پی کے 95 : ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی کا امیدوار کامیاب‘ خواتین ووٹ نہ ڈال سکیں

پی کے 95 : ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی کا امیدوار کامیاب‘ خواتین ووٹ نہ ڈال سکیں

لوئر دیر + پشاور + اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ وقت نیوز + نیوز ایجنسیاں) لوئر دیر کے حلقہ پی کے 95 فیدول کے ضمنی الیکشن میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار جیت گئے، 87 پولنگ سٹیشنز کے نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے اعزاز الملک 18798 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ اے این پی کے بہادر خان 16822 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے جبکہ خواتین ووٹ نہ ڈال سکیں۔ علاوہ ازیں ضمنی انتخابات کے موقع پر طور کلاہ پولنگ سٹیشن میں اے این پی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں میں جھگڑا ہو گیا، اور تصادم کے نتیجے میں 5افراد زخمی ہوگئے‘ پولنگ کا عمل روک کر فوج طلب کرلی گئی۔ جمعرات کو لوئر دیر میں ضمنی انتخابات کے موقع پر طور کلاہ پولنگ سٹیشن میں اے این پی اور جماعت اسلامی کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور جعلی ووٹ ڈالنے کے الزام میں ایک دوسرے پر پل پڑے جس کے دوران 5افراد زخمی ہو گئے۔ قبل ازیں پی کے 95 لوئردیر کے ضمنی الیکشن میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی رہی، پابندی امیدواروں اور قائدین علاقہ کی باہمی مشاورت سے لگائی گئی۔ علاوہ ازیں ذرائع الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ لوئر دیر پی کے 95کا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پولنگ سے قبل مساجد سے خواتین کو ووٹ ڈالنے کیلئے اعلان کئے گئے، ٹھوس ثبوت کے ساتھ شکایت ملی تو الیکشن کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں خیبر پی کے میں قبائلی روایات کے آگے نیا پاکستان ہار گیا، لوئر دیر کے حلقہ پی کے 95 کے ضمنی انتخاب میںکسی خاتون نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ وقت نیوز کے مطابق امیدواروں نے خواتین کو ووٹنگ کے عمل سے باہر رکھنے پر اتفاق کیا تھا جس کی وجہ سے 53 ہزار 817 خواتین میں سے کسی نے ووٹ نہیں ڈالا، عملہ انتظار کرتا رہا، ووٹ ڈالنے کا ٹرن آﺅٹ 40 فیصد رہا۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ لوئر دیر کے ضمنی الیکشن میں کسی خاتون کے ووٹ ڈالنے پر پابندی نہیں تھی، خواتین نے قبائلی روایات کے مطابق ووٹ نہیں ڈالا۔ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع نہیں کیا گیا۔ مزید براں ریحام خان نے کہا ہے کہ لوئر دیر کے ضمنی انتخاب میں خواتین ووٹرز کو روکنا ناقابل برداشت ہے۔ خواتین کو ہر صورت ووٹ ڈالنے کا حق ہونا چاہئے۔ پاکستان کا آئین سب کو ووٹ ڈالنے کا حق دیتا ہے۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حلقہ لوئر دیر میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا گیا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کو بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے کسی نے نہیں روکا۔ ووٹ ڈالنا ان کا آئینی حق ہے نہ ہی خواتین کے ووٹ پر کوئی مظاہرہ ہوا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کیلئے جرگہ ہوا۔ حلقے میں خواتین کے ووٹ کیلئے مکمل انتظامات کئے گئے تھے۔ خواتین کی اور بھی بہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے، گھرداری چلانا ہوتی ہے۔ میرا سوال ہے کہ ووٹ ڈالنا پہلی ترجیح ہے یا خواتین کے مسائل حل کرنا۔ جماعت اسلامی نے خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے اس علاقے میں بہت کام کیا ہے۔ میں خود خواتین کے ووٹ ڈالنے کا بہت بڑا حامی ہوں۔ لیکن اگر وہ خود ووٹ نہ دینا چاہیں تو ان کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کرسکتا۔ اے این پی کے زاہد خان نے کہا کہ اگر وہاں کوئی جرگہ ہوا ہے تو ہمارا کوئی نمائندہ اس میں شریک نہیں ہوا۔ ہم اس معاملے پر الیکشن کمشن جارہے ہیں اگر پی ٹی آئی بھی کہتی ہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنا چاہئے تھے تو اسے بھی الیکشن کمشن جانا چاہئے۔ ہماری خواتین خوف کے مارے نہیں گئیں اگر جاتیں تو شام کو ہم ان کے جنازے اٹھا رہے ہوتے۔ صوبائی وزیر اطلاعات خیبر پی کے مشتاق غنی نے کہاکہ صوبائی حکومت کی طرف سے مرد و خواتین کے ووٹ کیلئے مکمل انتظامات کئے گئے۔ مجھے لگتا ہے کہ حلقے کے امیدواروں میں پس پردہ کوئی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت خواتین ووٹ ڈالنے نہیں آئیں۔ مزید براں وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو ٹیلی فون کرکے اعزاز الملک کی کامیابی پر مبارکباد دی۔ علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف نے لوئر دیر میں خواتین ووٹرز کے حق رائے دہی استعمال کرنے کی راہ میں رکاوٹوں کی شدید مذمت کی ہے۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے جیسے اقدامات کی بالکل حمایت نہیں کرتی۔ علاوہ ازیں پیپلز پارٹی نے پی کے 95 میں خواتین کے ووٹ نہ ڈالنے پر تحریک التوا لانے کا فیصلہ کرلیا۔ تحریک التوا خیبر پی کے اسمبلی میں لائی جائے گی۔ پی پی رہنما نگہت اورکزئی نے کہا کہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف خواتین کے حقوق کی کیسی علمبردار ہیں، اسمبلی سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔
پی کے 95