تھیلیسیمیا کی بیماری ایک ایسے کنوئیں کا نام ہے جسے سارے جہاں کا خون بھی نہیں بھر سکتا

تھیلیسیمیا کی بیماری ایک ایسے کنوئیں کا نام ہے جسے سارے جہاں کا خون بھی نہیں بھر سکتا

پاکستان میں تھیلی سیمیا کی سب سے بڑی وجہ اس مرض سے عدم توجہی، شعورکافقدان اورخاندان میں شادیوں کابرسوں پرانا رواج ہے ۔ تھیلی سیمیا ایک ایسی بیماری ہے جس میں مریض کوعمربھرمستقل انتقال خون کی اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ہمارے ملک میں خون کے عطیات دینے کارواج بہت کم ہے جس کی وجہ سے اکثرتھیلی سیمیاکے مریضوں کوخون کے عطیات کی کمی کاسامنارہتاہے۔ ایک سوپچیس بارخون کاعطیہ دینے والے مرتضٰی علی کاکہناہے کہ خون دینے سے صحت اچھی ہوتی ہےتھیلی سیمیا پر کام کرنے والی مقامی این جی او ٹیپ کی صدر عائشہ آصف کاکہناہے کہ تھیلی سیمیاجیسی بیماری کا علاج مشکل جب کہ احتیاط بہت آسان ہے۔پاکستان میں ہر سال چھ سے آٹھ ہزار بچے تھیلی سیمیا کی بیماری ساتھ لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ تھیلی سیمیاکی بیماری میں مبتلا بچے نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ خون کے عطیات دیں
والدین شادی سے پہلے  تھیلیسیمیا سکریننگ  ٹیسٹ ضرور کروائیں  تاکہ اور  بچے ہماری طرح اذیت ناک ذندگی نہ گزاریں
حسرت و یاس کی تصویر بنی اور اپنی عمر سے کہیں چھوٹی دکھائی دینے والی یہ لڑکی  بائیس سالہ فائزہ ہے   فائزہ  نے ابھی ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا جب اس میں تھیلیسیمیا کی تصدیق ہوئی ، تب سے اب تک  مہینے میں دو  مرتبہ اسے خوان لگوانا پڑتا ہے  فائزہ نے میٹرک کیا لیکن پھر پڑھائی چھوڑ دی ، نارمل ذندگی سے محروم  اس بچی کا کرب اس کے چہرے سےبھی ظاہر ہے اور اس کے الفاظ میں بھی اسی درد کا اظہار ہے اس کی روتی آنکھیں اور کانپتی آواز  سے اس ظالم مرض کی تکلیف کا انداذہ لگایا جاسکتا ہے