ترامیم کیس : کسی کے کہنے پر آئین سے کوئی چیز نکالی یا ڈالی نہیں جا سکتی : سپریم کورٹ

ترامیم کیس : کسی کے کہنے پر آئین سے کوئی چیز نکالی یا ڈالی نہیں جا سکتی : سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت نیوز) سپریم کورٹ میں 18 ویں، 21 ویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کے قیام کیخلاف کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ آئین سے کوئی چیز نکالی یا ڈالی نہیں جا سکتی، ججز تقرری کی پارلیمانی کمیٹی ختم کرنے سے نیا خلا پیدا ہو گا جسے یکدم پر کرنا مشکل ہو جائے گا، عدلیہ کیلئے آئین سے باہر جانا مشکل ہے، ترامیم کے حوالے سے یہ کہیں نہیں لکھا کہ پارلیمنٹ آئین کی کن شقوں میں ترمیم کر سکتی ہے اورکن میں نہیں، امریکہ میں تو آئین کے مطابق صدر کا بھی سخت احتساب ہوتا ہے۔ چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں 17 رکنی فل کورٹ نے کیس کی سماعت کی تو مختلف بار کونسلز کے وکیل حامد خان نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آئین کے دیباچے میں عدلیہ کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں کر سکتی جو آئین کے بنیادی ڈھانچے، انسانی حقوق سے متصادم ہو وہ ریاستی پالیسی کے خلاف قانون سازی نہیں کر سکتی، ہر ملک میں مضبوط جمہوریت کے قیام کے لئے جدوجہد اور ریفارمز کا مکمل تسلسل موجود ہے آئین میں طے کردہ اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ قانون کی عمل داری میں کوئی تفریق نہیں برتی جاتی، ججز تقرری کا معاملہ خالصتاً عدلیہ سے متعلق ہے اس پر بنائی گئی پارلیمانی کمیٹی آزاد عدلیہ اور پارلیمانی نظام کے اصولوں کے منافی ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ قرارداد مقاصد کے نکات آئین کے خدوخال بیان کرتے ہیں، ان پر آئینی ترمیم کیسے کالعدم کریں، نظرثانی کیلئے دوبارہ بھیجی دی جائے، جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدلیہ کیلئے آئین سے باہر جانا مشکل ہے۔ پارلیمانی کمیٹی ختم کرنے سے نیا خلا پیدا ہو گا، عدلیہ نے آئین کے اندر رہ کر معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے، کسی کے کہنے پر آئین سے کوئی چیز نکالی یا ڈالی نہیں جا سکتی، پارلیمنٹ آئین کے کن آرٹیکلز میں ترمیم کر سکتی ہے اور کن میں نہیں، اس کی تفریق کہیں نہیں۔ درخواست گزار حامد خان نے کہا کہ عدلیہ ریاست کا ستون ہے، ملکی نظام دو حصوں میں تقسیم ہے، ایک میں انتظامیہ اور مقننہ جبکہ دوسرے میں عدلیہ آتی ہے۔ آئین میں ریاست کا جو تصور ہے اس میں عدلیہ شامل نہیں، انہوں نے کہا کہ سیاستدان اتنے میچور نہیں کہ ججز تقرری کا معاملہ سمجھ سکیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ انتظامیہ ذمہ داری پوری نہ کرے تو عدلیہ آرٹیکل 184، تین کا استعمال کر سکتی ہے، حامد خان نے کہا کہ اس کے لئے چند مخصوص لوگوں کا نہیں بلکہ عوام کے کسی بنیادی حق کا متاثر ہونا ضروری ہے جس کی خلاف ورزی پر عدالت آرٹیکل 184 کا استعمال کر سکتی ہے، حامد خان کے دلائل جاری تھے کہ کیس کی سماعت کی مزید سماعت 12 مئی تک ملتوی کر دی گئی۔