہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کو خطوط بھجوا دئیے۔ اعلیٰ حکام سے کہا گیا ہے کہ کمیٹی کو اس بارے میں بریفنگ بھی دی جائے کہ کن کی ضمانت پر اور کن شرائط پر رہائی عمل میں آئی ہیں۔ رضا ربانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کمیٹی نے لائن آف کنٹرول پر پاکستانی چوکی پر بھارتی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہید فوجی جوان کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ بھارت کو اس نوعیت کے واقعات سے اجتناب کرنا چاہئے تاکہ سازگار فضا کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔ بی بی سی کے مطابق کمیٹی نے متفقہ طور پر تیار کردہ سفارشات میں کہا ہے کہ انٹیلی جنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو انسانی حقوق کی تربیت دی جائے اور ان کے تربیتی نصاب میں انسانی حقوق کو شامل کیا جائے۔