سعد رفیق نے ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا‘ اسمبلی رکنیت اور وزارت ختم

سعد رفیق نے ٹربیونل کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا‘ اسمبلی رکنیت اور وزارت ختم

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی + ایجنسیاں) مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے این اے 125 سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے ٹربیونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ این اے 125 میں انتخابی بے ضابطگیوں کے باعث الیکشن ٹربیونل نے انتخاب دوبارہ کرانے کا فیصلہ دیا تھا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے این اے 125 میں دھاندلی کے جو الزامات لگائے وہ ثابت نہیں ہوئے، کسی طرح سے انتخابی عمل پر اثرانداز نہیں ہوا۔ انتخابی عمل میں میری بدنیتی شامل نہیں تھی، ٹربیونل نے بھی اس بات کو تسلیم کیا۔ این اے 125 میں انتخابی بے ضابطگیاں ہوئیں تو اس سے نتائج پر اثر نہیں پڑتا۔ ٹربیونل نے انتخابی عمل میں بے ضابطگیوں کی بنیاد پر الیکشن کالعدم قرار دیا۔ ٹربیونل نے یہ نہیں بتایا کہ انتخابی عمل میں کتنی بے ضابطگیاں ہوئیں اور ان کا نتائج پر کیا اثر ہوا۔ تحریک انصاف ٹربیونل کے روبرو دھاندلی کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام ہوئی۔ ٹربیونل نے انتخابی بے ضابطگیوں پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ خواجہ سعد رفیق وزیر ریلوے کے عہدے سے بھی فارغ ہو گئے ہیں، جمعرات کو الیکشن کمشن نے نوٹیفکیشن کے ذریعے خواجہ سعد رفیق کی قومی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کردی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ این اے 125 کے حوالے سے الیکشن ٹربےونل کے فیصلے کے بعد خواجہ سعد رفیق کی اسمبلی رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سعد رفیق کو مشیر ریلوے بنائے جانے کا امکان ہے۔ خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی کی رکنیت ختم ہونے کے باوجود وفاقی وزیر کے عہدے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور ریلوے کے تمام تر اختیارات استعمال کررہے ہیں۔