دیامر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی ختم کر دی گئی

دیامر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی ختم کر دی گئی

سوات (بی بی سی اردو) پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر عائد پابندی ختم کردی گئی ہے۔ داریل کے ریٹرننگ افسر سمیع اللہ فاروق نے اس حوالے سے بی بی سی کو بتایا کہ داریل میں مقامی جرگے کی طرف سے اس فیصلے کے آنے کے بعد نامزد امیدواروں کو شوکاز نوٹس جاری کئے گئے تھے جس میں انھیں کہا گیا کہ اگر کوئی امیدوار اس فیصلے میں ملوث پایا گیا تو ان کے کاغذات مسترد ہوسکتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے خلاف انکوائری بھی جاری ہے۔ ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ امیدواروں کے ملوث ہونے کی صورت میں ان کے کاغذات مسترد کئے جائیں گے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جائےگی۔ ریٹرننگ افسر کے مطابق جرگے میں شریک علما اور عمائدین کو بھی نوٹس جاری کیے گئے جس میں ان سے اس سلسلے میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا کہا گیا تھا۔ ان کے مطابق علما اور عمائدین کو مرد اور خواتین کے مشترکہ پولنگ سٹیشنوں پر اعتراض تھا اور ان کا موقف تھا کہ اس سے بے پردگی پھیلے گی۔ ریٹرننگ افسر نے بتایا کہ اس سلسلے میں جرگے کے تحفظات کو دور کردیاگیا ہے اور اب خواتین اور مردوں کے الگ الگ پولنگ سٹیشن قائم کئے جائیں گے۔
ووٹ پابندی / ختم